کرپٹو تجارت: انڈیا میں کرپٹو کرنسی پر ٹیکس لاگو، کیا پاکستان بھی ایسا کر سکتا ہے؟

انڈیا وزیرِ خزانہ

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, نیاز فاروقی اور شجاع ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس

کرپٹو کرنسی کا لین دین انڈیا اور پاکستان دونوں میں کافی مقبول ہے۔ پاکستان میں ایک طرف کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کی بات کی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب انڈیا نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا ہے کہ کرپٹو کرنسی جیسے ڈیجیٹل اثاثہ جات کے لین دین پر 30 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔ اس اعلان کو انڈیا میں کرپٹو کرنسی کو قانونی درجہ دینے کی سمت میں پہلے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تو کیا پاکستان انڈیا کے اس اقدام سے کوئی سبق سیکھ سکتا ہے اور کیا انڈیا جیسے اقدامات کرنا پاکستان کے مفاد میں ہو گا؟ اس سوال کا جواب جاننے سے قبل پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ انڈیا نے اس ضمن میں کیا تازہ اقدامات کیے ہیں اور پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے موجودہ صورتحال اور پالیسی کیا ہے؟

انڈیا میں کرپٹوکرنسی پر ٹیکس

گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے وفاقی حکومت کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ‘کسی بھی قسم کے ورچوئل ڈیجیٹل اثاثے کی لین دین سے ہونے والی آمدن پر 30 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کی منتقلی کے لیے ایک فیصد ٹی ڈی ایس بھی ادا کرنا ہو گا۔ تحفے میں ورچوئل کرنسی حاصل کرنے والے شخص کو بھی ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔‘

اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ انڈیا اس سال اپنی ڈیجیٹل کرنسی کا بھی آغاز کرے گا۔

بہت سے لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ٹیکس تو کسی قانونی چیز پر ہی لگتا ہے، تو کیا انڈیا میں کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت مل گئی ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی پر ٹیکس کے اعلان کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت نے اسے قانونی قرار دے دیا ہے بلکہ یہ اس سمت میں پہلا قدم ہے۔

واضح رہے کہ کرپٹو کرنسی انڈیا میں غیر قانونی نہیں تاہم اس کی قانونی حیثیت پر حکومتی اداروں میں بحث جاری ہے۔

لیکن کیا اس پر ٹیکس لگا کر حکومت نے اسے قانونی قرار دیا ہے؟ وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

کرپٹو کرنسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کرپٹو کرنسی ایکسچینچ ’زیب پے‘ کے سابق سی ای او اجیت کھرانا کہتے ہیں کہ ’تکنیکی طور پر دیکھیں تو اگر آپ نے کوئی غیر قانونی تعمیر کی ہے اور آپ نے اس میں بجلی اور پانی کا کنیکشن حاصل کر لیا ہے اور آپ اس پر بل کی ادائیگی بھی کر رہے ہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کی غیر قانونی تعمیر قانونی ہو گئی ہے۔‘

لیکن لوگ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ٹیکس کے اعلان کے بعد انڈیا میں کرپٹوکرنسی کا راستہ صاف ہو گیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ‘اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ پیشگوئی کر رہے ہیں کہ یہ کرپٹو کو قانونی بنانے کی سمت میں پہلا قدم ہے۔‘

کرپٹو کرنسی پر ٹیکس لگانے کا طریقہ کار کیا ہو گا؟

یہ تصور کیجیے کہ آپ کے پاس کوئی ڈیجیٹل اثاثہ نہیں ہے۔ آپ اپنی پہلی کرپٹو کرنسی کیسے حاصل کریں گے؟ کھرانا بتاتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ کسی کرپٹو ایکسچینج میں ’سائن اپ‘ کرتے ہیں۔ ’وہ اپنے بینک سے کرپٹو ایکسچینج میں رقم منتقل کرتے ہیں اور کرپٹو کرنسی خریدتے ہیں۔‘

’اس کے بعد وہ اسے گمنام کر سکتے ہیں لیکن پہلا قدم عام طور پر کرپٹو کرنسی کا تبادلہ ہوتا ہے جو کہ گمنام نہیں ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کم از کم ابتدائی خریداری کے وقت تو ہم جانتے ہیں کہ آپ نے خریداری کی ہے۔‘

انڈیا میں عام طور پر انکم ٹیکس کی ادائیگی شہریوں کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے کیونکہ انڈیا میں ’سیلف اسیسمنٹ‘ کا نظام ہے۔

آپ خود اپنے ٹیکس کا اندازہ لگانے کے ذمہ دار ہیں، قطع نظر اس کے کہ اسے کسی نے دیکھا ہے یا نہیں۔ کرپٹو کرنسی کے بعض معاملات میں گمنامی ہوتی ہے لیکن کرپٹو کرنسی اپنا ’ٹریس‘ چھوڑ دیتی ہے جو کہ ریکارڈ کیا جاتا ہے اور عوامی طور پر موجود ہوتا ہے۔ کھرانہ کہتے ہیں کہ 'آج نہیں تو کل، اس کا ہمیشہ سراغ لگایا جا سکتا ہے۔‘

اگر آسان لفظوں میں کہیں تو آپ کو کسی نہ کسی طریقے سے ٹیکس کی ادائیگی کرنا ہو گی۔ کچھ لوگ یہ سوچیں گے کہ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ ’میں نے منافع کمایا ہے‘، لیکن چونکہ یہ ایک سلسلہ وار کڑی ہے، اس لیے اس طرح کے منافع کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے ہر ٹرانزیکشن پر ایک فیصد ٹی ڈی ایس کا اعلان کیا ہے جو کہ کھرانہ کے مطابق ’ایک ماسٹر سٹروک ہے۔‘ یہ نظام میں موجود خلا کو پُر کرے گا اور احتساب کا نظام پیدا کرنے کا کام کرے گا۔

بٹ کوئن

،تصویر کا ذریعہReuters

لیکن اس میں مسئلہ یہ ہے کہ حکومت نے ہر منتقلی پر 30 فیصد کا ٹیکس عائد کیا ہے نہ کہ ہر فروخت پر، جس سے اسے ٹریس کرنا آسان ہو گا۔ کھرانہ کہتے ہیں کہ ’حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر منتقلی فروخت ہی ہوتی ہے لیکن اس اعلان کے بعد شاید اگر مجھے اپنے ہی ایک والیٹ سے دوسرے والیٹ میں منتقلی کرنی ہو تو اب میں شاید ایسا نہیں کروں گا۔‘

ٹی ڈی ایس سے ان لوگوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا جو طویل مدتی سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ سال کے آخر میں یہ ان کے انکم ٹیکس میں واپس ہو جائے گا۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی ’فاسٹ ٹریڈ‘ مثلاً دن میں 10 بار خرید و فروخت کر رہا ہو تو اس صورت میں اس کا ’پرنسیپل‘ ختم ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار اس کی مخالفت کر رہے ہیں خاص طور پر وہ جو ’فاسٹ ٹریڈ‘ کرتے ہیں۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

پاکستان میں کرپٹوکرنسی کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

پاکستان میں کرپٹو والیٹ ایپس مثلاً ’بائنانس‘ کی مقبولیت سے یہ تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہزاروں افراد کرپٹو تجارت سے وابستہ ہیں۔ لیکن پاکستانی حکام کا کرپٹو کرنسی کے حوالے سے مؤقف قدرے مبہم رہا ہے۔

سنہ 2018 میں سٹیٹ بینک نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں اس بات کو باور کروایا گیا تھا کہ کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اس اعلامیے میں بینکوں کو تجویز کیا گیا تھا کہ وہ اپنے صارفین کو کرپٹو کرنسی میں لین دین کی سہولت فراہم نہ کریں۔

اکتوبر 2020 میں قومی اسمبلی میں ایک توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ کرپٹو کرنسی ایک نئی ٹیکنالوجی ہے، سٹیٹ بینک اس سلسلے میں کام کر رہا ہے، اور ہم نئی ٹیکنالوجی کے لیے دراوزے بند نہیں کر سکتے۔ علی محمد خان نے کہا تھا کہ ملک نے کرپٹو کرنسی کی طرف جانا تو ہے، نئی کرنسی کے معاملے پر سٹیٹ بینک محتاط ہے اور خواہش کے کہ اس معاملے میں احتیاط سے پیشرفت ہو۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا کی جانب سے کرپٹو کرنسی کی مائننگ کا سیٹ اپ لگانے اور اس حوالے سے ایک کمیٹی بنانے کی خبریں بھی میڈیا میں آئیں۔

گذشتہ سال گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے خبر رساں ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ادارہ کرپٹو کرنسی پر تحقیق کر رہا ہے۔

کرپٹو کرنسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم سٹیٹ بینک کے مؤقف کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تو بینک نے سندھ ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ کرپٹوکرنسی ’غیر قانونی‘ نہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے گذشتہ سال حکومتِ پاکستان کو تین ماہ میں کرپٹو کرنسی پر قانونی سازی کا حکم دیا تھا۔

ساتھ ہی سندھ ہائی کورٹ نے ایک کمیٹی قائم کرنے کے احکامات جاری کیے جس نے حال ہی میں تجویز دی ہے کہ کرپٹو کرنسی کو ملک میں مکمل طور پر ممنوع قرار دیا جانا چاہیے۔

ادھر حال ہی میں عالمی مالیاتی ادارے ایف آئی اے نے بھی اعلان کیا ہے انھیں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ملک میں متعدد جعلی ایپس کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ایف آئی اے کا تخمینہ ہے کہ ان جعلی ایپس کی مدد سے ملک میں 100 ملین ڈالر کا فراڈ کیا جا چکا ہے۔ ایف آئی اے نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو بھی 1600 کرپٹو پلیٹ فارم تک رسائی روکنے کے لیے کہا ہے۔

اس لیے ابھی واضح نہیں ہے کہ کیا پاکستانی حکومت کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دینا چاہتی ہے اور اس حوالے تحقیق اور قانون سازی کر رہی ہے یا پھر پاکستانی حکام نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اسے بند کر دیا جائے۔

کیا پاکستان بھی کرپٹو کرنسی پر ٹیکس لگا سکتا ہے؟

پاکستان میں حکام کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے جو رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی، اس میں کہا گیا تھا کہ اس میں فراڈ کے خطرے کی وجہ سے اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔

تاہم کرپٹو کرنسی کے لین دین کا کام تاجروں کو سکھانے والی کمپنی ’کرپٹو برادرز‘ کے سید عون کا کہنا ہے کہ پاکستان بھی انڈیا جیسا اقدام لے سکتا ہے۔

کرپٹو کرنسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا کہ ‘ٹیکس لگانے سے پاکستان کو دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو یہ کہ جو لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہماری حکومت اسے قانونی شکل نہیں دے رہی، ان کا اعتراض ختم ہو جائے گا۔ دوسرا یہ کہ ریگولیٹری فریم ورک میں آنے سے جو فراڈ ہو رہا ہے، وہ ختم ہو جائے گا۔‘

سید عون کہتے ہیں کہ اگر اس پر ٹیکس لگا دیا جاتا ہے تو جتنی بڑی ایکسچینجز ہیں، ان کو حکومتِ پاکستان ایک دستاویز دے سکتی ہے کہ جو بھی کوئی پاکستانی شہری آپ کے پاس اکاؤنٹ کھولے تو ہمیں فلاں فلاں معلومات فراہم کی جائیں۔ ‘یہ دستاویز پھر صارفین سے پُر کروا کر ایکسچینجز حکومت کے ساتھ شیئر کر سکتی ہیں۔‘

‘پھر اگر کسی شہری کے اکاؤنٹ میں ظاہر کردہ اثاثہ جات سے زیادہ رقم منتقل کی جاتی ہے تو ایکسچینج حکومت کو بتا سکتی ہے کہ آپ کا فلاں شہری یا تو ٹیکس چوری کر رہا ہے یا فراڈ کر رہا ہے۔‘

مگر حکومتِ پاکستان کا اس حوالے سے ایک اور خدشہ ہو سکتا ہے کہ اس سے پاکستان سے رقوم تیزی سے باہر جانا شروع جائیں گی اور حکومت اس ‘کیپیٹل آؤٹ فلو‘ کو روک نہیں سکے گی۔

سید عون کہتے ہیں کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروائے جیسا کہ انڈیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘ابھی آپ کو فکر یہی ہے کہ کرپٹو کے لیے ڈالر خریدنا پڑتا ہے اور ڈالر ملک سے باہر جاتے ہیں۔ اگر آپ کا اپنا ایک مستحکم ڈیجیٹل کوائن ہو جس کی قیمت پاکستانی روپے کہ ساتھ منسلک ہو تو آپ یہ کر سکتے ہیں کہ جو پاکستانی شہری کرپٹو کرنسی کا لین دن کرنا چاہیے ہیں وہ یہ کوائن خریدیں اور پھر آگے اس سے دوسری کرنسی خریدیں۔۔۔ (اور) پاکستانی روپے کے کوائن میں تبدیل کر کے پیسے حاصل کیے جا سکیں۔‘

انھوں نے اعتراف کیا کہ اس سے آپ کیپیٹل آؤٹ فلو کو مکمل طور پر نہیں روک سکتے مگر اس میں کافی کمی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ اس سے ڈالروں کی مانگ کم ہو گی یعنی کرپٹو کرنسی کی وجہ سے آپ کی کرنسی پر دباؤ نہیں پڑے گا اور آپ کا روپیہ قدرے مستحکم رہے گا۔

سید عون کا کہنا تھا کہ ایک اور سبق جو پاکستانی حکومت کو انڈیا سے سیکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ٹیکس لگانے سے آپ صرف کرپٹو کرنسی کی تجارت کو قانونی حیثیت دے رہے ہیں، بطور کرنسی اس کے استعمال کو نہیں۔

’یعنی آپ بطور ایک ڈیجیٹل اثاثہ اس کے لین دین کی اجازت دے رہے ہیں، نہ کہ آپ اس بات کی اجازت دے رہے ہیں کہ کوئی اس کی مدد سے خریداری کرے۔ انڈیا نے بھی اسے بطور کرنسی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔‘