کرپٹو کرنسی پر بنائی گئی بی بی سی کی رپورٹ کی مدد سے فراڈ کیسے کیا گیا؟

- مصنف, جیمز کلیٹن
- عہدہ, شمالی امریکہ، ٹیکنالوجی رپورٹر
چیرن جیوی اپنے چھوٹے سے خاندان کے ساتھ حیدرآباد میں رہتے ہیں۔ وہ ایک خوش مزاج شخص معلوم ہوتے ہیں جو کہ مسکراتے رہتے ہیں۔ وہ ذہین بھی ہیں اور ایک انڈین ٹیکنالوجی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔
وہ ایسے شخص معلوم ہوتے ہیں جن کا انٹرنیٹ پر کسی فراڈ کا نشانہ بننے کا امکان کافی کم معلوم ہوتا ہے۔
مگر اکتوبر کے مہینے میں وہ ایک ایسے ہی فراڈ کا نشانہ بنے اور ان کی تمام تر جمع پونجھی (تقریباً چار ہزار امریکی ڈالر) چلی گئی۔
‘میں انتہائی پریشان تھا۔ میں جیسے گم تھا۔ میں نے اپنی بیوی کو بتایا اور ان کہنا تھا کہ ‘میرا خیال تھا کہ تم ذہین ہو، تم نے کتنا پیسہ کھویا ہے؟‘
انھوں نے اکتوبر کے آخر میں مجھے میسج کیا اور بتایا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ مگر وہ صرف مجھے یہ نہیں بتا رہے تھے کہ ان کے ساتھ کیا فراڈ ہوا ہے، وہ مجھے تنبیہ بھی کر رہے تھے۔ کیونکہ اس فراڈ میں ایک اہم عنصر میری رپورٹ کو موڑ توڑ کر پیش کرنا تھا۔
اس سال کے آغاز میں مجھے ریاست نیویارک میں ایک بٹ کوائن مائن تک رسائی دی گئی تھی اور میں نے ایک رپورٹ بنائی کہ کیسے بٹ کوائن کاربن اخراج میں بڑا حصہ ڈالتا ہے۔
مگر چیرن جیوی نے میری بنائی ہوئی وہ رپورٹ نہیں دیکھی تھی۔
چیرن جیوی نے 18 اکتوبر کو ایک ٹیلی گرام چیینل میں شمولیت اختیار کی تھی جس کا نام تھا بی ٹو سی مائننگ۔ ٹیلی گرام ایک انیکریپٹڈ میسجنگ سروس ہے جیسے کہ واٹس ایپ، تاہم اس میں چینل ہوتے ہیں جو کہ فیس بک جیسے لگتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی ٹو سی مائننگ چینل کے مالک نے دعویٰ کیا کہ وہ روس میں ایک بٹ کوائن مائن کی مالک کمپنی کا حصہ ہیں۔
اور اس چینل میں سب سے اوپر میری رپورٹ لگائی تھی۔ مگر اصل میں وہ میری رپورٹ کا ایک تبدیل کیا گیا ورژن تھا۔ اس کو تبدیل کر کے ماحولیاتی تبدیلی کے معاملات پر بات چیت کو نکال دیا گیا تھا اور ایسا ظاہر کیا گیا تھا کہ میں جس مائن کی بات کر رہا ہوں، چینل اس کی مالک ہے۔
چیرن جیوی کہتے ہیں کہ ‘میرا خیال تھا کہ یہ انتہائی حقیقی ہے۔ مجھے یہ اسی لیے پرکشش لگی۔‘
وہ مجھے بتاتے ہیں کہ ‘میرا خیال تھا کہ آپ نے اس کمپنی کا دورہ کیا ہے۔ میں بچپن سے بی بی سی دیکھ رہا ہوں اور اس کی کھ سے خوب واقف ہوں۔‘
چینل میں اس کے علاوہ ویڈیوز بھی تھیں، جن میں خوش صارفین کو دیکھایا گیا تھا جنھوں نے پیسے بنائے تھے۔
چیرن جیوی کو یہ سب کچھ انتہائی اچھا اور حقیقی معلوم ہوا۔ کمپنی کا دعویٰ تھا کہ وہ صارفین کی درخواست پر کریپٹو کرنسی مائن کر کے انھیں دیتی تھی جس سے انھیں زبردست منافع ملتا تھا۔
چیرن جیوی بتاتے ہیں کہ کمپنی کا کہنا تھا کہ ‘وہ 24 گھنٹے کے لیے مائن کرتے تھے اور کرنسی کی بنیاد پر آپ کو 20 سے 40 فیصد فائدہ ہو سکتا تھا۔‘
اس ٹیلی گرام گروپ میں تقریباً 3000 ممبران تھے۔ چیرن جیوی نے سوچا کہ اتنے لوگ تو غلط نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس میں پیسے ڈال کر دیکھتے ہیں۔
