دو سر اور تین ہاتھوں والے بچے کیوں پیدا ہوتے ہیں اور کیا ان کا علاج ممکن ہے؟

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجب بچے ابتدائی چند ہفتوں میں نشوونما پاتے ہیں تو اسی وقت ان میں کچھ نقائص پیدا ہو سکتے ہیں
    • مصنف, شالینی کماری
    • عہدہ, نامہ نگار بی بی سی

حال ہی میں انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے رتلام ضلع میں ایک خاتون نے ایک انوکھے بچے کو جنم دیا ہے جس کے دو سر اور تین ہاتھ ہیں۔

بچے کے جسم میں ایک قسم کی ڈیفارمیٹی یا نقص ہے اور اس بچے کی حالت کے بارے میں بحث جاری ہے۔

بچوں میں اعضا سے متعلق نقائص کے بارے میں سوچ کر ذہن میں بہت سے سوالات آتے ہیں۔ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ نوزائیدہ بچوں کے جسم میں نقائص کیوں پیدا ہوتے ہیں اور کیا ان کا علاج ممکن ہے؟

رتلام کے اس بچے کے بارے میں بات کی جائے تو ڈاکٹروں کے مطابق اسے ’پیراپیگس ڈائیففلس‘ کہا جاتا ہے یہ نامکمل جڑواں پن کی انتہائی کمزور قسم ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ اس بیماری کی اور بھی کئی قسمیں ہیں۔

انڈیا کے شہر اندور کے ایم وائی ہسپتال کے ڈاکٹر برجیش کمار لاہوتی کا کہنا ہے کہ ’جسم کے ان نقائص کو ’مینوفیکچرنگ ڈیفیکٹس‘ کہا جا سکتا ہے۔

باڈی ڈیفارمیٹی کیا ہوتی ہے؟

ڈاکٹر برجیش کمار لاہوتی بچوں کی سرجری کے شعبہ کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب بچے ابتدائی چند ہفتوں میں نشوونما پاتے ہیں تو اسی وقت ان میں کچھ نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ ’مصنوعی خرابیاں جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہیں دماغ، دل، جگر، گردے، بازو یا ٹانگوں میں بھی۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ڈاکٹر پرویندر ایس نارنگ میکس ہسپتال میں ماہر اطفال ہیں۔ وہ اس بات کو چند مثالوں کی مدد سے سمجھاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’بعض اوقات کچھ لوگوں کی پانچ کے بجائے چھ انگلیاں ہو سکتی ہیں یا کچھ کے چہرے پر نشان بھی ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’کچھ نقائص ایسے ہوتے ہیں جو بہت کم ہوتی ہیں جیسے تین سے پانچ ہزار کیسز میں ایک کیس ہوتا ہے جس میں نوزائیدہ بچے کے جسم میں کچھ خرابی پیدا ہوتی ہے۔‘

اس بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے رتلام کے بچے کی مثال بھی دی۔

ڈاکٹر برجیش کا کہنا ہے کہ ’بچوں میں یہ بہت عام ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم پیدائشی نقائص کی بات کریں تو انڈیا میں دو سے تین فیصد لوگوں میں یہ نقائص ہیں اور تقریباً پانچ سے چھ فیصد جان لیوا ہوتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کچھ خرابیاں ایسی ہوتی ہیں جو پیدائش کے وقت معلوم نہیں ہوتیں اور بعد میں سامنے آتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نقص جتنی شدید ہوتی ہے اتنی دیر میں اس کا پتہ چل جاتا ہے۔

جسم میں نقائص کیوں پیدا ہوتی ہیں؟

ڈاکٹر برجیش کا خیال ہے کہ ان جسمانی نقائص کےحوالے سے اکثر لوگوں میں کچھ وہم ہوتے ہیں لیکن ان کے خیال میں اس غلط فہمیوں کو تعلیم و بیداری کی مدد سے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔

جسمانی نقائص کی وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر برجیش نے کہا کہ پیدائشی نقائص جینیاتی وجوہات سب سے زیادہ اہم ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے جینز یا جینز میں ہونے والے تغیرات کا اس میں بڑا ہاتھ ہے۔ کچھ نقائص موروثی ہوتی ہیں، یعنی خاندان میں چلتی ہیں اور کچھ خرابیاں پہلی بار میوٹیشن کی وجہ سے ہوتی ہیں۔‘

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہNIKHILESH PRATAP

،تصویر کا کیپشنپیدائشی نقائص میں جینیاتی وجوہات سب سے زیادہ اہم ہوتی ہیں

مثال کے طور پر ڈاکٹر برجیش بتاتے ہیں کہ ’کچھ بچوں کے کھانے کا پائپ ونڈ پائپ سے جڑا ہوتا ہے اور کچھ بچوں میں پاخانہ نکلنے کا راستہ بھی نہیں بن پاتا۔

جسمانی نقائص کا پتہ کیسے لگایا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر برجیش بتاتے ہیں کہ حمل کے پہلے 16 سے 20 ہفتوں یعنی چار سے پانچ ماہ میں کچھ پیدائشی نقائص کا پتہ لگایا جا سکتا ہے اور ایسا سونوگرافی کی مدد سے ممکن ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب سونوگرافی میں خرابی کا پتہ چلتا ہے تو ہم اس کی مزید تحقیقات کرتے ہیں اور ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا یہ بچہ زندہ رہے گا یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹر برجیش کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ جگہوں پر ٹیسٹ کے لیے سہولیات یا ٹیسٹ کے لیے آلات نہیں ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دور دراز علاقوں پر تعلیم اور اچھی سونوگرافی یا ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائیں تو اس طرح کے کیسز کم ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بچوں میں دل کی بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ بعض اوقات پاؤں میں کلب فٹ ہوتا ہے یعنی پاؤں ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بچوں میں ایک بہت عام خرابی ہے جس میں بچوں کی ریڑھ کی ہڈی کی نشوونما نہیں ہوتی۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈاکروں کے مطابق 90 فیصد نقائص کا علاج کیا جا سکتا ہے

اس کا علاج کیسے ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر برجیش بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ تمام بچے پیدائشی خرابی کی وجہ سے مرتے ہیں۔ کچھ نقائص کا علاج منصوبہ بند طریقے سے کیا جا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں ہنگامی آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر برجیش کا کہنا ہے کہ 90 فیصد نقائص کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’بہت سی خرابیوں کا علاج سرجری سے کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’اگر نومولود بچوں کی شرح اموات کو دیکھا جائے تو سات فیصد بچے ان خرابیوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔‘

ڈاکٹر پرویندر کا کہنا ہے کہ ہر جسمانی نقص کا علاج مختلف ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اگر صرف تھائرائڈ کی کمی ہے تو اس کا علاج زیادہ مہنگا نہیں ہے۔‘

'دوسری طرف، اگر آپ کو دل کے چیمبر کا آپریشن کرنا پڑتا ہے، تو علاج مہنگا ہوسکتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اب ان نقائص کا علاج بڑے ہسپتالوں میں ہوتا ہے لیکن علاج کے اخراجات کا انحصار بیماری پر ہوتا ہے۔

فولک ایسڈ کی کمی کا خیال رکھنا چاہیے؟

ڈاکٹر پرویندر بتاتے ہیں کہ حمل سے پہلے بھی خواتین کو اپنا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی انھیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے جسم میں کن چیزوں کی کمی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ ماں فولک ایسڈ اور وٹامنز صحیح وقت پر لیتی یا نہیں ہے۔ ایسا کرنے سے بچوں میں دل اور ریڑھ کی ہڈی سے متعلق خرابی کم ہوتی ہے۔‘

ڈاکٹر برجیش بتاتے ہیں کہ کسی حد تک خواتین میں فولک ایسڈ کی کمی کو سپلیمنٹس کی مدد سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہSPL

،تصویر کا کیپشنسونوگرافی سے بچوں میں جسمانی نقص کا پتہ چلتا ہے

’جس طرح آیوڈین کی کمی کو نمک میں آیوڈین ملا کر ٹھیک کیا جاتا ہے اسی طرح فولک ایسڈ کی سپلیمنٹیشن بھی شروع کی جائے تاکہ ان خرابیوں کو کافی حد تک کم کیا جا سکے۔‘

انڈیا میں پیدائشی نقائص سے متعلق کوئی انشورنس نہیں ہے

ڈاکٹر برجیش کے مطابق ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس طرح کے پیدائشی نقائص کے لیے انشورنس کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’بیرون ملک یہ سب کچھ انشورنس میں شامل ہے۔ اس لیے ایسے معاملات میں خاندان کے افراد پر کوئی مالی دباؤ نہیں ہے۔

’ہمارے معاشرے میں زیادہ تر خرابیاں ان خاندانوں کے بچوں سے آتی ہیں جو مالی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہوتا اور بعض صورتوں میں وہ وقت پر ٹیسٹ نہیں کروا پاتے اور ان کی سونوگرافی بھی نہیں ہوتی۔‘

ڈاکٹر برجیش نے بتایا کہ اگر لوگ حمل سے پہلے انشورنس کروا لیں تو شاید یہ مسئلہ بھیانشورنس میں کور ہو جائے۔