کرپٹو کرنسی: کروڑوں ڈالر کے بٹ کوائن کچرے میں پھینکنے والا شخص جو اب انھیں ڈھونڈنا چاہتا ہے

بٹ کوائن
    • مصنف, نِک ہارٹلی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز ویلز

تقریباً 10 برس پہلے جیمز ہاویلز نے صفائی کے دوران ایک ہارڈ ڈرائیو پھینک دی۔ وہ بھول گئے تھے کہ اس میں اُن کے بٹ کوائن موجود ہیں۔

اب جب اُن کے بٹ کوائنز کی قیمت اندازاً 18 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر ہے تو وہ گمشدہ ہارڈ ڈرائیو تلاش کرنے کی کوشش میں برطانیہ کے شہر نیوپورٹ کے لینڈ فل (کچرا پھینکنے کا مقام) کی کھدائی میں لاکھوں خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ہاویلز نے کہا ہے کہ اگر انھیں ہارڈ ڈرائیو واپس مل جاتی ہے تو وہ شہر کو کرپٹو کرنسی کے مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے اپنے منافع کا 10 فیصد دیں گے۔

لیکن مقامی حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس لینڈ فل میں کھدائی سے ماحولیاتی خطرہ لاحق ہے۔

ہاویلز ایک کمپیوٹر انجینئیر ہیں اور اُنھوں نے سنہ 2013 میں سکے کی ابتدائی ترقی کے مراحل میں 8,000 بٹ کوائنز کی مائننگ کے بعد غلطی سے ہارڈ ڈرائیو پھینک دی تھی۔

بٹ کوائن کی قدر میں بے حد اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ مثال کے طور پر جنوری 2021 میں ہاویلز کے بٹ کوائنز کی مالیت تقریباً 25 کروڑ ڈالر تھی لیکن رواں سال اس میں بھاری کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

مذکورہ لینڈ فِل کی منتظم نیوپورٹ سٹی کونسل نے ماحولیاتی اور رسائی کی وجوہات کی بنا پر اسے کھودنے کے لیے سائٹ تک رسائی سے مسلسل انکار کیا ہے۔

ہارڈ ڈرائیو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ہزاروں ٹن کمپیکٹ شدہ ملبے کو ہٹانے کے لیے بہت زیادہ دستی کھدائی کے کام کی ضرورت ہو گی جو کئی دہائیوں سے سائٹ پر جمع ہے۔

لیکن اِن کمپیوٹر انجینئیر کا خیال ہے کہ اب ان کے پاس اس سائٹ کے لیے مؤثر اور ماحولیاتی طور پر فائدہ مند طریقے سے ایسا کرنے کے لیے فنڈز اور علم ہے۔

bit coin

اُنھوں نے کہا کہ ’لینڈ فل کی کھدائی اپنے آپ میں ایک بڑا آپریشن ہے۔ فنڈنگ حاصل کر لی گئی ہے اور ہم نے مصنوعی ذہانت کے ایک ماہر کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ان کی ٹیکنالوجی کو آسانی سے ہارڈ ڈرائیو تلاش کرنے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔‘

بس اتنا ہی نہیں بلکہ ’ہمارے پاس ایک ماحولیاتی ٹیم بھی ہے۔ بنیادی طور پر ہمارے پاس مختلف ماہرین کی ایک پوری ٹیم ہے جس کے پاس مختلف مہارتیں ہیں اور سب کے ساتھ مل کر، ہم اس کام کو بہت اعلیٰ معیار تک مکمل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’اہم ماحولیاتی خطرہ‘

لیکن ہارڈ ڈرائیو تلاش کرنا اس کام کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ اگر یہ مل بھی جائے گی تو اس کی حالت ٹھیک ہو جائے گی۔

لیکن اگر ایسا ہوا تو اس کے مالک کو ایک خطیر رقم حاصل ہو گی تاہم اصل رقم کا انحصار اس انتہائی غیر مستحکم کرپٹو کرنسی کی سمت پر ہو گا۔

کسی بھی صورت میں یہ کئی لاکھ ڈالر ہونے کا امکان ہے.

bit coin

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس میں سے وہ رقم بھی نکالی جائے گی جو ہاویلز نے مقامی آبادی کو دینے کا وعدہ کیا ہے یعنی 10 فیصد۔ اور ان کے ذہن میں ہے کہ وہ ان سے کیسے سرمایہ کاری کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس اقدامات کی مکمل فہرست ہے۔‘

’ایک بار جب ہم نے اس زمین کو صاف کر لیا اور اسے دوبارہ حاصل کر لیا تو اس پر بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ لگایا جائے گا، شاید کچھ ونڈ ٹربائنز۔ اور شاید بٹ کوائن مائننگ کی سہولت۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ سہولتیں مقامی آبادی کے لیے ہوں گی اور نیوپورٹ کے لوگوں کے لیے کرپٹو کرنسی بنانے کے لیے ٹربائنز سے صاف بجلی پیدا کی جائے گی۔

ان کے بہت سے منصوبوں میں نیوپورٹ میں ہر فرد کو بٹ کوائنز میں تقریباً 60 ڈالر دینے اور تمام سٹورز میں کرپٹو کرنسی پر مبنی ٹرمینلز لگانے کی تجویز بھی ہے لیکن حکام نے ہاویلز کی ہر درخواست کا انکار کے ساتھ جواب دیا ہے۔

ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہمارے قانونی فرائض ہیں جن کی ہمیں لینڈ فل کے انتظام میں تعمیل کرنی چاہیے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ان فرائض ’کا ایک حصہ سائٹ اور آس پاس کے علاقوں کو ماحولیاتی خطرے سے بچانا ہے۔ مسٹر ہاویلز کی تجاویز سے ایک اہم ماحولیاتی خطرہ لاحق ہو گا جسے ہم قبول نہیں کر سکتے اور حقیقت میں لینڈ فل کی انتظام کاری کے معاہدے کی شرائط کی وجہ سے ہم یہ قبول کر بھی نہیں سکتے، چنانچہ ان درخواستوں پر غور بھی نہیں کیا جاتا۔‘