وہ زمانہ جب لاہور میں بحری جہاز بنتے اور دریائی تجارت ہوتی تھی

Wallled City of Lahore

،تصویر کا ذریعہWallled City of Lahore

،تصویر کا کیپشننامعلوم مصور کی بنائی اور والڈ سٹی آف لاہور سے منسلک تانیہ قریشی کی فراہم کی گئی واٹرکلر پینٹنگ جس میں لاہور کے خضری دروازے کے باہر کی تب کی سرگرمیاں دکھائی گئی ہیں جب راوی دریا شہر کی دیواروں سے ٹکراتا گزرتا تھا اور یہاں سے تجارت ہوتی تھی۔
    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی و محقق، لاہور

تب راوی دریا لاہور شہر کی دیوار کے ساتھ بہتا تھا۔۔۔مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں بنا خضری دروازہ دریا کے گھاٹ کے ساتھ تھا اور کشتیاں یہیں سے چلتی تھیں۔

راوی دریا شاہی قلعے کے شمال مغرب سے بہتا، قلعے اور فصیل والے شہر کو گھیرتا، موری گیٹ کے بالکل باہر آج کے اردو بازار کے ساتھ جنوب مغرب کی طرف بڑھتا اور اس ٹیلے کے گرد گھومتا جہاں آج کل ضلعی عدالتیں ہیں۔

راوی کے اس وقت کے اور موجودہ راستے کو سمجھنا شاید یوں آسان ہو جائے کہ اکبر کے چچا کامران مرزا کی بارہ دری جو اب دریا کے ایک جزیرے پر ہے، اس سے ڈھائی کلومیٹر دور تھی۔

کامران جو لاہور کے حاکم تھے

اے حمید اپنی کتاب 'لاہورکی یادیں' میں لکھتے ہیں کہ قلعہ لاہور کی حالت اس زمانے میں کچھ اچھی نہ تھی۔ اس لیے کامران نے دریا کے پار اپنے لیے وسیع و گل ریز باغ کے درمیان ایک عالی شان محل (بارہ دری) تعمیر کرایا۔

تب ٹھٹھہ اورلاہری بندر سندھ، ملتان اور پنجاب کو ہرمز، بشہر اور بصرہ سے جوڑتے اورمغربی ہندوستان کا فارس(ایران) سے تجارتی رابطہ بناتے۔

مغلِ شاہی میں جلال الدین محمد اکبر کا دور آیا تو ایم این پیئرسن کے مطابق محصولات زیادہ تر زمین ہی سے آتے تھے۔ ڈبلیو ایچ مورلینڈ نے تاہم یہ مانا کہ ’اکبر گجرات سے بحری جہاز بحر احمر میں بھیجتے تھے۔‘

ابوالفضل ’اکبرنامہ‘ میں لکھتے ہیں کہ اکبر نے سمندر کا تجربہ 1572 میں تب کیا جب انھوں نے گجرات پر قبضہ کیا۔ سورت، جسے خلیج کیمبے کی بڑی بندرگاہ بننا تھا، کو فتح کرنے کے بعد اکبر نے دو بحری جہاز، بیٹے سلیم کے نام پر سلیمی اور الہٰی، یا تو تیار کروائے یا حاصل کیے۔ ان ہی جہازوں پر شاہی خواتین 1576 میں حج پر گئیں۔

شیریں موسوی کے مطابق اکبر کی سوتیلی ماں اور ہمایوں کی بڑی بیوی حاجی بیگم بارہ تیرہ سال پہلے حج پر گئی تھیں۔ یا تو زمینی سفر کیا ہو گا یا سندھ کے راستے بحری سفر۔ کیونکہ وہ دلی میں رہیں اور اکبر سے ملنے آگرہ ان کی گجرات فتح کے بعد ہی آئیں۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ ملتان کے راستے واپس آئی ہوں گی۔

شہزادہ کامران کی بارہ دری

،تصویر کا ذریعہEman Omar

،تصویر کا کیپشندریائے راوی کے کنارے شہزادہ کامران کی بارہ دری

بہرحال 'آئین اکبری' میں ایک باب 'آئین میر بحری' ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ مشرق، مغرب اورجنوب کے ساحل پر بڑے بڑے جہاز بنائے گئے جو مسافروں کے لیے راحت کا سامان ہیں، بندرگاہوں پر خوش حالی آگئی ہے اورعلم کو فروغ ملا ہے۔ مراد یہ ہے کہ موسوی کے مطابق، حوالہ صرف شاہی جہازوں نہیں بلکہ جہازوں کی تیاری کی عمومی ترقی کی جانب ہے۔ اسی باب میں جہازکے عملے کے ارکان کے 12 مختلف عہدے بھی بتائے گئے ہیں۔ میرملاح کے لیے ٹانڈل، سٹورکیپر کے لیے بھنڈاری وغیرہ۔

