انڈیا کے مسلم پرسنل لا بورڈ کا انتباہ: ’سوریہ نمسکار سورج کی عبادت کی ایک شکل ہے‘

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے انڈیا کی ’آزادی کے امرت مہوتسو‘ کے حصے کے طور پر سکولوں میں سوریہ نمسکار کے انعقاد کی مخالفت کی ہے۔ مرکزی حکومت نے ملک کے سکولوں میں ایک سے سات جنوری تک طلبا کو ’سوریہ نمسکار‘ کرانے کی ہدایت دی ہے۔

'آزادی کا امرت مہوتسو‘ انڈیا کی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے سلسلے میں منایا جا رہا ہے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ نے ’سوریہ نمسکار‘ سے متعلق حکم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مسلم طلباء کو اس پروگرام میں حصہ لینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ سوریہ نمسکار سورج کی عبادت کی ایک شکل ہے۔‘

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے یہ بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں کیا ہے؟

بورڈ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 'انڈیا ایک سیکولر، کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے، ہمارا آئین ان اصولوں کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔

'آئین ہمیں کسی خاص مذہب کے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے یا کسی مخصوص گروہ کے عقائد کی بنیاد پر تقاریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ موجودہ حکومت اس اصول سے انحراف کر رہی ہے اور ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اکثریتی فرقے کی سوچ اور روایت کو سماج کے تمام طبقات پر مسلط کیا جا رہا ہے۔'

'وزارت تعلیم، حکومت ہند نے 75 ویں یوم آزادی کے موقعے پر 30 ریاستوں میں سوریہ نمسکار کا ایک پروگرام چلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں پہلے مرحلے میں 30 ہزار سکولوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ یکم جنوری 2022 سے سات جنوری 2022 تک اس پروگرام کے انعقاد کی تجویز ہے اور 26 جنوری کو سوریہ نمسکار کے حوالے سے ایک کنسرٹ کا بھی منصوبہ ہے۔

'حکومت ملکی مسائل پر توجہ دے'

بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یقیناً یہ ایک غیر آئینی عمل اور حب الوطنی کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ سوریہ نمسکار سورج کی پوجا کی ایک شکل ہے۔ اسلام اور ملک کی دیگر اقلیتیں نہ تو سورج کو دیوتا مانتی ہیں اور نہ اس کی عبادت کو درست سمجھتی ہیں، لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایسی ہدایات واپس لے اور ملک کے سیکولر اقدار کا احترام کرے۔'

بورڈ نے کہا ہے کہ اگر حکومت حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے قومی ترانہ پڑھا جائے اور اگر حکومت ملک سے محبت کا حق ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

'ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے لے کر مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، نفرت کا باقاعدہ پروپیگنڈہ، ملکی سرحدوں کی حفاظت میں ناکامی، سرکاری املاک کی مسلسل فروخت وغیرہ اصل مسائل ہیں جن پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔'

سوریہ نمسکار پر تنازع

انگریزی اخبار 'ٹائمز آف انڈیا' کے مطابق حال ہی میں کرناٹک حکومت نے کالجوں اور سکولوں میں 'سوریہ نمسکار' کے حوالے سے ایک سرکلر جاری کیا تھا، جس پر کئی اداروں نے الزام لگایا تھا کہ یہ حکومت کی 'بھگوا کرن' (بھگوا یعنی زعفرانی رنگ سنگھ خاندان کا رنگ ہے) کی اسکیم کے تحت ہو رہا ہے۔

12 دسمبر کو جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا تھا کہ سکول صبح کی اسمبلی میں 'سوریہ نمسکار' کا انعقاد کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ طلبہ کی بڑی تعداد اس میں شرکت کرے۔ سرکلر میں پہلے یہ احکامات کالج کو دیے گئے تھے لیکن بعد میں سکولوں کو بھی اس میں شامل کرنے کو کہا گیا۔

سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ تیاری 26 جنوری کو ہونے والے بڑے سوریہ نمسکار پروگرام کے لیے ہے۔

یہ بھی پڑھیے

26 جنوری کو انڈیا کے یوم جمہوریہ کے موقع پر، حکومت سوریہ نمسکار پر ایک پروگرام منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس عظیم تقریب میں ساڑھے سات لاکھ لوگ شرکت کریں گے۔

کرناٹک میں بھی بہت سے لوگ کووڈ کی اومیکرون قسم کی وجہ سے اس پروگرام پر ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

مسلم پرسنل لا بورڈ کا بیان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر سوریہ نمسکار کو لے کر بحث شروع ہوگئی ہے۔ اس معاملے پر بہت سے لوگ اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

سوامی گووندا دیو گری نے ٹوئٹر پر لکھا: 'سوریہ نمسکار میں ورزش، یوگا اور پرانایام کے فوائد ایک ساتھ ملتے ہیں۔ اگر کوئی اتنا خوبصورت عمل نہیں اپناتا ہے تو وہ اپنا اور دوسرے بھائیوں اور بہنوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سمجھدار لوگ اس احتجاجی پروپیگنڈے سے بچیں۔‘

وشو ہندو پریشد کے ترجمان ونود بنسل نے ٹویٹ کیا ہے کہ سوریہ نمسکار کی مخالفت کر کے کچھ علما نہ صرف انڈین مسلمانوں کی صحت بلکہ اسلام کی عالمی امیج کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

سوریہ نمسکار کیا ہے؟

سوریہ نمسکار یوگا کا ایک طریقہ ہے جو جسمانی ورزش سے متعلق ہے۔ یوگا اساتذہ کے مطابق سوریہ نمسکار میں یوگا کے 12 آسن ہیں۔ ہر آسن کی اپنی اہمیت ہے۔

یوگا ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے۔ یہ پیٹ کو کم کرنے اور جسم کو لچکدار رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

اسے سورج کی پوجا (عبادت) سے جوڑ کر بھی دیکھا جاتا ہے اور اس بارے میں لوگوں کی رائے منقسم نظر آتی ہے۔

'یوگا لندن' کی شریک بانی ربیکا فرنچ کے مطابق: 'یہ قدرے مذہبی ہے، لیکن یہ آپ کے نقطہ نظر پر منحصر ہے۔ اگر میں چاہوں تو گھٹنے ٹیکنے کا مطلب پوجا بھی اور میں یہ تصور بھی کر سکتی ہوں کہ میں صرف جھک رہی ہوں۔‘

بہر حال ماضی میں بھی اس قسم کی کوششیں ہوئیں تھیں اور بعض تعلیمی اداروں نے اپنے طور پر اسے نافذ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ جاری نہ رہ سکا تھا۔