’ڈالریا‘ گاؤں کے باپ بیٹے نے کرپٹو کرنسی اور آئی فون کے نام پر لوگوں سے کروڑوں کیسے لوٹے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لکشمی پٹیل
- عہدہ, بی بی سی گجراتی
’میرے ساتھ 25 لاکھ روپے کا فراڈ ہوا۔ ان 25 لاکھ میں سے 15 لاکھ روپے کی رقم وہ تھی جو میں نے بطور قرض لی تھی۔ میں اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کے سرغنہ باپ بیٹے کو کبھی نہیں بھول سکتا کیونکہ مجھے ابھی قرض کی قسطیں بھی چکانی ہیں۔ برائے کرم اس رپورٹ میں میرا نام شائع مت کیجیے گا۔‘
یہ کہنا ہے راجستھان کے شہر جے پور کے ایک رہائشی کا جو حال ہی میں فراڈ کا شکار ہو کر اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ وہ اپنا درد بیان کرتے ہوئے تقریباً رو پڑے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’جب لوگوں کو پتا چلے گا کہ میں دھوکہ دہی کا شکار ہوا ہوں تو لوگ مجھے شرمندہ کریں گے۔‘
دھوکہ دہی کے اسی نوعیت کے کئی واقعات گجرات سمیت ملک کی دیگر کئی ریاستوں میں بھی ہو چکے ہیں۔
مبینہ طور پر ان لوگوں کو کروڑوں روپے کا دھوکہ دینے والے باپ بیٹے کا تعلق گجرات کے شہر مہسانہ سے ہے۔ احمد آباد سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ان باپ بیٹے کا آبائی گاؤں ’ڈالریا‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔
اس گاؤں کو یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ یہاں بسنے والے ہر خاندان کا کم از کم ایک فرد بیرون ملک رہتا ہے اور ڈالر کماتا ہے۔ اس گاؤں کی آبادی پانچ ہزار افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے لگ بھگ دو ہزار لوگ بیرون ممالک مقیم ہیں۔ اس گاؤں کے زیادہ تر افراد امریکہ میں رہتے ہیں۔
انڈیا میں یہ گاؤں اب شہ سرخیوں میں ہے۔ مہسانہ شہر کو اپنے جس گاؤں پر فخر ہے، اب وہ بدنام ہو رہا ہے اور بدنامی کی وجہ باپ اور بیٹے کی یہ جوڑی ہے۔
41 سال نیل پٹیل اور اُن کے والد گوردھن بھائی پٹیل پر کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کا الزام ہے۔ ان دونوں پر الزام ہے کہ یہ دونوں موبائل ایپلیکیشن اور فرضی کمپنیاں بنا کر لوگوں کو دھوکہ دیتے اور لوٹتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق دھوکہ دہی کا شکار ہونے والوں کی بڑی تعداد کا تعلق بھی گجرات سے ہی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے پولیس سٹیشن اور سائبر کرائم سیل میں شکایات بھی درج کروائی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان شکایات کے نتیجے میں بالآخر 20 فروری 2022 کی صبح حیدرآباد پولیس نے گوردھن بھائی پٹیل کو گرفتار کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حیدرآباد کرائم برانچ کے پولیس انسپکٹر سی ایچ گنگادھر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے گوردھن پٹیل کو گرفتار کیا ہے۔ وہ ایک کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں، جس پر فراڈ کا مقدمہ درج ہے۔ تلنگانہ میں اس کمپنی کے خلاف پانچ شکایات درج ہیں اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں اس کمپنی کے خلاف 90 شکایات درج ہیں۔‘
پولیس انسپکٹر سی ایچ گنگادھر نے کہا کہ ’راجستھان پولیس اور کرناٹک پولیس نے بھی گوردھن پٹیل کی تحویل کے لیے ہم سے رابطہ کیا ہے کیونکہ ان کی حدود میں بھی ان کے خلاف شکایات موجود ہیں۔‘
نیل پٹیل عرف ہتیش پٹیل اور ان کے والد گوردھن پٹیل سکوئیکس ٹیکنالوجی سروسز نامی کمپنی کے مالک ہیں۔ اس کمپنی پر کئی ویب سائٹس اور موبائل ایپلیکیشنز بنا کر لوگوں کو دھوکہ دینے کا الزام ہے۔
’کئی بڑے لیڈر اور افسران بھی لنک شیئر کر رہے تھے‘
جے پور کے وہ لوگ جو دھوکہ دہی کا شکار ہونے کی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ ستمبر 2020 میں ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے نیل کے رابطے میں آئے تھے۔
ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ ’نیل پٹیل کا ٹوئٹر اکاؤنٹ تصدیق شدہ تھا اور کئی بڑے لیڈروں اور عہدیداروں نے اس اکاؤنٹ کو شیئر کیا تھا، اس لیے میں نے نیل پٹیل پر بھروسہ کیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس سے پہلے نیل پٹیل کے پاس ’ناراد پے‘ نامی ایک ایپ تھی اور ایک سکیم کے تحت اگر آپ 15 ہزار روپے کا پلان لیتے ہیں تو آپ کو ہر ماہ 3,334 روپے واپس ملیں گے اور ایک سال بعد آپ کو آپ کے 15 ہزار روپے بھی واپس مل جائیں گے۔‘
’میں نے بہت سے منصوبوں کو سبسکرائب کیا تھا اور اپنی بہن کو بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کو کہا تھا لیکن تین ماہ پیسے آنے کے بعد سکیم بند کر دی گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اس کے علاوہ نیل پٹیل کے پاس 15,000 روپے کی ایک آئی فون سکیم بھی تھی، جس میں مجھے دو آئی فون ملے اور میں نے نیل پٹیل پر بھروسہ کرنا شروع کر دیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’نیل پٹیل نے کرپٹو کرنسی میں ٹریڈنگ سے متعلق بھی ایک سکیم بتائی تھی۔ انھوں نے 43 ہزار روپے کا مطالبہ کیا اور مجھے ایک سرٹیفکیٹ دیا۔ سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد انھوں نے مجھے دو سال کے لیے نوکری کی پیشکش کی۔‘
’میری شادی ہونے والی تھی اور میری نوکری مستقل نہیں تھی اس لیے میں نے یہ سکیم لی۔ ٹریڈنگ سکھانے کے بعد انھوں نے مجھ سے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے کو کہا۔ میں نے 20 بٹ کوائن اور 5 ایتھریم خریدے۔‘
’اب ان کے خلاف بہت سے کیس سامنے آئے ہیں، نیل کا کہنا ہے کہ ان کے والد بااثر آدمی ہیں اور وہ ان کی رقم واپس کر دیں گے۔ اس لیے لوگوں نے ان پر بھروسہ کیا جبکہ کچھ لوگوں نے پیسے واپس لے لیے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ٹیسلا اور کرپٹو میں سرمایہ کاری کے نام پر فراڈ
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کے بعد نیل نے ’دی بل رن‘ کے نام سے ایک ویب سائٹ بنائی اور اس ویب سائٹ پر لاگ ان کے لیے اکاؤنٹ نمبر اور پاس ورڈ دیا، جہاں ایتھریم کرپٹو کرنسی کے اکاؤنٹ میں دکھائی دے رہے تھی۔ اس کے بعد انھوں نے ٹیسلا میں سرمایہ کاری کے لیے ایک ہزار ڈالر لیے۔‘
’انھوں نے دعویٰ کیا کہ ٹیسلا کے حصص کی مالیت 10 ہزار ڈالر ہے۔ بدلے میں انھوں نے امریکہ میں رہنے والے ایک شخص کی جانب سے جاری کردہ چیک دیا۔ جب ہم نے یہ چیک جمع کروایا تو یہ باؤنس ہو گیا۔ اس کے بعد نیل پٹیل غائب ہو گئے اور ان کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی غائب ہیں۔‘
’جب مجھے اندازہ ہوا کہ مجھے دھوکہ دیا گیا ہے تو میں نے نیل اور گوردھن پٹیل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔‘
’پانچ ماہ پہلے میں گجرات کے اخاج گاؤں پہنچا، جہاں میری ملاقات نیل کے والد گوردھن پٹیل سے ہوئی۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ رقم واپس کر دی جائے گی تاہم دو ماہ گزرنے کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا۔ چنانچہ میں گذشتہ دسمبر میں فراڈ کے شکار 20 سے 30 افراد کے ساتھ اس گاؤں پہنچا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گوردھن پٹیل سے ایک کمیونٹی ہال میں ملاقات ہوئی، جس میں انھوں نے وعدہ کیا کہ 15 دن میں رقم واپس کر دی جائے گی۔‘