انھوں نے اس چینل کے منتظم سے علیحدہ بات چیت شروع کر دی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ بی ٹو سی مائننگ کے چیف ایگزیکیٹوو ولادمیر پیوسکی ہیں۔
ولادمیر پیوسکی کوئی اصل انسان نہیں ہے۔ مگر ہم اس پر بعد میں بات کرتے ہیں۔
ولادمیر پیوسکی نے چیرن جیوی کو کہا کہ اگر وہ 160 ڈالر بھیجیں گے تو انھیں 24 گھنٹے ایک مخصوص کرپٹو کرنسی مائن کر کے دی جائے گی۔
24 گھنٹے بعد ان کی سرمایہ کاری سود سمیت لوٹا دی گئی۔ چیرن جیوی نے 40 ڈالر منافع کمایا تھا۔ انھیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ کتنا آسان ہے۔
چیرن جیوی ایک فلیٹ میں رہتے ہیں۔ اور ان کی زندگی آرام دہ تھی۔ مگر ان کے خواب بڑے تھے۔ وہ ایک مکان میں رہنا چاہتے تھے۔ وہ اپنے بچوں کو یویورسٹی میں ڈالنا چاہتے تھے۔
اور ان کے یہ خواب قدرے ناممکن سے معلوم ہوتے تھے۔ مگر اب ان کے پاس آمدنی کا ایک دوسرا ذریعہ آ گیا تھا۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپ زیادہ پیسے ڈالیں گے۔
اس مرتبہ انھوں نے ولادمیر پیوسکی کو 250 ڈالر دیے تاکہ وہ ٹرون نامی کرپٹو کرنسی میں ڈالیں۔ انھیں توقع تھی کہ انھیں کافی منافع ملے گا۔
مگر جیسے ہی مائنبگ شروع ہوئی، ولادمیر پیوسکی نے ایک بری خبر سنا دی۔ مائنبگ میں کچھ مسائل آ رہے تھے اور انھیں ٹھیک کرنے کے لیے انھیں پیسے چاہیے تھے۔
اور اگر چیرن نے پیسے نہ دیے تو ہو سکتا ہے کہ چیرن کی رقم کھو جائے۔ چیرن کہتے ہیں کہ میں اس کے جھانسے میں آ گیا۔
اور یہ مطالبہ آخری مطالبہ نہیں تھا۔ مسائل آتے رہے۔ مائنبگ جاری رکھنے کے لیے مزید پیسے درکار تھے۔ چیرن کو اپنے ابتدائی پیسے بچانے کے لیے انھیں اور پیسے ڈالنے پڑ رہے تھے۔

چیرن جیوی گھبرانے لگے تھے۔
مگر اس وقت تک وہ وہ بہت زیادہ پیسے ڈال چکے تھے۔ وہ اپنی ساری جمع پونچھی ڈال چکے تھے اور اب اپنے خاندان سے پیسے ادھار لے رہے تھے۔ لیکن پھر بھی، انھوں نے ایک آخری مرتبہ پیسے بھیجے اور دعا کی کہ یہ کاروبار حقیقی ہو۔
مگر ایسا نہیں تھا۔
کتاب کانفیڈنٹ سائبر سیکیورٹی کی مصنفہ جیسیکا بارکر کہتی ہیں ‘جو پیسے چلے گئے، وقت کے دباؤ، اچھا بننا اور پھر برا بننا یہ سب فراڈ کے پرانے طریقے ہیں۔‘
بارکر کا کہنا ہے کہ ٹیلیگرام کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن، اور اس کے بڑھتے ہوئے صارفین کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ سکیمرز اس پلیٹ فارم کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
اس گروپ میں کے بارے میں تفتیش کرتے ہوئے مجھے ایک اور آدمی ملا جس کو دھوکہ دیا گیا تھا۔ اسے مجھ سے بات کرنے میں تھوڑا وقت لگایا، اور اس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسا کیا۔
وہ ایک طالب علم ہے جس کی عمر 19 برس ہے اور وہ بھی انڈیا سے ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی بھر کی بچت کھو دی ہے۔
وہ ابتدائی طور پر صرف 15 ڈالر کے ساتھ کم پیمانے پر مائننگ کرنا چاہتا تھا۔
ولادمیر پیوسکی نے ان پر مزید سرمایہ کاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ پیوسکی کہتا تھا ‘کیا آپ خاندان اور دوستوں سے پیسے نہیں لے سکتے؟‘
