آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دنیا بھر میں یوگا ڈے: یوگا کی ’آٹھ پوزیشنز‘ جو نجات کے آٹھ دروازے کھول دیں
آج آٹھواں عالمی یوگا ڈے 21 جون کو دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے۔ پہلا یوگا ڈے 21 جون 2015 کو منایا گیا تھا۔
عالمی سطح پر ’یومِ یوگا‘ منانے کی تجویز پہلی بار انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 27 ستمبر سنہ 2014 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اپنے خطاب میں پیش کی تھی۔
اس کے بعد اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں ایک تجویز کا اعلان کیا اور 21 جون کو عالمی یوگا ڈے منانے کا اعلان ہوا۔
یوگا کی آٹھ پوزیشنز میں سے ایک پرانایام ہے جس میں سانس روکنے اور باہر نکالنے پر توجہ رکھنی ہوتی ہے۔ یوگا کی آٹھ پوزیشنز کو مجموعی طور پر ’اشٹانگ یوگا‘ کہا جاتا ہے۔
یہ آٹھ پوزیشنز کیا ہیں؟
یوگا کا مطلب ہے جڑنا یا ہم آہنگ ہونا۔ ذہن کو اپنے قابو میں کرنا اور جبلتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا۔ صدیوں قبل یوگا کے اولین استاد مہارشی پتنجلی نے نجات کے آٹھ دروازے بتائے جنھیں آج 'اشٹانگ یوگا' کہتے ہیں۔
موجودہ دور میں ہم اشٹانگ یوگا کے صرف کچھ حصوں جیسے آسن، پرانایام اور دھیان یا مراقبہ کو ہی جاننے کے قابل ہوئے ہیں۔ آج ہم پتنجلی کے یوگا کی آٹھ پوزیشنز کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
1۔ یم
یم یا یما لفظ سنیم سے ماخوذ ہے جس کا مطلب تحمل یا مہذب طرز عمل اور سلوک ہے۔ اس کے پانچ حصے ہیں:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
- اہنسا یعنی عدم تشدد: کسی کو دماغ، لفظ اور اعمال سے نقصان نہ پہنچانا
- ستیہ یعنی سچائی: ابہام سے بالاتر حقیقت کا علم
- استیے یعنی نقل یا چوری کی کمی
- برہمچریہ یعنی شعور کو برہما یا حقیقی عنصر سے ہم آہنگ رکھنا
- اپریگرہ یعنی اکھٹا یا جمع کرنے میں کمی
2۔ نیم یا اصول
اس کے بھی پانچ حصے ہیں:
- شوچ- داخلی اور بیرونی صفائی
- سنتوش- قناعت یعنی جتنا ہے وہی کافی ہے
- تپ- سخت محنت یعنی خود کو تپا کر تکلیف کو جلانا
- سوادھیائے- روح اور خدا کو سمجھنے کے لیے مطالعہ کرنا
- ایشور پرنیدھان- معبود کی تسلیمِ رضا، یا انا کا ترک کرنا
3۔ آسن
آسن یعنی جسم کی مختلف پوزیشن، یوگا کا وہ حصہ ہے جو موجودہ دور میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔
آسن صرف جسمانی ورزش یا لچک پن نہیں ہے۔
مہارشی پتنجلی نے اس حالت سے متعلق کہا تھا کہ جسم کے استحکام اور ذہن کے نچلے حصے میں خوشی اور آسانی آسن ہیں۔ اگر آپ ان دو حالتوں کو حاصل نہیں کر پاتے ہیں، تو آپ آسن میں نہیں ہیں۔
4۔ پرانایام
پرانایام جسم میں درست انداز میں زندگی کی طاقت کو فروغ دینے کا نام ہے۔ یوگا میں سانس لینے اور سانس چھوڑنے کے عمل میں چوکس رہنے کو پرانایام بتایا گیا ہے۔
ہم جسم اور دماغ دونوں کو سانس کی ڈور سے قابو میں رکھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ہٹھ یوگا کتاب میں کہا گیا ہے کہ سانس کے تیز ہونے سے دل و دماغ میں اشتعال آتا ہے جبکہ سانس کو ہم آہنگ کرنے سے جسم و ذہن میں سکون پیدا ہوتا ہے۔
سدھارتھ یعنی گوتم بدھ نے سانس کے ذریعے ہی علم کی روشنی حاصل کی۔ جبکہ گورو نانک نے ہر سانس کی حفاظت کو خدا سے جڑنے کی کلید قرار دیا۔
5۔ پرتیہار یعنی حواس کی غذائیت
ہمارے پاس 11 حواس ہیں۔ پانچ علم کے حواس اور پانچ عمل کے حواس اور ایک دماغ۔
پرتیہار لفظ پرتی یا من اور اہار یعنی غذا سے بنا ہے، یعنی وہ غذا جن سے حواس لطف اندوز ہوں تاکہ اسے اصل ماخذ (خود) کی طرف موڑ سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جو شخص کسی کام میں سرگرم ہے وہ اس میں توانائی خرچ کرتا ہے۔
حواس کی مستقل دوڑ ہماری توانائی کو ختم کرتی ہے۔ حواس کی دوڑ کو ترک کرنا اور خوش رہنا پرتیہار ہے۔
6۔ دھارنا یعنی ٹکانا
من یا سوچ کو ایک جگہ پر مرتکز کرنا ہی دھارنا ہے۔
ان دنوں ہم اکثر دھارنا کی مشق کو دھیان یا مراقبہ کے طور پر سمجھتے ہیں۔ دھارنا ذہن کو مرکوز کرنے کی مشق ہے۔
اس کی بہت سی شکلیں ہیں جیسے سانس پر توجہ کسی روشنی پر توجہ یا کسی نقطے پر توجہ مرکوز کرنا۔
دھارنا دراصل مراقبہ سے پہلے کی صورتحال ہے۔ دھارنا دماغ میں خیالات کے سیلاب کو کنٹرول کرتی ہے اور ہمیں سکون دیتی ہے۔
7۔ دھیان یعنی مراقبہ
یوگا سوتر کا کہنا ہے کہ جب دھارنا مستقل طور پر بنی رہتی ہے تو انسان مراقبے میں داخل ہو جاتا ہے۔
یہ واضح ہے کہ ہم مراقبہ نہیں کرسکتے لیکن یہ واقع ہوتا ہے۔
مراقبے کے نام پر جو بھی طریقہ یا عمل ہم اپناتے ہیں وہ ہمیں صرف یکسوئی کی طرف لے جاتا ہے۔
دھیان یا مراقبہ وہ حالت ہے جہاں کرنے والا، طریقہ یا عمل ہر چیز ختم ہو جاتی ہے اور صرف خالی پن رہتا ہے۔
جیسا کہ ہم نیند سے پہلے سونے کی تیاری کرتے ہیں، لیکن یہ تیاری نیند کی ضمانت نہیں ہے، نیند اسی سلسلے میں اچانک آجاتی ہے۔
8۔ سمادھی یعنی روح اور جسم کی ہم آہنگی
لفظ سمادھی سم یا مساوی سے آیا ہے۔ یوگا کی کتاب میں انسان اور فوق الانسان (الہی) کے درمیان مساوات کی حالت سمادھی کہلاتی ہے۔
مہارشی پتنجلی کا کہنا ہے کہ جب یوگی اپنی اصل شکل میں جذب ہوجاتا ہے اس وقت متلاشی کی حالت سمادھی کہلاتی ہے۔
سمادھی یوگا کی مکمل حالت کا مظہر ہے۔
ہندی کے شاعر کبیر اس حالت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:
'جب جب ڈولوں تب تب پریکرما، جو جو کروں سو سو پوجا'۔ یعنی جب جب ہلوں تب تب طواف اور جو جو کروں وہ سب عبادت۔
بدھ نے اسے ہی نروانا یعنی نجات اور مہاویر نے اسے کیولیہ کہا۔