احمد آباد کے رہنے والے آکاش جو ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’انھیں دو لاکھ 35 ہزار روپے کا دھوکہ ہوا۔ مجھے ’ناراد پے‘ اور کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دیا گیا۔ میں نے آن لائن سائبر سیل میں شکایت درج کروائی۔ میں اس گاؤں میں چار سے پانچ بار گیا اور ہر بار نیل کے والد گوردھن نے مجھے پیسے واپس کرنے کا وعدہ کیا۔‘
’ایک سال ہو گیا لیکن ایک روپیہ بھی واپس نہیں آیا۔ گجرات کے 10 سے 15 لوگ مجھ سے رابطے میں ہیں جو اس فراڈ کا شکار ہیں۔ ہم نے پولیس سے رابطہ کیا، وہاں بھی صرف شکایت سنی گئی، درج نہیں ہوئی۔‘
گجرات کے رہنے والے ایک نوجوان، جو اب ممبئی میں رہتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’مجھے 16 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ میں نے اپنی ماں اور بہن کی بچت سے پیسہ لگایا تھا، ساری رقم ضائع ہو گئی۔ ہم نیل پٹیل کے گاؤں بھی گئے جہاں ان کے والد گوردھن پٹیل سے ملاقات ہوئی۔‘
’انھوں نے مجھے اپنا عالیشان گھر دکھایا اور کہا کہ انھوں نے یوگنڈا سے پیسے کمائے ہیں۔ انھوں نے رقم واپس کرنے کا وعدہ بھی کیا لیکن ابھی تک رقم واپس نہیں ہو سکی۔‘
ایک اور متاثرہ شخص دنیش، جن کا تعلق ضلع کچھ سے ہے کہتے ہیں کہ ’میں نے ’ناراد پے‘ اور ایتھریم کرپٹو کرنسی کے نام پر چھ لاکھ روپے کھوئے ہیں۔ ہم نے کنزیومر پروٹیکشن فورم میں بھی شکایت درج کروائی لیکن رقم واپس ملنے کی کوئی امید نہیں۔ گجرات میں اس معاملے میں سخت کارروائی نہیں کی جا رہی۔‘
ہریانہ کے رہنے والے کوشک کے مطابق انھیں 16 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوشک کہتے ہیں کہ ’گجرات میں تقریباً 15 لوگوں کو دھوکہ دیا گیا اور وہ مجھ سے رابطے میں ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ گجرات پولیس ہماری شکایت درج نہیں کر رہی۔ میں اپریل 2021 سے نیل پٹیل کے خلاف شکایت درج کروانے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔‘
’میں نے 250 لوگوں کا ایک ٹیلی گرام گروپ بھی بنایا ہے۔ نیل پٹیل نے مجھے گذشتہ ہفتے فون کیا اور دھمکی دی کہ اس کے چچا ایم ایل اے ہیں اس لیے گجرات پولیس ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔‘
’شاید وہ ٹھیک کہہ رہا ہے کیونکہ گجرات میں بہت سے متاثرین ہونے کے باوجود گجرات پولیس ان کے خلاف شکایت درج نہیں کر رہی۔‘
اخاج گاؤں کے ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’گوردھن بھائی پٹیل اخاج کے رہنے والے ہیں اور وہ یوگنڈا میں تھے۔ وہ تین سال پہلے ہی گاؤں واپس آئے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سات سے آٹھ سال تک یوگنڈا میں مقیم رہے۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد انھوں نے اپنا آبائی گھر دوبارہ بنوایا اور کروڑوں روپے خرچ کر دیے۔ گاؤں والوں نے جب پوچھا کہ اتنے پیسے کیسے آئے تو انھوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے نیل نے امریکہ میں لاٹری جیتی ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’گوردھن بھائی پٹیل پچھلے تین سال سے سماجی کاموں میں سرگرم ہیں۔ انھوں نے گاؤں میں بہت سا چندہ دیا۔ سکولوں میں بچوں کو کتابیں فراہم کی ہیں۔ اسی لیے گوردھن بھائی پٹیل لوگوں کی توجہ حاصل کر گئے۔ آہستہ آہستہ وہ گاؤں کے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے لگے۔‘
’انھوں نے 15 ہزار روپے میں 60 ہزار والا آئی فون دینا شروع کر دیا۔ حالانکہ ان کی سکیم کامیاب نہیں ہو سکی تھی لیکن انھوں نے کچھ گاؤں والوں کے پیسے بھی واپس کر دیے۔‘