آخر کار اس طالب علم نے ایسا ہی کیا۔ اس نے اپنے پیاروں سے وعدے کیے کہ وہ انھیں ان کے روپوں کے بدلے بڑا منافع دے گا۔
لیکن پھر وہ مطالبے آنے لگے کہ صرف ایک بار اور پیسے بھیج دو۔ اگر اس نے ایک مقررہ مدت کے اندر ادائیگی نہیں کی تو اس کی پوری سرمایہ کاری ضبط کر لی جائے گی۔
اس نے مزید رقم ادھار لی اور آخرکار پیوسکی کو 400 ڈالر دے دیے جو کہ اس کے لیے ایک بہت بڑی رقم ہے۔
اس طالب علم کو احساس ہونے لگا کہ یہ ایک فراڈ تھا۔ گھبرا کر وہ پیوسکی سے التجا کرنے لگا کہ اسے اس کے پیسے واپس کر دے۔
آخر میں، پیوسکی نے اس سے کہا، جیسے یہ کوئی تاوان کی ویڈیو ہو، کہ وہ اس کے لیے مخصوص خدمات انجام دے اور یہ سروس یہ تھی کہ وہ طالب علم اپنا ایک کلپ انٹرنیٹ پر ڈالے کہ وہ پیوسکی کی سروس سے کتنا خوش ہے۔

اس سے یہ بتانے میں مدد ملتی ہے کہ گروپ چینل پر اتنی مثبت ویڈیوز کیوں تھیں: شاید ان کو زبردستی بنایا گیا تھا۔
طالب علم نے مجھے بتایا کہ اس آخری بات چیت کے بعد اس نے خود کشی کرنے کے بارے میں سوچا۔
اس سکینڈل کے بارے میں میرے ذہن میں بہت سے سوالات تھے، لیکن سب سے واضح سوال یہ تھا: ودمیر پیوسکی کون ہے؟
میں نے سب سے پہلے اس کمپنی سے شروعات کی جسے ودمیر پیوسکی نے چلانے کا دعویٰ کیا تھا، بی ٹو سی مائننگ۔ یہ ایک حقیقی کمپنی ہے، جو قزاقستان کے شہر الماتی میں واقع ہے۔ لیکن یہ ودمیر پیوسکی کی نہیں ہے۔
کمپنی گاہکوں کے لیے بٹ کوائن کی مائننگ کا سامان بناتی ہے اور ان مشینوں کی مرمت بھی کرتی ہے۔ ان کی کچھ تصاویر اور برانڈنگ ٹیلی گرام چینل پر استعمال کی گئی تھی۔
کمپنی میں کام کرنے والے ولادیمیر لیگائی نے مجھے بتایا کہ ‘ہمارے پاس کوئی ٹیلیگرام چینل نہیں ہے اور ہم کوئی کرپٹو کرنسی فروخت نہیں کرتے ہیں۔‘
فراڈ کرنے والوں نے سوشل میڈیا سے لی گئی ان تصویر کو استعمال کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ ان کی مائننگ کا حصہ ہے۔ انھوں نے بی ٹو سی کا لوگو اور نام بھی استعمال کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ولادمیر پیوسکی کے بارے میں کبھی نہیں سنا تھا۔ یہ ہو ممکن ہے کیونکہ ودمیر پیوسکی ایک حقیقی نام نہیں ہے۔
ٹیلی گرام چینل پر استعمال ہونے والی ولادمیر پیوسکی کی تصویریں دراصل ولادیمیر پیوسکی نامی شخص کی ہیں۔
ولادمیر پیوسکی ایک حقیقی شخص ہے۔ وہ 34 سال کے ہیں اور ماسکو سے ہیں۔ وہ ایک کرپٹو انوسٹر ہیں اور انسٹاگرام پر ایک ملین سے زیادہ فالوورز ہیں۔ وہ باقاعدگی سے کرپٹو مائننگ کے آلات کے سامنے کھڑے اپنی تصاویر شیئر کرتے ہیں۔
میں آخر کار ان سے بات کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
ولادیمیر پیوسکی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی شناخت بھی دھوکے بازوں نے چوری کی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘سکیمرز نے میری تصاویر انسٹاگرام سے لی ہیں۔‘ مگر پھر تو ولادیمیر پیوسکی کی شناخت کس نے چوری کی؟

اس فراڈ کے دونوں متاثرین جن سے میں نے بات کی، انھوں نے مختلف کرپٹو کرنسیوں کا استعمال کرتے ہوئے پیوسکی کو پیسے بھیجے تھے۔
ایسا کرنے کے لیے، انہیں رقم سکیمر کے ڈیجیٹل بٹوے میں بھیجنے کی ضرورت تھی، جس کا ایک مخصوص شناختی نمبر ہوتا ہے۔
فرینک (فرضی نام) وہیل الرٹ کے لیے کام کرتے ہیں جو کہ، ایک ایسی تنظیم ہے جو کرپٹو لین دین کی نگرانی کرتی ہے۔ وہ کرپٹو فراڈ کی نگرانی اور تجزیہ کرنے کے ماہر ہیں۔ فرینک کہتے ہیں کہ ‘یہ لوگ پیشہ ور نہیں ہیں۔‘
انھوں نے ایک ہی ڈیجیٹل بٹوے کو بار بار استعمال کیا تھا، تقریباً 60 ادائیگیاں صرف ایک اکاؤنٹ میں کی جا رہی تھیں۔
مجموعی طور پر، انھوں نے یہ دیکھا کہ گروپ کی طرف سے 25 ہزار ڈالر کے دھوکے کیے گئے ہیں۔ یہ رقم اس سے زیادہ ہونے کا امکان ہے مگر فرینک کو شواہد نہیں مل سکے۔
یہ دھوکہ باز پیسہ تو کما رہے تھے لیکن وہ انتے ہوشیار نہیں تھے۔ گروپ نے اس تمام کرپٹو کرنسی کو کرپٹو ایکسچینجز میں ڈال دیا جہاں ان کرنسیوں کو نقد رقم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ان دو ایکسچینجز میں سے دو انڈیا میں تھیں۔ فرینک کہتے ہیں کہ ‘روس سے کوئی بھی روپوں میں کرپٹو کی تجارت کے لیے انڈیا کی ایکسچینج میں کیوں منتقل کرے گا؟ میرا اندازہ ہے کہ یہ دھوکہ باز روس سے نہیں بلکہ انڈیا سے ہیں۔‘
‘پیوسکی یقینی طور پر ایک شخص نہیں ہے۔ یہ ایک منظم جرائم پیشہ گروہ ہے۔‘

چیرن جیوی ہمیشہ یہی سمجھتا رہا کہ وہ کسی روسی سے بات کر رہا ہے۔ اس کی باتیں اس قدر قابلِ یقین تھیں کہ اب بھی جب آپ اسے کہتے ہیں کہ پیوسکی ایک حقیقی شخص نہیں ہے، تو وہ اس پر بالکل یقین نہیں کر سکتے۔
یہ فراڈ کرنے والوں کا انڈیا سے ہونے کا امکان متاثرین کے لیے اچھی خبر ہے۔
فرینک کہتے ہیں ‘کہنے کو ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ انڈین حکام ان لوگوں کو تلاش نہ کر سکیں اور رقم واپس کر دی جائے۔‘
فرینک نے جمع کی گئی معلومات کو انڈین وزارت داخلہ کے قومی سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا ہے۔
اس قسم کے فراڈ متاثرین اور خاندانوں پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اور جس پیمانے پر وہ کام کرتے ہیں وہ وسیع ہے۔
جس دن میں نے فرینک کا انٹرویو کیا، اس نے ذاتی طور پر دیکھا تھا کہ 58 ہزار ایک مشتبہ کرپٹو بٹوے کو بھیجے جا رہے ہیں۔ یہ صنعتی پیمانے پر دھوکہ دہی ہے۔
چیرن جیوی کو اب بھی یقین نہیں آرہا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ پانچ روزہ مائنگ کے عمل کے دوران وہ اس طرح کے تناؤ کا شکار تھے، وہ کہتے ہیں کہ جب انھیں آخر کار یہ احساس ہوا کہ یہ فراڈ ہے تو اسے تقریباً سکون ملا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘میری بیوی نے مجھے معاف کر دیا ہے۔‘ مگر خاندان اور دوست اتنے اچھے نہیں ہوتے۔
جہاں تک اس طالب علم کا تعلق ہے، وہ کہتا ہے کہ وہ اب خودکشی نہیں کر رہا، لیکن اس نے ان لوگوں کو نہیں بتایا جن سے اس نے قرض لیا تھا کہ اس نے ان کے پیسے کھو دیے ہیں۔
اب وہ شام کو کام کر کے پیسے کمانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ انہیں واپس کر سکے۔ وہ کہتا ہے کہ اس سے اس کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے، لیکن وہ کیا کر سکتا ہے؟ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔











