’ہم پاکستانی ڈراموں سے محروم ہوگئے‘: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں وی پی این کے استعمال پر پابندی اور گرفتاریاں

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، سرینگر

تاریخ، ثقافت اور سماجیات کی ماہر ڈاکٹر شگفتہ خالد کے لیے وی پی این انٹرنیٹ پر پاکستانی ڈراموں اور انڈیا اور پاکستان سے متعلق خبریں دیکھنے کے لیے ایک چابی کا کام کرتا تھا۔

گذشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مختصر جنگ کے بعد انڈیا کی حکومت نے ملک کے شہریوں کے لیے پاکستانی ڈراموں اور خبروں تک رسائی بند کر دی تھی۔

عالمی رسالوں کے لئے تحقیقی مقالے لکھنے والی ڈاکٹر شگفتہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’میرا کام مختلف کلچرز میں رونما ہونے والی تبدیلی کا مشاہدہ کرنا ہے۔ برصغیر میں کتابوں سے زیادہ مؤثر مواد فلموں اور ڈراموں سے حاصل ہوتا ہے، جب جنگ ہوئی اور پاکستانی مواد دیکھنے پر پابندی لگ گئی تو میں وی پی این کے ذریعے پاکستانی مواد دیکھتی تھی لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہے۔‘

واضح رہے ’ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک‘ یا وی پی این ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو آئی پی ایڈریس تبدیل کرکے کسی دوسرے ملک کا سرور استعمال کرتی ہے تاکہ مقامی حکام انٹرنیٹ پر کسی سرگرمی کو ٹریک نہ کرسکیں۔

انڈیا میں وی پی این کا استعمال قانونی ہے اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم رواں برس جنوری کے آغاز میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے ایک حکمنامہ جاری کیا، جس میں وی پی این کے استعمال پر دو ماہ کے لئے پابندی کا اعلان کیا گیا ہے۔

حکمنامے کے مطابق ’مشاہدے میں آیا ہے کہ وی پی این خفیہ ڈیٹا کی ترسیل کرسکتا ہے، آئی پی ایڈریس تبدیل کرتا ہے اور ویب سائٹس کے استعمال کے لئے اہم سیکورٹی بندشوں کو عبور کرکے حساس معلومات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘

حکمنامے میں پولیس کو ہدایت دی گئی تھی کہ پابندی کو سختی سے نافذ کرے۔ پولیس نے اس حکمنامے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایسے کم از کم 100 افراد کو بھی حراست میں رکھا تھا، جن کے موبائل فونز پر وی پی این موجود تھا۔

’تفریح ہی نہیں روزگار بھی متاثر ہوا‘

واضح رہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کو اکثر وی پی این کی ضرورت پڑتی ہے۔

حیدرآباد کی ایک دواساز کمپنی کے لیے اپنے گھر سے ہی کام کرنے والے مدثر مقبول کہتے ہیں کہ ’کمپنی کے ڈیش بورڈ میں داخل ہونے کے لئے بنیادی ضابطہ ہے کہ ہمیں وی پی این کا استعمال کرنا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ کمپنی کے ای میل تک رسائی کے لئے بھی وی پی این بے حد ضروری ہے، لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔‘

’جو لوگ پاکستانی مواد تفریح کے لئے دیکھتے ہیں وہ تو اس پالیسی سے متاثر ہیں ہی، لیکن جن لوگوں کا روزگار وی پی این سے جُڑا ہے ان کی ملازمتیں بھی خطرےمیں پڑ گئی ہیں۔‘

وی پی این پر پابندی کے قانونی جواز پر بھی بعض حلقے سوال اُٹھاتے ہیں۔

معروف وکیل ارسلان قادر کہتے ہیں کہ ’انڈیا کے آئی ٹی ایکٹ اور آئی ٹی رُولز میں اس طرح کی کوئی شِق نہیں ہے کہ وی پی این پر پابندی عائد کی جائے۔ ظاہر ہے یہ پابندی نہ صرف لوگوں کے بنیادی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی سلب کرتی ہے بلکہ خود انڈیا کے ہی اپنے قانون کی خلاف ورزی بھی ہے۔‘

’اُس پار کا کچھ معلوم نہیں کیا ہورہا ہے‘

انڈیا کی معروف سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ایک ہی سیاسی، ثقافتی اور تمدنی خمیر کی پیداوار ہیں۔

’پاکستان میں بھی ایسے کارکنان ہیں جو حکومتی جبر یا انتہاپسند قوّتوں کے خلاف ایسے ہی سرگرم ہیں جس طرح ہم لوگ یہاں آر ایس ایس اور بی جے پی کی اُن پالیسیوں اور حرکتوں کے خلاف بولتے ہیں جو اقلیتوں کو متاثر کرتی ہیں۔‘

’اب جب آپ زبردستی پڑوس کی ساری معلومات پر قدغن لگائیں گے، تو اُس پار کا کچھ معلوم نہیں ہوگا کہ کیا ہورہا ہے۔‘

شبنم ہاشمی نے مزید بتایا کہ ’آرٹ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، خود شمالی انڈیا میں پاکستان کے سب ہی ڈرامے بے حد مقبول ہیں، یہاں تک کہ اب خواتین کے دیسی بول چال پر بھی ان ڈراموں کی وجہ سے اُردو کی چاشنی نظر آتی ہے۔‘

گھریلو خواتین بھی وی پی این پر پابندی کے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی رہائشی تین بچوں کی والدہ عادلہ رشید کہتی ہیں ’پچھلے سال مئی میں جنگ کے بعد اچانک جیو ٹی وی اور ہم ٹی وی بند ہوگیا اور ہم پاکستانی ڈراموں سے محروم ہوگئے۔‘

’چند دن بعد میری بیٹی نے میرے فون پر وی پی این ڈاون لوڈ کیا تو میری شامیں اچھے سے گزرنے لگیں۔ لیکن اب اس پابندی کے بعد جب پولیس راہ چلتے لوگوں کے فون چیک کرنے لگی تو میں نے وی پی این ہٹادیا۔‘

عادلہ نے مزید کہا کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر اور ملک کے بیشتر شمالی شہروں میں ہم سفر، زندگی گلزار ہے، داستان، شہرِ اجنبی، میرے پاس تم ہو، خانی، یقین کا سفر، صنفِ آہن، عشق جلیبی، میری زندگی ہے توُ، جفا اور چپکے چپکے جیسے پاکستانی ڈارمے سب ہی خواتین پسند کرتی ہیں۔

’رشتہ داروں کے ساتھ ہم ان ڈراموں کے مناظر اور کرداروں کی صورتحال پر اس طرح گفتگو کرتے ہیں جیسے ہم اپنے ہی عزیزوں کی باتیں کررہے ہوں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ فواد خان، ماہرہ اور دوسرے اداکار یہاں نہایت مقبول ہیں۔

’لڑکیاں خاص طور پر زندگی گلزار ہے کے کشف نامی کردار کو بے حد پسند کرتی ہیں۔‘

پابندی جنوری اور فروری میں ہی کیوں؟

جینیوا میں مقیم ’پروٹون وی پی این‘ کے مالک ڈیوِڈ پیٹرسن نے پابندی کے فوراً بعد ایکس پر اس مواد تک رسائی کی کچھ ترکیبیں تجویز کیں تو سوشل میڈیا پر انڈین صارفین نے انہیں ’دہشت گردوں کا حامی‘ قرار دیا۔

اس کے جواب میں انہوں لکھا: ’دراصل جنوری میں انڈیا کا یوم جمہوریہ ہوتا ہے اور اسی ماہ سنہ 1990 میں سرینگر اور ہندوارہ میں انڈین فورسز نے غیرمسلح مظاہرین پر فائرنگ کی تھی۔ ہو سکتا ہے حکام کو خدشہ ہو کہ لوگ شاید وی پی این کا استعمال کر کے اس دن کی یاد میں کوئی سرگرمیاں منعقد کریں‘

واضح رہے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ دو دہائیوں میں متعدد بار طویل عرصے کے لئے انٹرنیٹ معطل کیا جاتا رہا ہے۔

حالیہ پابندی 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد تین ماہ تک جاری رہی تھی۔

ان پابندیوں کے بارے میں عالمی ادارہ ’رپورٹرس وِدآوٹ بارڈرز‘ نے اپنے بیان میں میں کہا تھا کہ ’کشمیر ایک انفارمیشن بلیک ہول (معلومات کا اندھا کنواں) ہے جہاں سے خال خال ہی کوئی مصدقہ خبر برآمد ہوتی ہے۔‘

انٹرنیٹ پر پابندیوں کا سلسلہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بند ہوگیا تھا، تاہم فوجی آپریشنوں کے دوران مخصوص علاقوں میں انٹرنیٹ کو اب بھی معطل کیا جاتا ہے۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں وی پی این کا استعمال سنہ 2016 میں اس وقت عام ہوا جب احتجاجی تحریک کو دبانے کے لئے کئی ماہ تک فیس بک، یوٹیوب اور دوسرے سوشل نیٹ ورک معطل کیے۔

ایمسٹرڈیم میں مقیم انٹرنیٹ کے حقوق پر کام کرنے والے ادارے 'سرف شارک' کے مطابق انڈیا میں 80 کروڑ لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے، جن میں سے 20 فیصد وی پی این استعمال کرتے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ انڈیا دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں وی پی این سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور یہ ملک وی پی این کمپنیوں کے لیے 17 ارب ڈالر کی مارکیٹ ہے۔