کووڈ 19: جنوبی افریقہ سے ابھرنے والی نئی قسم اومیکرون پر سائنسدانوں کو شدید تشویش، برطانیہ اور جرمنی کی سفری پابندیاں

کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, جیمز گیلاگر
    • عہدہ, صحت اور سائنس کے نامہ نگار

عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی منظرعام پر آنے والی نئی قسم انتہائی ‘باعثِ تشویش‘ ہے اور ابتدائی شواہد کے مطابق اس نئی قسم میں ری انفیکشن کا خطرہ دیگر اقسام سے زیادہ ہے۔

کورونا وائرس کی اس نئی قسم کو اومیکرون کا نام دیا گیا ہے اور اس کے پہلے کیسز جنوبی افریقہ میں دریافت کیے گئے تھے۔

اس کے بعد متعدد ممالک بشمول برطانیہ، کینیڈا، اور امریکہ نے جنوبی افریقہ اور اس کے ارد گرد خطے کے ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

ادھر عالمی ادارہِ تجارت ڈبلیو ٹی او نے گذشتہ چار سال میں اپنا پہلا وزرا کے سطح کا اجلاس، پھر سے ملتوی کر دیا ہے۔ 160 ممالک کے وزرا نے اس اجلاس میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ملاقات کرنی تھی۔

بدھ کے روز جنوبی افریقہ میں اس اومیکرون قسم کی تصدیق کے بعد سے یہ قسم بوٹسوانا، بلجیئم، ہانگ کانگ، اور اسرائیل میں پائی گئی ہے۔

کورونا وائرس کی اس نئی قسم سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ کووڈ 19 کے خلاف تمام کوششیں ناکافی ثابت ہو سکتی ہیں اور اگر اس نئی قسم سے متعلق سائنسدانوں کے خدشات درست ہیں تو دنیا بھر میں کورونا کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔

کورونا کی اس نئی قسم کی دریافت کی اہم بات یہ ہے کہ اس وائرس کے جینیاتی ڈھانچے میں بہت زیادہ تبدیلیاں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے ایک سائنسدان نے اس نئی قسم کے کورونا وائرس کو ہولناک قرار دیا تو ایک سائنسدان کا کہنا ہے کہ یہ اب تک سامنے آنے والے تمام وائرس سے خطرناک ہے۔

ایسے میں یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ وائرس کی یہ نئی قسم کتنی تیز رفتار سے پھیل سکتی ہے اور اس میں کورونا کی ویکسین کے خلاف کتنی مدافعت موجود ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کورونا کی اس نئی قسم کا توڑ کیا ہے؟

اس نئی قسم کے بارے میں تمام تر خدشات کے باوجود ان سوالوں کے سب جواب اب تک سائنسدانوں کے پاس بھی نہیں۔

وائرس کی نئی قسم کس حد تک پھیل چکی ہے؟

اب تک اس نئی قسم (B.1.1.529) کے درجنوں مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جنوبی افریقہ کے صوبے گوٹنگ میں سامنے آئے لیکن چند متاثرین بیرون ملک بھی موجود ہیں جن میں یورپ، جنوبی افریقہ کے ہمسایہ ممالک اور اسرائیل شامل ہیں۔

افریقی ملک بوٹسوانا میں چار متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ ایک کیس ہانگ کانگ میں بھی دریافت ہوا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ مریض جنوبی افریقہ سے سفر کر رہا تھا۔

اسی وجہ سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید یہ قسم اندازے سے زیادہ پھیل چکی ہے اور جنوبی افریقہ کے زیادہ تر صوبوں میں موجود ہو سکتی ہے۔

کورونا وائرس، نئی قسم، جنوبی افریقہ

،تصویر کا ذریعہPA Media

افریقی ممالک پر سفری پابندیاں

اس نئی قسم کے سامنے آنے کے بعد برطانیہ کی جانب سے چھ افریقی ممالک پر نئی سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان میں جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو اور اسواتینی شامل ہیں۔

برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی سے منسلک جینی ہیرس کا کہنا ہے کہ وائرس کی یہ نئی قسم اب تک سامنے آنے والی تمام اقسام کے مقابلے میں زیادہ خطرناک لگتی ہے۔‘

ان کے مطابق فوری طور پر نئی ہنگامی ریسرچ کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ وائرس کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے اور کتنا مہلک ہے۔ ’یہ بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ کورونا کی ویکیسن کے خلاف اس کی مدافعت کتنی مؤثر ہے۔‘

وزیرِ صحت ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کو وائرس کی نئی قسم پر گہری تشویش ہے۔ ’یہ زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے اور ہماری موجودہ ویکسینز اس کے خلاف کم کارآمد ہو سکتی ہیں۔‘

جرمنی، اٹلی، اسرائیل اور سنگاپور نے بھی جنوبی افریقی ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی ہیں اور انھیں ریڈ لسٹ میں ڈال دیا ہے۔ جرمن وزیر صحت نے جنوبی افریقہ کو وہ علاقہ قرار دیا ہے جہاں وائرس کی نئی قسم ہو سکتی ہے، اور کہا ہے کہ یہاں سے آنے والے مسافروں کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

