کیرالہ میں لڑکیوں، لڑکوں کا ایک سا یونیفارم: طالبات خوش، کچھ گروپ ناراض

،تصویر کا ذریعہBinuraj TP
انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں ایک سرکاری سکول کی جانب سے نوعمر طالبات کو پتلون پہننے کی اجازت دینے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ دہلی میں بی بی سی کی گیتا پانڈے اور کیرالہ میں اشرف پڈنا اس تنازعے کی تفصیلات بتا رہے ہیں۔
بدھ کی صبح، جب سرینگی سی کے، اپنے نئے یونیفارم میں سکول کی بس کا انتظار کر رہی تھیں، تو ایک نامعلوم راہگیر خاتون کی تعریف انھیں اچھی لگی۔
بلوسیری قصبے کے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں 11ویں جماعت میں پڑھنے والی 17 سالہ سرینگی نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اس خاتون نے مجھے بتایا کہ میں بہت سمارٹ لگ رہی ہوں اور مجھے بہت فخر محسوس ہوا ہے۔‘
لیکن ایک بار جب سرینگی سکول پہنچیں، تو انھیں مظاہرین کے ایک ہجوم سے گزرنا پڑا، جسے کنٹرول کرنے کے لیے درجنوں پولیس اہلکار تعینات تھے۔ مطاہرین اس بات سے ناخوش تھے کہ لڑکیاں اب لڑکوں کی طرح پتلون اور شرٹ پہن سکتی ہیں۔
اس تبدیلی سے قبل، طالبات روایتی لمبے ٹیونکس، ڈھیلی فٹنگ پتلون اور واسکٹ پہنا کرتی تھیں۔
سکول کی پرنسپل اندو آر نے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے سال لڑکیوں نے، جو اب 12ویں کلاس میں ہیں، تجویز دی تھی کہ انھیں لڑکوں کی طرح یونیفارم پہننے کی اجازت دی جائے۔
انھوں نے کہا کہ ‘ہماری زیادہ تر طالبات دنیا میں کہیں بھی نوعمر لڑکیوں کی طرح جینز اور ٹاپس پہنتی ہیں‘ اور واسکٹ کیرالہ کے نمی والے موسم کے لیے موزوں نہیں تھی۔
‘لہذا ہم نے عملے کے ساتھ اس پر تبادلہ خیال کیا اور پھر پیرنٹ ٹیچر ایسوسی ایشن کی میٹنگ بلائی۔ اکثریت نے اتفاق کیا تو ہم نے تبدیلی کا فیصلہ کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
‘صرف ایک یا دو والدین نے صنفی طور پر مخصوص یونیفارم نہ ہونے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا اور ہم نے انھیں بتایا کہ لڑکیاں پوری آستینوں والی لمبی قمیضیں پہن سکتی ہیں، وہ سر پر سکارف اور یہاں تک کہ واسکٹ بھی پہن سکتی ہیں۔ لیکن بہت کم لڑکیوں نے ایسا کرنا چاہا۔`
پرنسپل اندو نے بی بی سی کو اپنے نئے یونیفارم میں طالب علموں کے ایک گروپ کی تصاویر بھیجیں، جو سیلفیاں لے رہی تھیں، تالیاں بجا رہی ہیں، ہنس رہی تھیں اور خوشی سے اچھل رہی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہBinuraj TP
سرنگی، جو اس گروپ کا حصہ ہیں، کہتی ہیں کہ وہ اپنے نئے یونیفارم کو پسند کرتی ہیں کیونکہ یہ ‘بہت آرام دہ‘ ہے اور ہلنے جلنے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
وہ کہتی ہیں کہ ‘ہمارا پہلا سرکاری ہائیر سیکنڈری سکول ہے جو یونیسیکس یونیفارم متعارف کروا رہا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں ایک انقلاب کا حصہ ہوں۔‘
یونیفارم کی اس تبدیلی کو کیرالہ حکومت کی اجازت بھی حاصل ہے۔
وزیر تعلیم وی سیوان کٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ڈریس کوڈ اور سکولنگ کا پورا نظام وقت کے ساتھ بدلنا چاہیے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ نوعمر طلبا میں صنفی امتیاز کے خلاف جلد آگاہی پیدا کرنے کے لیے مزید سکول اس اقدام میں شامل ہوں گے۔‘
لیکن نئے یونیفارم قدامت پسند مسلم گروپوں کو پسند نہیں آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو نئے لباس پہننے کے لیے ‘مجبور‘ کیا جا رہا ہے۔
مسلم کوآرڈینیشن کمیٹی کے ایک رکن مجاہد بلوسیری نے کہا ‘یہ فیصلہ پی ٹی اے کی جنرل باڈی کا اجلاس بلائے بغیر لیا گیا اور اب ہماری لڑکیوں کو لڑکوں کی طرح پتلون اور قمیضیں پہننے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہ غریب خاندانوں پر ایک بہت بڑا مالی بوجھ بھی ہے۔‘
لیکن مجاہد بلوسیری کے لیے ایک بڑی تشویش ان کا یہ عقیدہ ہے کہ یکساں تبدیلی ریاست کی کمیونسٹ حکومت کے ‘بچوں پر ان کے عدم مذہبی نظریے کو مسلط کرنے کے ایجنڈے‘ کا حصہ ہے جو ان کے بقول انھیں گمراہ کر دے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘ہم اپنے عقیدے پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ لڑکیوں اور لڑکوں کو اپنی الگ الگ شناخت برقرار رکھنی چاہیے۔ لڑکیوں کو لڑکوں کی طرح لباس پہننے کی اجازت دینا انہیں آزاد جنسی تعلقات میں شروع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ صنفی تفریق کو ختم کرکے جنسی آزادی کا باعث بنے گا۔‘
پچھلے ہفتے دیگر مسلم مذہبی گروہوں کے اسی طرح کے تبصروں کے جواب میں کیرالہ اور باقی انڈیا میں بہت سے لوگوں نے شدید تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قدامت پسند گروپوں کی طرف سے لڑکیوں پر پابندیاں لگانے کی کوشش ہے۔
کیرالہ کو اکثر انڈیا کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی اور ترقی پسند ریاست کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اکثر اسے ملک کی واحد ریاست قرار دیا جاتا ہے جس نے 100 فیصد شرح خواندگی حاصل کی ہے۔
سکولوں میں طلبا کے کل داخلے کا 48.96 فیصد لڑکیاں ہیں اور اکثریت یونیورسٹی کی ڈگریاں حاصل کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBinuraj TP
لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ کیرالہ بھی باقی انڈیا کی طرح شدید پدرشاہی سماج کا حصہ ہے۔
پرنسپل اندو کا کہنا ہے کہ نئے یونیفارم پر ہنگامہ آرائی خاص طور پر حیران کن ہے کیونکہ کیرالہ کے بہت سے نجی سکولوں میں طالبات پہلے ہی پتلون پہنتی ہیں، اور ایک سرکاری جونیئر سکول نے 2018 میں چھوٹے بچوں کے لیے یونیسیکس یونیفارم کر دیا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ نئے یونیفارم کو متعارف کرانے کے پیچھے صرف ‘صنفی غیر جانبداری‘ ہے۔
‘جب سے بچے پیدا ہوتے ہیں، ہم لڑکوں اور لڑکیوں میں فرق کرتے ہیں، ہم ان کے لیے مختلف کھلونے خریدتے ہیں، لڑکوں کو بندوقیں اور کاریں ملتی ہیں جب کہ لڑکیوں کو گڑیا مل جاتی ہے، لڑکوں کو نیلے اور لڑکیاں گلابی کپڑے پہنتی ہیں، اور جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے ہیں، ان کے جوتے اور کپڑے اور بھی مختلف ہو جاتے ہیں۔‘
‘لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اگر لڑکیاں پتلون اور قمیضوں میں زیادہ اچھا اور پر اعتماد محسوس کرتی ہیں، تو انھیں یہی پہننے کی اجازت ہونی چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ تمام بچوں کو یکساں آزادی اور یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔‘










