اینڈیورنس: ایک صدی قبل غرق ہونے والے بحری جہاز کی حیرت انگیز کھوج کی کہانی

سٹرن

،تصویر کا ذریعہFMHT/National Geographic

سائنسدانوں نے حادثوں کا شکار ہونے والے معروف بحری جہازوں میں سے ایک اینڈیورنس نامی بحری جہاز کو 107 برس بعد ڈھونڈ لیا ہے اور اس کے مناظر فلم بند بھی کر لیے ہیں۔

اینڈیورنس نامی یہ بحری جہاز انٹارکٹک ایکسپلورر ارنسٹ شیکلٹن کا تھا اور سنہ 1915 میں سمندری برف سے ٹکرانے کے بعد ویڈل سمندر میں حادثے کا شکار ہونے کے بعد کھو گیا تھا۔

اینڈیورنس کو ویڈل سمندر کی تہہ سے چند روز قبل ڈھونڈا گیا ہے اور اس حوالے سے جاری کی گئی ویڈیو میں اس کے باقیات کو بہترین حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اینڈیورنس 10 ماہ سے زیادہ عرصے تک سمندری برف میں پھنسا رہا تھا۔ اور اس کے عملے کا پیدل اور کشتیوں کے ذریعے جان بچا کر ڈرامائی انداز میں لوٹنا اب ایک لوک کہانی کے طور پر سنایا جاتا ہے۔

حالانکہ یہ سمندر میں تین کلومیٹر یعنی 10 ہزار فٹ کی گہرائی پر ایک صدی سے زیادہ عرصے سے موجود ہے، دیکھنے میں اس کی حالت اب بھی ویسی ہے جیسے 107 سال قبل تھی۔

اس کے تختے اب بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، حالانکہ اب ان کی حالت کچھ حد تک مخدوش ضرور ہوئی ہے لیکن حیران کن طور پر 'اینڈیورنس' نام اس پر اب بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔

بحری میٹرولوجسٹ مینسن باؤنڈ جو اس بحری جہاز کو ڈھونڈنے والی ٹیم کا حصہ ہیں کہتے ہیں کہ 'کسی بھی مبالغہ آرائی کے بغیر میرے نزدیک میں نے اس سے بہتر حالت میں کسی بھی حادثے کا شکار بحری جہاز کو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔' مینسن کا 50 سال سے زیادہ عرصے کا خواب اب پورا ہو چکا ہے۔

وھیل

،تصویر کا ذریعہFMHT/National Geographic

انھوں نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ سمندر کی تہہ میں بالکل سیدھا کھڑا ہے، زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوا اور یہ بہترین شکل میں محفوظ ہے۔‘

بہت سے لوگوں نے اسے تلاش کرنے کا تہیہ کیا تھا اور کچھ نے کوشش بھی کی ہے لیکن اس خطے میں سمندری برف کی وجہ سے سفر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

تاہم ڈاکٹر جان شیئرز اور ان کے ساتھیوں آخرکار اس کی کھوج لگا لی ہے حالانکہ اس حوالے سے ان کا آخری مشن ناکام رہا تھا۔

اپنی گذشتہ کوشش میں ناکامی کے بعد انھوں نے جہاز کی تلاش کے لیے اپنا سامان تبدیل کیا تھا اور اس مرتبہ مختلف قسم کی آبدوزوں کی مدد لی گئی تھی۔

ڈاکٹر جان شیئرز نے کیمروں کے بحری جہاز تک پہنچنے کے لمحے کو 'انتہائی حیرت انگیز' قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'بحری جہاز کو پیش آنے والے حادثہ ایک بہترین کارنامہ ہے۔ ہم نے کامیابی کے ساتھ حادثوں کا شکار ہونے والے بحری جہازوں کی دنیا کی سب سے مشکل کھوج مکمل کر لی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس دوران ہمیں سمندری برف کے ہٹنے، برفانی طوفان اور منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ ہم نے وہ کر دکھایا ہے جسے لوگ ناممکن قرار دے رہے تھے۔'

،ویڈیو کیپشنبحری جہاز اینڈیورنس کے حیرت انگیز مناظر

بحری جہاز کہاں سے ملا ہے؟

اینڈیورنس کہاں ڈوبا تھا، یہ مقام سب کو معلوم تھا کیونکہ کپتان فرینک وسلی نے اس مقام کی نشاندہی سیکسٹنٹ اور تھیوڈولائٹ کی مدد سے نوٹ کی تھی۔

تاہم جزیرہ نما انٹارکٹک پر واقع لارسن آئس شیلف کے بالکل مشرق میں، ویڈل سمندر کے اس حصے تک پہنچنا جدید جہازوں کے لیے بھی انتہائی مشکل ہے۔

اینڈیورنس کو آخر کار ویڈل کی کھوج سمندر کی تہہ میں 3008 میٹر سے لگائی گئی ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں سے آبدوزوں کے ذریعے دلچسپی کا باعث بننے والے اہداف کو ڈھونڈا گیا جس کے بعد بالآخر سنیچر کو اس تک رسائی حاصل کی گئی، جو شیکلٹن کی 100ویں برسی بھی تھی۔

اس کھوج کے بعد سے بحری جہاز کا تصویری ریکارڈ رکھنے کی کوشش میں گزارے گئے ہیں۔

ارنیسٹ شیکلٹن کا جہاز تاریخی اہمیت کا حامل مقام ہے اور اسے انٹارکٹک کے ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت ایک یادگار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ اسے کسی بھی طرح سےچھیڑا نہیں جا سکتا۔

تختے

،تصویر کا ذریعہFMHT/National Geographic

کیمرے کی آنکھ کیا کچھ دیکھ سکتی ہے؟

اس بحری جہاز کی آخری تصویر شیکلٹن کے تصویر نگار فرینک ہرلی نے 1915 میں بنائی تھی تاہم آج بھی یہ حیرت انگیز طور پر ویسا ہی دکھتا ہے۔

اس کے مستول نیچے گر چکے ہیں، اس کے رسے ٹوٹ چکے ہیں لیکن اس کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی اپنی حقیقی جگہ پر موجود ہے۔ بحری جہاز کے سامنے کے حصے کو نقصان پہنچا ہے، شاید یہی وہ حصہ ہے جو سمندر کی تہہ سے ٹکرایا تھا۔ بحری جہاز کے تختے اب بھی موجود ہیں، ان کیمروں کے ذریعے بحری جہاز پر کچھ برتن اور جوتے بھی نظر آئے ہیں۔

مینسن باؤنڈ کا کہنا تھا کہ ’ہم شیکلٹن کا کیبن بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس لمحے پر آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ عظیم شخص آس پاس ہی موجود ہے۔‘

اس بحری جہاز پر اب کون بستا ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حادثے کا شکار ہونے والے بحری جہاز پر زندگی کی بہتات ہے لیکن ایسی نہیں جو اس کو نقصان پہنچا سکے۔

ایسکس یونیورسٹی میں زیرِ سمندر پولر بائیولوجسٹ ڈاکٹر مشیل ٹیلر کا کہنا تھا کہ 'ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بحری جہاز کی لکڑی کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ایسی آبی حیات جو ہمارے سمندروں کے دوسرے حصوں میں پائے جاتے ہیں وہ جنگلات سے پاک انٹارکٹک خطے میں نہیں پائے جاتے۔'

’اینڈیورنس ایک آسیب زدہ بحری جہاز نظر آتا ہے اور اس پر سمندر کی گہرائی میں موجود زندگی کی بہتات بھی دکھائی دیتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

یہ بحری جہاز اتنا قیمتی کیوں ہے؟

اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ شیکلٹن کے اس بحری جہاز میں سفر کی کہانی انتہائی دلچسپ ہے۔

بحر منجمد جنوبی یعنی انٹارٹیکا میں شیکلٹن کی یہ تاریخی مہم سنہ 1914 سے 1917 تک جاری رہی تھی اور اس کا مقصد پہلی مرتبہ برف سے ڈھکے ہوئے اس براعظم کو عبور کرنا تھا، لیکن اینڈیورنس راستے میں پھنسی ہوئی اور سفًاک سمندری برف میں کھو گئے۔

اس مہم کی شہرت پوری دنیا میں اس وقت پھیل گئی تھی جب شیکلٹن اور ان کے ساتھی نہ صرف زندہ رہے بلکہ حیران کن طور پر پیدل چلتے ہوئے اور چھوٹی کشتیوں کی مدد سے واپس آ گئے۔

ان کی یہ مہم کسی یادگار سے کم نہیں، اور اس کہانی میں یہ کشش بھی ہے۔ اس کی دوسری وجہ بحری جہاز کو ڈھونڈنے کا چیلنج بھی ہے۔ ویڈل سمندر مکمل طور پر برف سے ڈھکا ہوا ہے اور یہ وہی سمندری برف ہے جس کے باعث اینڈیورنس حادثے کا شکار ہوا تھا۔ اس مقام تک پہنچنا ہی انتہائی مشکل ہے اور اس حوالے سے کھوج لگانا تو ایک علیحدہ بات ہے۔