یورپی کمیشن کی صدر کے مطابق یورپی یونین نے جنوبی افریقی ممالک پر سفری پابندیوں کی تجویز دی ہے تاکہ یورپی ریاستوں کو وائرس کی نئی قسم سے بچایا جا سکے۔ جبکہ آسٹریلیا اس حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا اس وقت افریقی ممالک پر سفری پابندیاں لگانا ضروری ہے۔

ادھر انڈیا نے بھی تمام ریاستوں کو الرٹ جاری کیا ہے کہ جنوبی افریقہ سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ کو لازم بنایا جائے۔

دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین جمعے کو جنوبی افریقہ کے حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ ملک میں صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔

اسرائیل کے مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وائرس کی اس نئی قسم کے پہلے کیس کی تشخیص کر لی گئی ہے۔ اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق یہ شخص جنوبی افریقی ملک ملاوی سے لوٹ رہا تھا۔

اہم سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جنوبی افریقہ میں جہاں یہ نئی قسم سامنے آئی ہے وہاں اب تک صرف 24 فیصد آبادی کو ہی ویکیسن لگائی جا سکی ہے تو ایسے میں یہ نیا وائرس یورپ، جہاں ویکیسن لگوانے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے، کو کتنا متاثر کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ نئی قسم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ میں کورونا کی چوتھی لہر کے خطرے کے پیش نظر ایک بار پھر نئی پابندیوں پر غور ہو رہا ہے۔

کورونا کی نئی قسم کیا ہے؟

اب تک کورونا وائرس کی مختلف اقسام سامنے آ چکی ہیں جنھیں عالمی ادارہ صحت ایلفا اور ڈیلٹا جیسے نام دے چکا ہے۔ کورونا کی اس نئی قسم کو اومیکرون کا نام دیا گیا ہے اور اس کا تکنیکی نام بی ڈاٹ ون ڈاٹ ون فائیو ٹو نائن ہے۔

کورونا وائرس کی نئی قسم، جنوبی افریقہ

،تصویر کا ذریعہReuters

’کورونا کی اس قسم نے ہمیں حیران کر دیا ہے‘

پروفیسر ٹولیو ڈی اولیویرا کے مطابق کورونا کے اس نئی قسم نے انھیں حیران کر دیا ہے کیوںکہ اس میں 'ہماری توقعات سے زیادہ تبدیلی آ چکی ہے۔‘

انھوں نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ نئی قسم میں مجموعی طور پر 50 جینیاتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جبکہ اس میں موجود مخصوص سپائک پروٹین، جس کو ویکسین نشانہ بناتی ہے، اس میں 30 جینیاتی تبدیلیاں موجود ہیں۔

’اس وائرس کی قسم کے معائنے کے بعد ہم نے دیکھا کہ اس کا وہ حصہ جو سب سے پہلے انسانی جسم پر اثرانداز ہوتا ہے اس کی سطح پر بھی 10 جینیاتی تبدیلیاں ہیں۔‘

اہم بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل کورونا کی نئی لہر کی وجہ بننے والی ڈیلٹا قسم میں ایسی صرف دو جینیاتی تبدیلیاں پائی گئی تھیں۔

لائن
لائن

وائرس میں جینیاتی تبدیلی کا کیا مطلب ہے؟

سائنسدانوں کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ وائرس میں جینیاتی تبدیلی ہمیشہ خطرناک ہی ثابت ہو۔ لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ اس تبدیلی کے بعد وائرس کیسے بدلتا ہے۔

اصل تشویش یہ ہے کہ وائرس کی نئی قسم اس پہلے وائرس سے بہت حد تک بدل چکی ہے جو چین کے شہر ووہان میں سب سے پہلے کورونا کی وجہ بنا تھا۔ چونکہ کورونا کی ویکیسن پہلے وائرس کے معائنے کے بعد بنائی گئی تھی اس لیے نئی قسم پر اس کا اثر کم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

کورونا

،تصویر کا ذریعہReuters

ایسا نہیں کہ اس نئے وائرس کی تمام تبدیلیاں بالکل حیران کن ہیں بلکہ ساخت میں کئی ایسی تبدیلیاں بھی ہیں جو اس سے پہلے کی وائرس کی اقسام میں بھی پائی گئیں اور ان کی وجہ سے اس کے بارے میں جاننے میں مدد مل رہی ہے۔

ان میں سے ایک تبدیلی ایسی بھی ہے جو جسم میں موجود دفاعی خلیوں کے لیے وائرس کی پہچان مشکل بنا دیتی ہے جس سے کورونا کی ویکیسن کم اثر ہو جاتی ہے۔

اس سے پہلے سامنے آنے والی وائرس کی اقسام میں سے کچھ ایسی بھی تھیں جن کی جینیاتی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے خدشہ تھا کہ یہ خطرناک ثابت ہوں گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کورونا کی بیٹا قسم کے بارے میں سال کے آغاز میں کہا جا رہا تھا کہ یہ مہلک ثابت ہوگا کیوںکہ یہ جسم کے دفاعی نظام سے بچنے کی صلاحیت رکھتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اس کے مقابلے میں ڈیلٹا قسم زیادہ مہلک ثابت ہوئی جو زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