زینو ٹرانسپلانٹیشن: کیا سؤر انسانی جسم میں اعضا کی پیوند کاری کا مستقبل ہیں؟

Pig

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, جیمز گیلیگر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

اعضا کی پیوند کاری میں بہت جدت آ چکی ہے۔ سؤر سے لیے گئے اعضا میں جینیاتی تبدیلیاں کی گئی اور ان کی انسانوں میں پیوند کاری کر دی گئی ہے اور جس شخص کو پہلی مرتبہ سؤر کا دل لگایا گیا وہ ٹرانسپلانٹ کے دو ماہ بعد تک زندہ رہا۔

تو ہم عالمی سطح پر سؤر کے استعمال سے انسانوں میں اعضا کی پیوندکاری کی مانگ کو پورا کرنے میں کتنی کامیابی حاصل کر چکے ہیں؟

آپریٹنگ تھیٹر میں خاموشی چھا جاتی ہے ایسے جیسے کمرے میں کوئی جیتا جاگتا وجود موجود ہی نہ ہو۔

ڈاکٹروں نے ابھی ابھی ایک سؤر کے گردے کی انسانی جسم میں پیوند کاری کی ہے۔ اور اب اس سؤر کے عضو میں انسانی خون رواں دواں ہے۔

ٹرانسپلانٹ ٹیم میں شامل سرجن ڈاکٹر جیم لاک کہتے ہیں ’اتنی خاموشی تھی کہ اگر کوئی پن گرتی تو آپ اس کی آواز بھی سُن لیتے۔‘

آنے والے لمحوں میں کامیابی یا ناکامی کا تعین ہو جائے گا اور اب ہر ایک کے ذہن میں بس ایک ہی سوال ہے: ’گلابی یا سیاہ؟‘

اگر جسم بیرونی عضو کو قبول نہیں کرتا تو اس صورت میں سؤر کے ٹشو کے ہر خلیے میں سوراخ ہو جائیں گے اور عضو کے اندر اور باہر خون جم جائے گا۔ چند منٹوں کے اندر اندر اس پر دھبے پڑ جائیں گے، پھر یہ نیلا ہو جائے گا اور آخر میں مکمل طور پر سیاہ ہو جائے گا۔

اگر ’ہائپراکیوٹ ریجیکشن‘ یعنی انسانی جسم کے ان اعضا کو قبول نہ کرنے کے عمل سے کسی طرح بچت ہو جائے، تو اس صورت میں یہ عضو خون اور آکسیجن کے بہاؤ سے گلابی ہو جائے گا۔

امریکہ میں برمنگھم کی یونیورسٹی آف الاباما سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر لاک نے کہا ’یہ (مریض کو لگایا جانے والے سور کا گردہ) خوبصورت اور گلابی ہو گیا۔۔۔ کمرے میں موجود سب لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا اور اُن کے چہرے پر امید نظر آئی۔۔۔ شاید ہم نے حوش ہو کر تالی بھی بجائی۔‘

یہ آپریشن ان طبی کامیابیوں کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جس نے زینو ٹرانسپلانٹیشن (انسانوں میں اعضا کی پیوندکاری کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے جانوروں کے اعضا کو استعمال کرنے کا عمل) کے شعبے میں دلچسپی پیدا کی ہے۔

University of Alabama at Birmingham

،تصویر کا ذریعہSteve Wood

،تصویر کا کیپشنبرمنگھم میں الاباما یونیورسٹی کی سرجیکل ٹیم

انسانی جسم میں جانوروں کے اعضا کا استعمال ایک پرانا خیال ہے، اور اس میں چمپینزی کے خصیے کی پیوند کاری سے لے کر اپنے رشتہ داروں سے لیے گئے گردے اور دل کا ٹرانسپلانٹ تک شامل ہے۔

اکثر کیسز میں دوسروں سے اعضا لینے والوں کی زندگی کا اختتام موت پر ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا مدافعتی نظام کسی دوسرے سے لیے گئے عضو کو انفیکشن اور بیرونی حملہ آور سمجھتا ہے۔

ان دنوں توجہ سؤر پر مرکوز ہے، کیونکہ ان کے اعضا تقریباً انسانی اعضا کے سائز کے ہیں اور ہمارے پاس اس جانور کو پالنے کا صدیوں کا تجربہ ہے۔

لیکن ’ہائپراکیوٹ ریجیکشن‘ کے چیلینجز برقرار ہیں جس میں یہ ضروری ہے کہ اعضا گلابی ہی رہیں اور سیاہ نہ ہوں۔۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ کسی فارم پر جا کر سور کا انتخاب کر کے اس کے اعضا کی پیوند کاری کروا سکتے ہیں۔

سور کے ڈی این اے کو جینیاتی طور پر اس طرح تبدیل کیا جاتا ہے کہ ہمارا مدافعتی نظام ان اعضا کو قبول کر سکے۔

حال ہی میں گردے اور دل کی پیوند کاری میں ایسے سور سے اعضا لیے گئے جس کو ’10- جینی پگ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس میں جنیاتی طور پر ایک تبدیلی کی گئی ہے تاکہ انسانی جسم میں پیوند ہونے کے بعد یہ اعضا گروتھ ہارمونز کا جواب نہ دے سکیں اور عطیہ کیے گئے اعضا کو انسانی نشوونما کے ہارمونز کا جواب دینے اور قابو سے باہر ہونے سے روکنے کے لیے اس سور میں ایک جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے۔

ایک اور اہم تبدیلی کے ذریعے ’ایلفا گال‘ شوگری مالیکیول کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ یہ عموماً سور کے خلیوں کے ساتھ چپک کر اس ٹشو کی ایلین کے طور پر نشاندہی کرتے ہوئے ایک نیون سائن کی طرح کام کرتا ہے۔

ہمارے مدافعتی نظام کے ایک حصے کو کمپلیمنٹ سسٹم (تکمیلی نظام) کہا جاتا ہے، کمپلیمنٹ سسٹم الفا گال کی تلاش میں مسلسل ہمارے جسم میں گشت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعضا کی پیوند کاری کے چند لمحوں بعد ہی انھیں مسترد کیا جا سکتا ہے جو مریض کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔

جینیاتی تبدیلی کے ذریعے دو دیگر نیون سائنز کو ہٹا کر انسانوں جیسے چھ اور سائنز کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ سور کے خلیوں پر کیموفلاج نیٹ (جو ایک کور کی طرح کسی چیز کو ڈھانپ یا چھپا دے) کا کام کرتے ہوئے انھیں ہمارے مدافعتی نظام سے چھپانے میں مدد کرتے ہیں۔

نتیجے میں 10 جینی پگ والے سوروں کو پیوند کاری کے لیے موزوں بنانے کی غرض سے انھیں جراثیم سے پاک ماحول میں پالا جاتا ہے۔

گردے اور دل

Jim Parsons

،تصویر کا ذریعہParsons family

،تصویر کا کیپشنجم پارسنز کے خاندان کی اجازت سے ان کے گردوں کی جگہ سور کے گردوں کی پیوند کاری کر دی گئی

ستمبر 2021 میں سور کے گردوں کے ایک جوڑے کی دماغی طور پر مردہ شخص جم پارسنز میں پیوند کاری کی گئی تھی۔

جم پارسنز اپنی وفات کے بعد اعضا عطیہ کرنا چاہتے تھے لہذا جب ان کے گردے عطیہ کیے گئے تو اس وقت ان کے خاندان کی اجازت سے ان کی جگہ سور کے گردوں کی پیوند کاری کر دی گئی۔

ڈاکٹر لاک کو وہ لمحہ اب بھی یاد ہے جب ان گردوں میں سے ایک نے پیشاب بنانا شروع کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ زینو ٹرانسپلانٹیشن ’واقعی لوگوں کی زندگیاں بدل اور بچا سکتا ہے۔‘ انھیں توقع ہے کہ اس سال کے آخر میں کلینیکل ٹرائلز شروع کیے جا سکیں گے۔

یہ آپریشن تین دن تک جاری رہا، لیکن اس دوران یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کے سرجنوں نے ایک اور اہم کام کیا۔

ان کے 57 سالہ مریض ڈیوڈ بینیٹ کا دل کام کرنا چھوڑ چکا تھا۔ انھیں انسانی دل کی پیوند کاری کے لیے موزوں امیدوار نہ سمجھتے ہوئے ایک مشین کے ذریعے زندہ رکھا جا رہا تھا، جو ان کے دل اور پھیپھڑوں کے نظام کو سہارا دے رہی تھی۔

بینیٹ اپنے جسم میں سور کے دل کی پیوند کاری کو ’اندھیرے میں تیر چلانے‘ جیسا تجربہ قرار دیتے ہیں۔

10 جینی پگ والے سور کو ہسپتال لایا گیا جہاں سات جنوری کو ڈیوڈ بینیٹ کے جسم میں اس کی پیوند کاری کر دی گئی۔ آپریشن مشکل تھا کیونکہ بینیٹ کا بیمار دل سوج چکا تھا، لہٰذا خون کی نالیوں کو چھوٹے سور کے دل سے جوڑنا ایک چیلنج تھا۔

اس کے بعد ایک اور مشکل لمحہ تھا۔۔۔ یا تو بینٹ کے جسم نے سور کے دل کو قبول کر لینا تھا یا وہ اسے مسترد کر دیتا۔۔۔ لیکن یہ دل دھڑکنے لگا اور گلابی ہی رہا۔ ہسپتال کے کارڈیک زینو ٹرانسپلانٹیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد محی الدین بتاتے ہیں کہ انھیں امید نہیں تھی کہ وہ اپنی زندگی میں یہ دن دیکھ پائیں گے۔

آپریشن کے ایک ماہ بعد جب میں نے ان سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ اگرچہ عضو کے مسترد ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، لیکن بینیٹ ابھی تک کمزور ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایسے ہی کہ جیسے ہم نے 1960 کی دہائی میں بنی کار میں ایک نیا فراری انجن لگا دیا ہو۔۔۔ انجن تو بہت اچھا کام کر رہا ہے لیکن باقی جسم کو اس کے ساتھ ایڈجسٹ ہونا باقی ہے۔‘

Pig heart transplant

،تصویر کا ذریعہUMSOM

،تصویر کا کیپشنبینیٹ نے اپنے جسم میں سور کے دل کی پیوند کاری کو 'اندھیرے میں تیر چلانے' جیسا تجربہ قرار دیا تھا

لیکن پیوندکاری کے دو ماہ بعد بینیٹ وفات پا گئے۔ چنانچہ زینو ٹرانسپلانٹیشن کے مضمر اثرات ابھی تک یقینی ہیں۔

بینیٹ آپریشن سے پہلے ہی بہت کمزور تھے اور ممکن ہے کہ نیا دل بھی انھیں زندہ رکھنے میں مدد نہ دے سکا ہو۔

ابھی تک عضو کے مسترد ہونے کی کوئی علامت سامنے نہیں آئی، لیکن دل کے تفصیلی تجزیے سے اس پر مدافعتی نظام کے حملے کا معلوم ہوا، تو 10 جینی پگ سور کے اعضا کو انسانی جسم کے لیے موزوں بنانے کے لیے اس میں مزید جنیاتی تبدیلیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سور کے جسم کی اناٹومی پر مزید غور کی ضرورت ہے اور ہو سکتا ہے یہ پتا چلے کہ سور کا دل انسانی جسم میں کام کرنے کے قابل ہی نہ ہو۔ جیسا کہ کشش ثقل سے لڑنے کے لیے ہمارے دلوں کو سور کی نسبت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے کیونکہ ہم چار کے بجائے دو ٹانگوں پر چلنے والی مخلوق ہیں۔

یونیورسٹی آف ناٹنگھم میں سٹیم سیل بیالوجی کے پروفیسر کرس ڈیننگ کا کہنا ہے کہ ’ہائپراکیوٹ ریجیکشن‘ یعنی انسانی جسم کا بیرونی اعضا کو قبول نہ کرنے کے عمل پر قابو پانے کا مطلب ہے کہ ہارٹ ٹرانسپلانٹ کو ’کامیابی‘ سمجھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اگر مسئلہ مریض کے جسم کی کمزوری تھا، تو مستقبل میں زینو ٹرانسپلانٹیشن میں کامیابی مل سکتی ہے۔

ہسپتال کلینکل ٹرائلز جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

Surgeon Bartley P Griffith with David Bennett in January

،تصویر کا ذریعہUniversity of Maryland School of Medicine

،تصویر کا کیپشنسرجن بارٹلی پی گریفتھ اور ڈیوڈ بینیٹ

برطانیہ کے سب سے نامور ٹرانسپلانٹ سرجنوں میں سے ایک پروفیسر جان وال ورک کے مطابق ضروری نہیں کہ سور کا دل انسانی دل جیسا بہترین کام کرے اور بڑی تعداد میں جانیں بچا سکے۔ بہت سے لوگ ٹرانسپلانٹ کے انتظار میں ہی مر جاتے ہیں۔

پروفیسر وال ورک کہتے ہیں کہ ’لہذا اگر یہ انسانی دل سے پیوندکاری جتنا اچھا نہیں ہے، تو پھر بھی ہم نے ایک ہزار مریضوں کو نہ بچانے سے کہیں زیادہ بہتر کام کیا ہے۔‘

اعضا کی پیوند کاری میں زینو ٹرانسپلانٹیشن ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حوالے سے سلسہ وار اہم پیش رفتیں سامنے آئی ہیں، لیکن مزید تحقیق ہی ہمیں بتا پائے گی کہ اس حوالے سے دیکھے جانے والے بڑے بڑے خواب کبھی پورے ہو سکیں گے یا نہیں۔

ڈاکٹر لاک نے مزید کہا: ’ہمارا مقصد یہ ہو گا کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ایک سور گردے کی خرابی والے مریض، جگر کی خرابی والے مریض، ایسے مریض جس کا دل نہ کام کر رہا ہو اور پھیپھڑوں کی بیماری کے آخری مرحلے والے مریض۔۔۔۔ ان سب کی جانیں بچا سکیں۔‘

’یہ ایک بہت اہم کارنامہ ہو گا اور مجھے یقین ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ہی یہ دن دیکھ پائیں گے۔‘