وینزویلا کا 13 سالہ لڑکا جس نے ناسا کی مدد سے گھر میں دوربین کے بغیر ایک سیارچہ دریافت کیا

،تصویر کا ذریعہCOURTESY FAMILY OF MIGUEL ROJAS
- مصنف, ڈینیئل گونزالیز کاپا
- عہدہ, بی بی سی نیوز منڈو
مگیل روہاس ان لوگوں میں سے ہیں جو فزکس کی کتابیں اور بلیک ہولز کے بارے میں پڑھتے ہیں۔
انھیں نظام شمسی، کہکشاؤں اور کائنات کے بارے میں پڑھنا پسند ہے۔ انھوں نے اس بارے میں اتنا پڑھ لیا ہے کہ انھوں نے تصاویر کا جائزہ لینا شروع کر دیا، یہ جانتے ہوئے کہ وہ کیا ڈھونڈ رہے ہیں۔
انھیں یہ معلوم تھا کہ وہ کیا ڈھونڈ رہے ہیں، کہاں اور کیسے اس کی کھوج لگائی جا سکتی ہے۔ اس دوران انھیں ایک نیا سیارچہ مل گیا، یہ ایسی چیز تھی جس کا انھیں بے صبری سے انتظار تھا۔ اس سیارچے کو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔
مگیل 13 سال کے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ابھی سے ان چیزوں کو سمجھ سکتے ہیں جو عام لوگوں کے لیے محض سائنس فکشن ہے۔
انھوں نے مغربی وینزویلا کی ریاست لارا کے دارالحکومت بارکیسیمتو کے ریوکلیرو کے ہائی سکول کا پہلا سال پڑھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی پسندیدہ مضمون نہیں مگر انھیں ریاضی، بائیولوجی، مختلف زبانیں اور جغرافیہ پسند ہیں۔
لیکن وہ خلائی سائنس کو جنون کی حد تک پسند کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سیارچے کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔ ان کا مقصد واضح ہے: وہ ایک سپیس انجینیئر بننا چاہتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی منڈو کو بتایا ہے کہ ’میں ساری زندگی خلا میں دلچسپی لیتا رہا ہوں۔ بہت کم عمری سے۔ میری پہلی کتابوں نے مجھے فلکیات اور سائنس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے پر اکسایا۔‘
وہ ان کتابوں کی بات نہیں کر رہے جو ان کی عمر کے دیگر نوجوان پڑھتے ہیں، جیسے ہیری پوٹر۔ وہ فخر سے اپنے کمرے میں سٹیفن ہاکنگ اور دیگر سائنسدانوں کی کتابیں دکھاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ تمام کتابیں سائنس کے پیچیدہ موضوعات کے بارے میں ہیں۔ جیسے کائنات کن قوانین کی پیروی کرتی ہے؟
تو سیارچے کی دریافت ان کے لیے سیکھنے کا ایک قدرتی عمل تھا۔ یہ ان کے لیے پہلی سیڑھی ہے جو انھیں خلا کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے میں مدد کرے گی اور جس سے وہ ایک دن براہ راست ناسا کے ساتھ کام کر سکیں گے۔
سیکھنے کا آغاز یوٹیوب سے ہوا
مگیل کی والدہ میری ریموس بتاتی ہیں کہ کم عمری سے ہی ان کا بیٹا خلا کے بارے میں پیچیدہ معلومات حاصل کرنے کی غیر معمولی دلچسپی رکھتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہCOURTESY FAMILY OF MIGUEL ROJAS
ریموس کا کہنا ہے کہ ’یہ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھنے سے شروع ہوا۔ وہ پانچ یا چھ سال کی عمر میں ویڈیوز دیکھتے ہوئے مجھے کہتے تھے ’ماں، مجھے ایسی ایک کتاب چاہیے۔‘
لیکن اگر کسی شخص نے انھیں متاثر کیا تو وہ سٹیفن ہاکنگ تھے۔ وینزویلا میں سٹیفن ہاکنگ کی کتابیں حاصل کرنا مشکل کام ہو سکتا ہے۔ مگر بارکیسیمتو میں اور بھی مشکل تھا۔ تو ان کے والدین کو یہ کتابیں بیرون ملک سے منگوانی پڑیں۔
ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’جب میں یہ کتابیں دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ انھوں نے ان کتابوں کو کیسے سمجھا۔ مگر پھر بھی وہ یہ کتابیں پڑھتے رہے اور کیونکہ انھیں یہ سمجھ نہیں آتی تھیں تو وہ انھیں دوبارہ پڑھتے تھے۔ وہ یوٹیوب پر مزید ویڈیوز ڈھونڈتے تھے۔‘
’یہ ان کے لیے آسان تھا۔ اور وہ مجھے بھی یہ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے۔ میں اس بارے میں نہیں جانتی تھی۔‘
مگر ایک سیارچے کی دریافت کے لیے مگیل نے نظریات کو عمل میں تبدیل کیا۔
بارکیسیمتو میں ان جیسےایک اور نوجوان ڈیوڈ اویڈو تھے جنھوں نے سنہ 2012 میں سیارچہ دریافت کیا تھا۔ اور اب وہ فلکیات کی ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر سیارچے کی دریافت کی مہم چلا رہے تھے۔ اس مہم کا نام اوبیٹا سی آئی 130 ہے۔ ڈیوڈ اویڈو کو مگیل اپنا ’مینٹور‘ کہتے ہیں۔
’ہمیں اس ادارے کا پتا چلا اور ایک طرح سے مگیل کو اسی کی تلاش تھی۔‘
اوربیٹا سی آئی 130 ایک نجی فلاحی تنظیم ہے جو وینزویلا میں بہترین صلاحیت رکھنے والے بچوں اور بڑوں کو اس بارے میں سکھاتی ہے۔
فاؤنڈیشن فار پیس کے صدر جرارڈو گارسیا، جو اوربیٹا سی آئی 130 کی سربراہی کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم نہ صرف سپیس سائنس بلکہ ریاضی، روبوٹکس، جیومیٹری، فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور دیگر زبانوں کے بارے میں بھی بتاتی ہے۔
مگر اس وقت تک مگیل سیارچوں کی دریافت میں نہیں آئے تھے۔ انھوں نے لیکچر سن کر شروعات کیں کیونکہ ابھی وہ اس مہم میں حصہ لینے کے لیے اتنے بڑے نہیں تھے۔
نومبر 2020 میں انھوں نے سیارچوں کی کھوج شروع کر دی۔
گھر میں دوربین کے بغیر سیارچہ کیسے دریافت کیا؟
مگیل اس کا مختصر جواب دیتے ہیں۔ فلکیات کی انٹرنیشنل سرچ کولیبریشن (آئی اے ایس سی، یا ستارچوں کی کھوج کی مہم) نے انھیں ایک دوربین کی تصاویر بھجوائیں۔ یہ پین سٹارز ٹیلیسکوپ سے کھینچی گئی تھیں۔
امریکی ریاست ہوائی کی ہالیکالا آبزرویٹری میں واقع اس ٹیلیسکوپ کا ایک مقصد نئے سیارچوں اور زمین کے قریب کسی بھی طرح کی چیز کی کھوج لگانا ہے۔ یہ مہم ناسا کی حمایت یافتہ ہے مگر ناسا کسی نئے سیارچے کی دریافت کی تصدیق نہیں کرتا، بلکہ یہ آئی اے ایس سی کی ذمہ داری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگیل نے ایک خاص سافٹ ویئر پر ان تصاویر کا جائزہ لیا۔ انھوں نے اسے استعمال کرنے کی ٹریننگ حاصل کی تھی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک رپورٹ لکھی اور بتایا کہ انھوں نے تصاویر میں کیا دیکھا ہے۔
ایک پیشہ ورانہ ماہرِ فلکیات ان رپورٹس کا جائزہ لیتا ہے۔ اس نے مگیل کی رپورٹ اس ڈیٹا بیس میں دیکھی اور ان کے تبصرے پر غور کیا۔ اگر یہ ماہر فلکیات اس نئی چیز کی تصدیق کر دے تو اسے ’ابتدائی دریافت‘ کا درجہ مل جاتا ہے۔
یہ صرف پہلا قدم ہے۔ اس دریافت کو پھر زمین میں مختلف مبصرین کو بھیجا جاتا ہے۔ وہ اپنی اپنی ٹیلیسکوپ سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس مرحلے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ لیکن آخر میں اگر وہ اس بات پر متفق ہوں تو اسے عارضی دریافت کہا جاتا ہے۔
مگیل کے نئے سیارچے، جس کا نام 2021GG40 ہے، کی تفصیل گذشتہ اپریل میں دی گئی تھی اور دسمبر میں انھیں آئی اے ایس سی، ناسا اور یونیورسٹی آف ہوائی میں محکمہ فلکیات کے دستخط شدہ سرٹیفیکیٹ موصول ہوئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام

سیارچہ کیا ہے؟
ناسا کے مطابق چار اعشاریہ چھ ارب برس قبل نظام شمسی کے ابتدائی وجود کے وقت سے خلا میں پتھر سے بنے اجرام فلکی ہیں۔
یہ سیاروں کی طرح سورج کے گرد گھومتے ہیں مگر ان کا حجم بہت کم ہوتا ہے۔ یہ مریخ اور مشتری کے درمیان ’ایسٹیرائڈ بیلٹ‘ میں جمع ہو چکے ہیں۔
سیارچے نظام شمسی کے دیگر حصوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ سورج کے گرد سیاروں کے راستے پر بنا ان سے ٹکرائے گھومتے ہیں، جنھیں ’ٹروجن‘ کہا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دو سیارچوں کو ایک نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ اتنے بڑے ہو سکتے ہیں کہ کچھ 530 کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلے ہوں یا بعض محض 10 میٹر سے بڑے نہیں ہوتے۔
اکثر سیارچے پتھر کی مختلف اقسام سے بنے ہوتے ہیں۔ ان میں مٹی کے علاوہ نِکل یا آئرن ہو سکتا ہے۔ یہ دمدار ستاروں یا کامٹ سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ کامٹ برف اور دھول سے بنے ہوتے ہیں اور ان کی دم سے بخارات نکلتے ہیں۔
ایسٹیرائڈ اسی وقت بنے تھے جب سیارے وجود میں آئے۔ اس لیے سائنسدانوں کے لیے ان سے متعلق معلومات بہت اہم ہے۔
مختلف مہمات کی مدد سے زمین کے قریب سیارچوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور ایسے میں مختلف دوربینیں استعمال ہوتی ہیں، جیسے ہوائی کی پین سٹارز ٹیلیسکوپ۔
وقت کے ساتھ ساتھ ان سے نکلنے والے مواد زمین کے ماحول میں داخل ہوسکتے ہیں۔ ان ٹکٹروں کو شہابی پتھر کہا جاتا ہے۔

مستقبل کی کھوج
ایسٹیرائیڈ 2021GG40 مگیل کی واحد حالیہ دریافت نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کم از کم چھ ابتدائی دریافتیں تصدیق کی منتظر ہیں۔
وہ واحد نوجوان نہیں جنھوں نے سیارچوں کی کھوج کی مہمات میں حصہ لیا ہے۔ اوربیٹا سی آئی 130 نے آٹھ مہمات میں 12 عارضی دریافتیں کی ہیں۔
مگیل کا مقصد خلا میں چیزیں ڈھونڈتے رہنا ہے۔ ایگزو پلینٹ اور سپر نووا نامی مہمات میں اب تک انھوں نے حصہ نہیں لیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ اس کے لیے تیار نہیں۔
’میرا مقصد یہی ہے کہ میں ان مہمات تک پہنچنے کے لیے پڑھوں اور سیکھتا رہوں۔ اور اس کام میں اہم کامیابی حاصل کروں جس سے میرے ملک اور ریاست کا نام روشن ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بس شروعات ہے اور کے بعد محنت اور لگن سے مزید کامیابیاں ملیں گی۔‘
’میں ناسا کے ساتھ بطور سپیس انجینیئر کا کام کرنا چاہتا ہوں تاکہ میں دنیا اور انسانیت کے لیے اہم کام کر سکوں۔ یہ میرا خواب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سائنس اور فلکیات انسانوں اور ٹیکنالوجی دونوں کا مستقبل ہیں۔‘









