ہی کرونز: میری دو بیٹیوں کو ایک ہی بیماری ہے مگر دونوں پر اثرات مختلف کیوں ہیں؟

کرسٹی اور ایبی گرے بہنیں ہیں اور دونوں کو ہی کرونز کا مرض لاحق ہے لیکن یہ بیماری دونوں پر مختلف انداز میں اثر انداز ہوتی ہے۔
کرسٹی کے لیے یہ مرض شدید درد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور اُنھیں بار بار ٹوائلٹ جانا پڑتا ہے جس سے اُن کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔
کرسٹی کی چھوٹی بہن ایبی کو آنت کی سوزش کا مسئلہ رہتا ہے جو اُن کی ٹانگوں اور نظر پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ بعض اوقات اُن کی نظر کافی دیر کے لیے چلی جاتی ہے۔
کرسٹی کہتی ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یہ مختلف بیماریاں ہیں۔‘
دونوں بہنوں کو ہی ایک جیسی تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے جو انفیلیمیٹری باوئلز ڈزیز یعنی بڑی آنت کی سوزش کی بیماری، کرونز یا السرائیٹیو کولائٹس، کا خاصہ ہوتی ہے جس سے برطانیہ میں تقریبا پانچ لاکھ افراد متاثر ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال نئے کیسز کی تشخیص، خصوصا نوجوان افراد میں، کی وجہ سے ان کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے نمٹنے کے لیے طبی وسائل ناکافی ہیں۔
ایبی اور کرسٹی کی والدہ جیکی کا تعلق ایسٹ کلبرائڈ سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’کم عمر بیٹیوں کو تکلیف میں دیکھنا بہت مشکل ہے۔‘

’اتنا مشکل وقت بھی ہوتا ہے جب میرا دل ہی ٹوٹ جاتا ہے جب آپ دیکھتے ہیں کہ وہ شدید تکلیف میں ہیں لیکن آپ اسے کم کرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا اور یہ زندگی بھر ساتھ رہتی ہے۔ اس مرض میں درد، آنت میں مسلسل خرابی، سوزش کے علاوہ روزمرہ کی علامات بھی ہوتی ہیں جن میں خون بہنا، پیچش، وزن میں کمی اور شدید تھکاوٹ شامل ہیں۔ زیادہ تر مریضوں کو آخر کار سرجری یا آپریشن کروانا پڑتا ہے۔
اس بیماری کی وجہ بھی نامعلوم ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک آٹو امیون بیماری ہے جس میں جسم کی فطری قوت مدافعت میں کمی کی وجہ سے آنت کے خلیے خود پر ہی حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہ سوزش جسم کے دیگر حصوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے جن میں ہڈیاں، ہڈیوں کے جوڑ، جلد، جگر اور گردے شامل ہیں۔
کرسٹی، جو اب 25 سال کی ہیں، میں اس مرض کی تشخیص اس وقت ہوئی تھی جب وہ 12 سال کی تھیں۔ شروع شروع میں تو ان کو بار بار ہسپتال جانا پڑتا تھا۔
کرسٹی کا کہنا ہے کہ جب کبھی وہ شدید بیمار ہوتی ہیں تو ان کے لیے بستر سے اٹھنا اور کچھ کھانا پینا محال ہو جاتا ہے۔
’مجھے لگتا ہے کہ میں کچھ نہیں کھا سکتی کیوں کہ مجھے پتہ ہے کہ کچھ ہی دیر میں کسی نہ کسی طریقے سے جو کھاؤں گی وہ باہر آ جائے گا۔‘
’میری اس بات سے بس ہو چکی ہے کہ میں ٹوائلٹ میں جا کر یہ کہوں کہ میں باہر نہیں آ سکتی۔‘

بیماری کے آغاز میں کرسٹی کا علاج سٹیرائڈز کے ذریعے کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب وہ ایک ایسا علاج کروا رہی ہیں جسے بائیولوجک امیونو سپریسنٹ کہا جاتا ہے۔ اس علاج کے ذریعے جسم کے ان مخصوص پروٹینز کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے جو سوزش کا سبب بنتے ہیں۔
کرسٹی کی بہن ایبی کو صرف ایک سال پہلے ہی اس مرض کی تشخیص ہوئی۔ وہ بھی ہسپتال میں بہت وقت گزار چکی ہیں۔
لیکن ایبی کا معاملہ کرسٹی سے مختلف تھا کیوں کہ ان کے مرض کی علامت پہلے آنت کی سوزش کی شکل میں ظاہر نہیں ہوئی اور ان کو اتنی مختلف علامات کا سامنا تھا کہ ڈاکٹرز سے تشخیص ہی نہیں ہو پا رہی تھی۔
18 سالہ ایبی کو دوبارہ کالج شروع کرنا پڑا کیوں کہ بیماری کی وجہ سے ان کا بہت وقت ضائع ہوا جس میں وہ پڑھائی جاری نہیں رکھ سکیں۔
ایڈنبرا یونیورسٹی کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق 10 سال کے عرصے میں سکاٹ لینڈ کے شہر لوتھیان میں آئی بی ڈی بیماری کے 57 فیصد مریضوں کو اکثر ہسپتال میں وقت گزارنا پڑا۔
اس بیماری کے مخصوص ماہرین کی کمی کی وجہ سے تشخیص اور علاج میں تاخیر کی وجہ سے علامات کی شدت میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔
لیکن تحقیق یہ بھی کہتی ہے کہ اگر مریض کو جلد ہی بائیولوجیکل طریقے سے علاج کی طرف لے جایا جائے تو اس سے ہسپتال جانے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔

گیرتھ جونز ایڈنبرا یونیورسٹی میں گیسٹرواینٹرولوجوسٹ اور کلینیکل سائنسدان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے بچاؤ کے لیے دی جانے والی ادویات کے لیے مزید مالی مدد درکار ہے تاکہ برطانیہ کے سرکاری طبی نظام پر صرف اس بیماری کے مریضوں کی وجہ سے پڑنے والے دباو میں کمی لائی جا سکے۔
ان کے مطابق اس بیماری میں مغربی دنیا سمیت ترقی پزیر دنیا کے چند حصوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر جونز کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی وجوہات میں ایک وجہ جینیات بھی ہے لیکن خوراک، ذہنی دباؤ اور آلودگی جیسے ماحولیاتی عوامل بھی اس بیماری کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں۔
ان کی خواہش ہے کہ اس بیماری کی مریضوں کو جلد از جلد بہتر علاج میسر ہو سکے جس کے لیے وہ یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ چند ادویات کو ملا کر دیا جائے۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس صرف تین سے چار دوائیں ہیں اور اگر کوئی ایسا مریض ہے جو ان سب کو استعمال کر چکا ہے تو پھر ہم کچھ زیادہ مدد نہیں کر پاتے۔
ڈاکٹر جونز اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اس بیماری سے متاثرہ مریضوں کی زندگی آسان بنانے کے لیے اور ان کی علامات میں مدد دینے کے لیے ان کی معاونت کی جائے جب تک کہ کوئی نیا علاج دریافت نہیں کر لیا جاتا۔
جیکی کہتی ہیں کہ وہ برطانوی طبی سروس کی فون لائن پر گھنٹوں گزارتی ہیں کیوں کہ ان کو ماہرین کی وہ معاونت نہیں مل پاتی جو ایسے وقت میں درکار ہوتی ہے جب ان کی بیٹیوں کی علامات شدید ہو جاتی ہیں۔
’یہ میرا کام ہے کہ میں ان کی ضرورت پوری کروں کیوں کہ یہ مدد ہر وقت میسر نہیں ہوتی۔ نہ ہی ہر وقت یہ مدد دی جاتی ہے، اس کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔ بہت دفعہ مجھے خود ڈاکٹر کو بتانا پڑتا ہے کہ ان کو کیا چاہیے۔‘
جیکی کے لیے اپنی بیٹیوں کو ایک لا علاج اور ہر لمحہ بگڑتے مرض کا شکار دیکھنا نہایت تکلیف دہ ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’باہر سے وہ آپ اور میرے جیسی ہی لگتی ہیں، بلکل مختلف نہیں لگتیں۔ لیکن ان کی زندگی کا معیار بہت محدود ہے۔ مجھے اچھا لگے گا اگر وہ لاپرواہی سے وہ سارے کام کر سکیں جو اس عمر میں ان کو کرنے چاہییں۔‘










