’خودمختاری پر سمجھوتا نہیں کریں گے‘: ٹرمپ کے ’گرین لینڈ معاہدے کے فریم ورک‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    • مصنف, Paulin Kola

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے ایک ’مستقبل کے معاہدے کا فریم ورک‘ موجود ہے۔

بُدھ کے روز دیا گیا یہ بیان کئی دنوں اور ہفتوں سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ایک حیران کن اعلان تھا، حتیٰ کہ نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ، جو نیٹو اتحادی ڈنمارک کے زیرِ انتظام ہے، کو فوجی طاقت کے ذریعے قبضے میں لینے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔

اب سوال یہ ہے کہ اس معاہدے میں کیا کچھ شامل ہو سکتا ہے اور کیا یہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔ دونوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ’ آرکٹک میں واقع دنیا کے سب سے بڑے جزیرے کی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘

فریم ورک معاہدے کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟

صدر ٹرمپ نے یہ اعلان سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں ہونے والی بات چیت کے بعد کیا تھا۔

انھوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر کہا کہ ’نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُوٹے کے ساتھ میری نہایت نتیجہ خیز ملاقات کی بنیاد پر ہم نے گرین لینڈ کے حوالے سے مستقبل کے معاہدے کا فریم ورک تشکیل دیا ہے۔‘

انھوں نے تفصیلات نہیں بتائیں، لیکن کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے بات چیت جاری رہے گی۔

مارک روٹے نے کہا کہ انھوں نے اپنی ملاقات میں گرین لینڈ پر ڈنمارک کی خودمختاری کے اہم مسئلے پر بات نہیں کی۔

ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ ڈنمارک کے عوام ہر چیز پر بات چیت کر سکتے ہیں، لیکن ’ہم اپنی خودمختاری پر بات چیت نہیں کر سکتے۔‘

گرین لینڈ کے وزیرِاعظم نے بھی میٹے فریڈرکسن کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ خودمختاری ایک ’سرخ لکیر' ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جینس۔فریڈرک نیلسن نے کہا کہ انھیں اس معاہدے کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں جس پر بات ہو رہی ہے۔‘

تفصیلات اور آپشنز کیا ہیں؟

نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر نہ کرنے والے حکام سے متعلق ایک خبر شائع کی ہے کہ ایک تجویز میں ڈنمارک گرین لینڈ کے چند چھوٹے علاقوں پر اپنی خودمختاری ختم کر دے، جہاں امریکہ فوجی اڈے قائم کرے گا۔

یہ انتظام قبرص میں موجود دو ایسے اڈوں کی حیثیت سے مشابہ ہوگا، جو 1960 میں قبرص کے آزاد ہونے کے بعد سے برطانوی انتظام میں ہیں۔

یہ واضح نہیں کہ یہ ماڈل کیسے لاگو ہوگا اگر ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں اپنی خودمختاری ترک کرنے سے انکار کر دیں۔

گرین لینڈ پر قبضے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ٹرمپ نے جزیرے کے گرد چینی اور روسی جہازوں کے خطرے کا ذکر کیا ہے، حالانکہ ڈنمارک کا کہنا ہے کہ آج کے دن کوئی ایسا خطرہ موجود نہیں۔

اس نکتے پر نیٹو اتحادیوں نے امریکہ کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ وہ آرکٹک میں سکیورٹی کو مزید مضبوط کریں گے اور مارک روٹے کا کہنا ہے کہ فریم ورک معاہدہ اس تعاون کا بھی تقاضا کرے گا۔

انھوں نے جمعرات کو کہا کہ ’مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم یہ بہت جلد کر سکتے ہیں۔ یقیناً میں 2026 کی امید رکھتا ہوں، بلکہ 2026 کے اوائل میں بھی۔‘

برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا کہ برطانیہ نے آرکٹک سینٹر قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جو بالکل اسی طرز پر ہوگا جس طرح نیٹو نے بالٹک سینٹر قائم کیا تھا۔ یہ ایک مشن تھا جس کا مقصد بالٹک سمندر میں جہازوں کی نگرانی کو بڑھانا تھا۔

’کیا ’ملکیت‘ سے ہٹ کر کوئی معاہدہ ٹرمپ کو راضی رکھ سکتا ہے؟

سنہ 1951 کے ایک معاہدے کے تحت امریکہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جتنے چاہے فوجی گرین لینڈ بھیج سکتا ہے۔ اس وقت بھی وہاں کے شمال مغربی حصے میں واقع پٹُفِک اڈے پر سو سے زیادہ فوجی مستقل طور پر تعینات ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق کسی نئے معاہدے تک پہنچنے کے لیے بات چیت کا مرکز اسی معاہدے کی دوبارہ تشکیل ہو سکتا ہے۔

ان مذاکرات پر ٹرمپ کا گرین لینڈ کو ’اپنی ملکیت‘ بنانے کا اصرار چھایا ہوا ہے۔

اگر ٹرمپ اپنی مرضی منوا لیتے ہیں تو خودمختاری کے حوالے سے سرخ لکیر عبور کرنے کے علاوہ مذاکرات کاروں کو گرین لینڈ میں زمین کی فروخت پر آئینی پابندی کا بھی حل تلاش کرنا ہوگا۔

ایک ماڈل کی مثال کیوبا میں امریکی بحری اڈہ گوانتانامو بے ہے، جو 1903 سے ایک مستقل لیز معاہدے کے تحت مکمل امریکی کنٹرول میں ہے۔

یہ واضح نہیں کہ آیا یہی کچھ وہ آپشنز تھے جنھوں نے ٹرمپ کو ڈیووس میں یُو ٹرن لینے پر مجبور کیا، جہاں انھوں نے گرین لینڈ پر فوجی کارروائی کے ذریعے قبضے کی دھمکی واپس لے لی، جس پر نیٹو اتحادیوں نے سکون کا سانس لیا۔

نیٹو سنہ 1949 میں اس اصول پر قائم ہوا تھا کہ کسی ایک اتحادی پر بیرونی حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ ڈنمارک نے واضح کر دیا تھا کہ اگر کوئی اتحادی دوسرے پر فوجی حملہ کرے تو اس کا مطلب ٹرانس۔اٹلانٹک اتحاد کا خاتمہ ہوگا، جس میں امریکہ بڑا شریک ہے۔

یہ حقیقت کہ ٹرمپ کا ’فریم ورک‘ کا اعلان مارک روٹے سے ملاقات کے بعد آیا، گرین لینڈ میں کچھ تشویش کا باعث بنا کہ ان کے مستقبل پر مذاکرات ان کی غیر موجودگی میں ہو رہے ہیں۔

جمعرات کو گرین لینڈ کے وزیرِ خارجہ ویوین موٹزفیلڈٹ نے کہا کہ گرین لینڈ کی حکومت نے انھیں اپنی طرف سے مذاکرات کرنے کو نہیں کہا بلکہ ’سرخ لکیریں براہِ راست صدر ٹرمپ تک پہنچانے‘ کو کہا ہے۔

مارک روٹے نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ایسا ہوا ہے۔ انھیں صدر ٹرمپ کی مسلسل تعریف کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

معدنیات یا کوئی اور وجہ، ٹرمپ آخر گرین لینڈ کیوں چاہتے ہیں؟

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ ان کے ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام کے منصوبے کے لیے ضروری ہے، جو امریکہ کو روس اور چین کے میزائل حملوں سے بچانے کے لیے بنایا جا رہا ہے، اور اس میں یورپی اتحادی بھی تعاون کر سکتے ہیں۔

یہ جزیرہ نایاب معدنیات کے وسیع اور زیادہ تر غیر استعمال شدہ ذخائر رکھتا ہے، جن میں سے کئی موبائل فونز اور برقی گاڑیوں جیسی ٹیکنالوجیز کے لیے نہایت اہم ہیں۔

ٹرمپ نے یہ نہیں کہا کہ امریکہ گرین لینڈ کی دولت کے پیچھے ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ جزیرے پر امریکی کنٹرول ’سب کو ایک بہت اچھی پوزیشن میں لے آتا ہے، خاص طور پر جب بات سکیورٹی اور معدنیات کی ہو‘۔