لاہورمیں دو بحری جہازوں کی تعمیر 1594 اور 1596 میں ہوئی۔ عرفان حبیب کی تحقیق سے اس اندازے کی نفی ہوتی ہے کہ مغل ہندوستان میں تیار ہونے والے جہازوں میں لوہا اور میخیں استعمال نہیں ہوتی تھیں بلکہ تختوں کو رسوں سے باندھا جاتا تھا۔

پرتگیز گجرات کے دونوں طرف موجود ہونے کی وجہ سے وہاں کی جہاز رانی کو تو کنٹرول کر لیتے تھے لیکن سندھ کے لاہری بندر پر ان کا بس نہ چلتا تھا۔ اکبر نے 1591 میں سندھ فتح کیا تو یہ بندرگاہ خالصہ یعنی شاہی انتظام میں رکھی۔

طاہر محمد سبزواری کی کتاب روضۃ الطاہرین کے حوالے سے موسوی لکھتے ہیں کہ لاہری بندر کے قریب جنگلات نہیں تھے، سو جہاز گجرات میں تیار اور مرمت ہوتے۔ اسی لیے اکبر کو لاہور میں جہاز بنانے کی سوجھی۔ انھیں ہمالیہ کی لکڑی سے تیار کیا اور دریائے سندھ کے نظام کے ذریعے لاہری بندر لے جایا جا سکا۔

عرفان حبیب کے مطابق پہلے جہاز کی لمبائی 35 گزِ الہیٰ، یعنی 93 فٹ سے اوپر، اور دوسرے کی 37 گزِ الہیٰ، قریباً 99 فٹ تھی۔ پہلے جہاز کو ٹھٹھہ لے جانے میں دریا میں پانی کی کمی کے باعث مشکل ہوئی تو دوسرا جہاز بجرے پر تعمیر کیا گیا جسے انگریز بحری جہاز کا اونٹ کہتے ہیں۔

موسوی کے مطابق بدقسمتی سے جہازوں کے نام نہیں مل سکے کہ ان کی بعد کی تاریخ کی کھوج لگائی جا سکتی۔

موسوی نے لکھا ہے کہ ’نہ جانے یہ لاہورسے ٹھٹھہ کی دوری کے باعث تھا یا اکبر کے 1598 میں دکن کی مہم کے لیے لاہور چھوڑنے کی وجہ سے، کہ جہاز سازی کا یہ تجربہ جاری نہ رہا۔‘

بحری جہاز بننا تو بند ہوا مگر بڑی، چھوٹی کشتیاں بنتی رہیں کیوںکہ یہ پل نہ ہونے کے باعث دریا کے پار جانے، دریائی سفر اور تجارت کی ضرورت تھیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سریندر سنگھ کی 'دارالسلطنت لاہور' کے نام سے تحقیق کے مطابق ایک زرخیز مگر پسماندہ علاقے میں واقع ہونے اور اپنی غیر زرعی صنعت و حرفت کی وسیع رینج کے باوجود، لاہور کے لیے اپنی متنوع معاشی ضروریات کو پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس ضرورت میں شدت تب آئی جب پڑوسی علاقوں سے آفت زدہ لوگوں کی آمد کی وجہ سے شہر کی آبادی میں اضافہ ہوا۔

بادشاہ نامہ میں لکھا ہے کہ 1642 میں شدید بارشوں کے باعث لگ بھگ 300ہزار لوگ کشمیر سے یہاں آئے۔ بعض اوقات، شاہی فوجوں کی آمد سے شہر کے مضافات میں دکانوں اور ریستورانوں سمیت، عارضی بستی بنانے کی ضرورت پڑ جاتی تھی۔

'سوداگر مراد آباد سے گندم، سرہند سے چاول، آگرہ سے مصالحہ، ملتان سے چینی، مسولی پٹنم اور مونگا پٹنم سے باریک سوتی کپڑے، احمد آباد سے پگڑیاں اور ریشم کا سامان اور پٹنہ سے لاہور کی منڈی میں ریشم لاتے تھے۔

مغربی ایشیائی تاجر یہاں سے قندھار اور اصفہان کے زمینی راستے سے نیل لے جاتے، آرمینیا کے سوداگر یہاں چوڑے عرض والا ایرانی کپڑا لاتے۔ شہر کے بیوپاری مختلف اشیا کو کشتیوں میں راوی کے ذریعے ملتان اور ٹھٹھہ پہنچاتے۔

فرانسسکو پیلسیئرٹ اورڈبلیو فوسٹرکی لکھی یہ تفصیلات مغل بادشاہ جہانگیر کے دور کی عکاس ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

منوشی اور دالیت نے یہ کہتے ہوئے کہ لاہور غیر ملکیوں سے بھرا رہتا، مقامی تاجروں کی امارت اور پختہ اینٹوں سے بنی اعلیٰ عمارتوں کی کہانی لکھی ہے 'جو تحفظ اور خلوت کے لیے راستے سے چھ سات قدم بلند ہوتیں۔‘

جہاز رانی سے دلچسپی مغل شہنشاہوں جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب کے تحت بھی جاری رہی۔ اس کا مقصد تجارت اور حج ہوتا تھا۔

نصیر احمد میر کے مطابق چنبہ کے پہاڑوں سے سال کی لکڑی نکالی جاتی اور اسے دریائے چناب کے ذریعے لایا جاتا۔ لکڑی کو نقل و حمل کی اشیا بنانے میں استعمال کیا جاتا اور کشتیوں کو پانی کے ذریعے بھکر اور ٹھٹھہ پہنچایا جاتا۔ شمالی ہندوستان کے مختلف حصوں میں کشتی چلانے والے عموماً کشمیری تھے، جن کا تعلق ملاح ذات سے تھا۔

جہانگیر شراب کے شوقین تھے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دریا رخ تو بدلتا ہی رہا

خواجہ شمس الدین عظیمی لکھتے ہیں کہ 1662 میں اس کا رخ بدلنے کی وجہ سے شہر کو لاحق خطرے کے پیش نظر بادشاہ اورنگ زیب نے اس کے کنارے تقریباً چار میل کے فاصلے تک پختہ اینٹیں اور چونا گارے سے ایک بڑا بند تعمیر کروا دیا جس سے یہ شہر تباہی سے بچا رہا۔

نئی دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی سے منسلک تاریخ دان مظفر عالم لکھتے ہیں کہ سترھویں صدی تک پنجاب، ملتان اور سندھ اور دلی کے شمال میں چھوٹے بڑے شہر ابھر چکے تھے۔ یہ سڑکوں اوردریائی راستوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے تھے۔

رمیش چندر شرما اور امیت مکھر جی ابتدائی سترھویں صدی کے لاہور پر اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ جٹمل ناہر نے جہانگیر کے دور میں برج بھاشا اور کھڑی بولی میں پچپن اشعار پر مشتمل 'لاہورکی غزل' لکھی۔

شاعر لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے لاہور کو دیکھا تو دوسرے شہر بھول گئے اور ان کی یہ بات ایسی غلط بھی نہیں کیونکہ ڈبلیو فنچ کے مطابق تب یہ شہر مشرق کا سب سے عظیم شہر تھا۔ ایچ کے نقوی کا کہنا ہے کہ کوئی ایشیائی یا یورپی شہر اس جیسا نہیں تھا، نہ وسعت میں، نہ دولت میں اور نہ آبادی میں۔

ناہر کے اشعار کے مطابق لاہور کی آبادی 12 کوس کے محیط میں تھی۔ اونچی دیوار، بارہ دروازے جہاں نوبت بجتی، ہاتھی اور محافظ گرز اور نیزوں کے ساتھ کھڑے ہوتے جنھیں دیکھ کر دل کانپ کانپ جاتا۔ راوی لاہورکے ساتھ ساتھ بہتا تھا۔ یہاں ہمیشہ بہت سی کشتیاں ہوتیں اور صاف شفاف پانی میں بطخیں اور بگلے تیر رہے ہوتے۔

پنجاب میں دریائی جہاز رانی کے بارے میں، ہاکنز کے تاجر ساتھی ولیم فنچ (1609-1611) کی گواہی ہے کہ لاہور سے راوی اور سندھ دریاوں کے راستے، 60 ٹن یا اس سے اوپر کی کئی کشتیاں سندھ میں ٹھٹھہ تک جاتی تھیں اور یہ تقریباً 40 دنوں کا سفر تھا۔

تھامس رو نے بھی یہ نشاندہی کی کہ دریائے سندھ زیادہ آسان تھا، جس میں لاہور سے کوئی بھی چیز پانی کے ذریعے جاسکتی تھی۔

مارچ 1639 میں ہنری بومفورڈ نے دیکھا کہ ’لاہور سے ٹھٹھہ تک 1000 اور 2000 من سامان کی عام نقل و حمل کشتیوں میں دریا سے ہوتی ہے۔‘

ملتان سے دریا سے آمدورفت ہر وقت ممکن رہتی ہے لیکن لاہور سے مارچ کے شروع سے اکتوبر میں ٹھنڈ شروع ہونے تک نقل و حمل جاری رہتی ہے۔ ٹھٹھہ سے لاہور جانے میں تاجروں کو چھ سے سات ہفتے اور لاہور سے واپسی پر 12 سے 18 دن لگتے۔

ولیم فوسٹر کے مطابق پانچ سو سے 2000 من تک کی تمام کشتیوں کی راہداری 1000 روپے سے بہت کم آتی۔ اس کے علاوہ ملاحوں کو 10 یا 12 روپے اور محافظوں کو 20 روپے دیے جاتے۔ کسٹم مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادا ہوتا۔

لاہور میں قندھار جانے والے یا دریا کے ذریعے سندھ جانے والے تمام سامان پر کسٹم ڈیوٹی 2.25 فیصد تھی۔ گھاٹ یا گزرگاہ پر 0.25 فیصد ٹیکس اس کے علاوہ تھے۔

یوں لاہور سے ٹھٹھہ تجارت لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند تھی۔

،ویڈیو کیپشنشاہی قلعے میں قدیم مغلیہ حمام کی دریافت ہوئی ہے

مثال کے طور پر امیتا ستیال نے لکھا ہے کہ 1526 سے 1658 تک مغلوں کے دارالحکومت آگرہ میں، بازار میں کھانے کی قیمتیں 1595 سے 1708 کے درمیان تھیں جو لاہور سے کم از کم 20 فیصد زیادہ تھیں۔

اے حمید دریا کے رخ بدلنے کا ایک واقعہ محمد شاہ بادشاہ کے دور کا بتاتے ہیں۔

'عہد مغلیہ میں دریا کے پار شاہدرہ کے نواح میں امرا نے بہت سے باغات اور مکانات تعمیر کروائے تھے مگر جب دریا نے محمد شاہ بادشاہ کے زمانے میں اپنا رخ شہر کی طرف سے ہٹا کر شاہدرہ کی طرف کر لیا تو بہت سے باغ دریا برد ہو گئے اور جو باقی بچے وہ زمانے کی دست برد سے مٹ گئے۔‘

مزید پڑھیے

وہ بتاتے ہیں ’محمد شاہ بادشاہ کے زمانے میں بند عالمگیری کی وجہ سے دریا کا بہاؤ باغ کی دیواروں تک آ پہنچا۔ سکھوں کے زمانے تک دریا نے باغ کی دیواروں کو منہدم کر کے شاہی محلات کا صفایا بھی شروع کر دیا۔ چنانچہ رنجیت سنگھ کے آخری دس سالوں میں پانی کے بہاؤ نے بارہ دری کی قدم بوسی شروع کر دی۔

یہ 1830 سے 1832 کے زمانے کا ذکر ہے۔ ایک سو سال سے زیادہ عرصہ راوی کی لہریں بارہ دری سے ٹکراتی رہیں۔ پہلے میرزا کامران کا عالی شان باغ دریا برد ہوا پھر بارہ دری بھی دریا کی نذر ہونے لگی اور وہ دریا کے اندر آ گئی۔'

حضوری باغ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحضوری باغ

راوی کے رخ بدلنے پر کامران کی بارہ دری اب دریا میں ابھرے ایک جزیرے پر ہے۔

تاریخ سے دلچسپی رکھتے لکھاری مجید شیخ کے مطابق زمزمہ توپ کو مہاراجا رنجیت سنگھ نے ملتان کی جنگ کے لیے کشتی میں لاد کر ہی بھیجا تھا۔

ایک بار جب دریا مؤثر طریقے سے فصیل والے شہر سے دور ہو گیا تو فیری پورٹ دریا کے مشرقی کنارے کے بالکل مغرب میں چلا گیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شیخوپورہ سے بیگم کوٹ کی سڑک دریا کے کنارے کو چھوتی ہے۔

سکھوں کے زمانے میں جب دریا آگے بڑھ گیا تو فیری سٹیشن خاموش ہو گیا اور خضری دروازہ شیراں والا دروازہ کے نام سے جانا جانے لگا، یہ ان دو شیروں کی وجہ سے تھا جو رنجیت سنگھ نے وہاں پنجروں میں رکھے تھے۔

نصیر احمد میر لکھتے ہیں کہ تھیوینٹ اوریاں بیپٹسٹ ٹیورنیئر کی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ دریائے سندھ میں بھل کا تجارت پر بہت اثر پڑا۔ تجارت مہنگے زمینی راستے سے ہونے لگی۔ یہاں تک کہ کاریگر بھی زیادہ منافع بخش علاقوں کی طرف ہجرت کرنے لگے۔

الیگزینڈر برنس نے سندھ سے پنجاب تک کسی بھی قسم کی دریائی تجارت کی نفی کی ہے۔ گویا انیسویں صدی کے اوائل میں ان پانیوں میں کوئی تجارتی کشتی نہیں تھی۔