چار سو سال پہلے خزانہ لے جانے والے جہاز کے ملبے سے دوبارہ خزانے کی تلاش

،تصویر کا ذریعہAllen Exploration
یہ چار جنوری 1656 کی تقریباً نصف شب تھی اور ہسپانوی بحری جہاز نوئیسترا سینیئورا ڈی لاس ماراویلاس پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اس بڑے سے بحری جہاز پر صرف سمندر کی لہروں کی اور بادبانوں سے ٹکراتی آوازیں سنی جا سکتی تھیں۔
یہ جہاز موجودہ ایکواڈور کے قریب ڈوبنے والے ایک اور بحری جہاز ہیزوں ماریا ڈی لا لیمپیا کونسیپسیؤن کے ملبے سے چاندی جمع کر کے واپس جا رہا تھا مگر چند ہی لمحوں میں سب کچھ بدل گیا۔
اسی بحری بیڑے میں موجود ایک اور بحری جہاز نے راہ کا حساب لگانے میں تھوڑی سی غلطی کی اور ماراویلاس سے جا ٹکرایا۔ تیس منٹوں سے بھی کم وقت میں یہ بحرِ اوقیانوس کی تہہ میں پڑا ہوا تھا۔ ساڑھے چھ سو لوگوں میں سے صرف 45 ہی زندہ بچ پائے۔

،تصویر کا ذریعہAllen Exploration
بہاماس کے ساحل سے 70 کلومیٹر دور ماراویلاس کی اس زیرِ آب قبر پر خزانے کی تلاش میں گذشتہ چار صدیوں سے کئی مرتبہ کوششیں کی جاتی رہی ہیں مگر گذشتہ دو برسوں میں اس کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی دو بین الاقوامی ٹیموں اور ماہرینِ زیرِ آب آثارِ قدیمہ نے پیچھے رہ جانے والے کچھ عجائبات کو یہاں سے نکال کر محفوظ کرنے پر کام کیا ہے۔
اب ان عجائبات کو پہلی مرتبہ نئے کھلنے والے بہاماس بحری عجائب گھر میں نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
اس کے تحفظ کے لیے سرگرم کمپنی ایلین ایکسپلوریشن کے بانی، کاروباری اور فلاحی شخصیت کارل ایلین نے کہا: ’ماراویلاس بہاماس کی بحری تاریخ کا ایک نمایاں حصہ ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’اس ملبے کی تاریخ کافی مشکل رہی ہے۔ اس کے کئی ٹکڑے ہسپانوی، انگریزی، فرانسیسی، ولندیزی، امریکی اور بہامائی مہم جوؤوں نے 17 ویں اور 18 ویں صدی میں برآمد کیے تھے۔‘
ماہرِ زیرِ آب آثارِ قدیمہ جیمز سِنکلیئر نے بھی اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ ممکنہ طور پر یہ جہاز ’ماضی کی لوٹ مار اور طوفانوں کے باعث برباد ہوا‘ ہو مگر ٹیم کو اعتماد ہے کہ ’اب بھی اس میں کئی کہانیاں موجود ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAllen exploration
میوزیم کے مطابق حالیہ مہم کے دوران برآمد کی گئی سب سے اہم اشیا میں ایک سونے کا پینڈینٹ ہے جس کے درمیان میں سینٹ جیمز کی صلیب بنی ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور نادر شے ایک بڑا سا بیضوی کولمبیائی زمرد ہے جس کے اوپر سینٹ جیمز کی صلیب ہے۔ یہ بیرونی فریم اصل میں 12 مزید زمردوں سے مزیّن تھا جو حضرت عیسیٰ کے 12 حواریوں کی علامت تھے۔
ان نوادرات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جہاز پر 12 ویں صدی عیسوی میں سپین اور پرتگال میں قائم ہونے والی ایک نامور مذہبی اور عسکری تنظیم آرڈر آف سینٹیاگو کے ارکان موجود تھے۔ اس تنظیم کے ارکان خاص طور پر بحری تجارت میں سرگرم رہتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAllen Exploration
جب پرتگیزی جہاز راں واسکو ڈے گاما انڈیا تک بحری راستے سے پہنچنے والے پہلے یورپی شخص بنے تو اُنھوں نے 1502 سے 1503 کے درمیان 21 بحری جہازوں کی کمان کی تھی جن پر اسی تنظیم کے آٹھ جنگجو بھی شامل تھے۔
یہاں سے ملنے والی دیگر اہم اشیا میں چاندی اور سونے کے سکے، زمرد، ایمے تھیسٹ، 1.8 میٹر طویل سونے کی زنجیر اور چاندی کی ایک 34 کلو وزنی اینٹ شامل ہیں۔
مگر ایلین اور ان کی ٹیم کو صرف خزانے ہی نہیں بلکہ ایسی کئی چیزیں ملیں جو اس جہاز کی آخری نشانی ہیں مثلاً توازن برقرار رکھنے کے لیے پتھر، تانبے کے ایک فلکیاتی آلے اصطرلاب کا ایک نٹ اور لوہے کی سلاخیں جس سے جہاز کو باندھا جاتا ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہAllen Exploration
اس کے علاوہ عملے کے زیرِ استعمال مرتبان، پلیٹیں اور شراب کی بوتلیں بھی دریافت ہوئی ہیں۔
ایلین ایکسپلوریشن کو امید ہے کہ یہ تمام اشیا بہاماس میں ہی رہیں گی۔ بہاماس میری ٹائم میوزیم کی بھی یہی خواہش ہے۔
میوزیم کے ڈائریکٹر مائیکل پیٹ مین کا کہنا ہے کہ ’یہ قوم سمندر پر قائم ہے مگر اس کے باوجود سمندر سے اس کے تعلق کو بہت کم ہی سمجھا گیا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ مقامی لوکایان افراد یہاں 1300 سال قبل آ بسے تھے۔ یا پھر یہاں کی پوری 50 ہزار کی آبادی کو ہسپانویوں نے یہاں سے نکالا اور وینیزویلا میں موتیوں کی تلاش پر لگا دیا جس سے یہ لوگ تین دہائیوں سے بھی کم میں ختم ہو گئے۔‘













