کورونا کے خلاف سازشیوں نے ماحولیاتی تبدیلی کو نشانے پر کس طرح رکھا؟

Anti-lockdown protester in New Zealand holds up a banner saying it's all part of a larger agenda

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننیوزی لینڈ میں لاک ڈاؤن مخالف احتجاجی مظاہرین کہتے ہیں کہ یہ سب ایک بڑے ایجنڈے کا حصہ ہے
    • مصنف, ماریانا سپرنگ
    • عہدہ, سپیشلسٹ ڈس انفارمیشن رپورٹر، بی بی سی نیوز

میتھیو کو اس بات کا یقین ہے کہ اس وقت کی دو سب سے بڑی خبروں، کورونا کی عالمی وبا اور ماحولیاتی تبدیلی، کے پیچھے کچھ پراسرار طاقتوں کا ہاتھ ہے اور سچائی کو چھپایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کورونا ہو، ماحولیاتی تبدیلی کا معاملہ ہو یا پھر کچھ اور، ان سب سے جڑے خوفزدہ کرنے والے پراپیگینڈا کی اس مہم کا کوئی ڈھکا چھپا مقصد ضرور ہے۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے میتھیو گزشتہ بیس سال سے نیوزی لینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔ نیوزی لینڈ کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں کی حکومت کورونا کی وبا کے بھرپور خاتمے کے لیے سخت لاک ڈاؤن کی پالیسی پر گامزن ہے۔

نیوزی لینڈ حکومت کی اس پالیسی سے پریشان ہو کر میتھیو نے خبروں کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ انھوں نے جن آن لائن گروپس میں شرکت کی وہاں کورونا کے خلاف ماسک پہننے سمیت ویکیسن لگوانے کی بھی مخالفت کی جا رہی تھی۔

ان آن لائن گروپس میں ان بے بنیاد سازشی نظریات کا پرچار ہوتا تھا جن کے مطابق کورونا کی عالمی وبا دراصل خوفناک عالمی سازشوں کا حصہ تھی۔

A sticker showing a child being injected and the slogan: "If you accept this then your children will be next"
،تصویر کا کیپشنٹیلیگرام پر موجود گروپس اراکین کو اپنے اپنے علاقوں میں کورونا کی ویکسین کے خلاف نعرے بازی والے سٹیکرز چپساں کرنے پر اکساتے تھے

اس سازشی دنیا سے متعارف ہونے کے بعد میتھیو کے خیالات ہی نہیں ان کے رشتے بھی متاثر ہوئے۔ مجھ سے ویڈیو کال پر بات کرتے ہوئے میتھیو اس ڈر سے گھر کے باغیچے کے آخری حصے میں چھپے بیٹھے تھے کہ کہیں ان کا پارٹنر ان کی آواز نا سن لے کیوں کہ وہ ان کے تمام خیالات کا حامی نہیں۔

جن آن لائن گروپس کا میتھیو حصہ ہیں وہاں حالیہ دنوں میں کورونا کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں بھی گمراہ کن دعووں کا پرچار کیا گیا ہے۔ میتھیو کی رائے میں کورونا اور موسمیاتی تبدیلی کا پراپیگینڈا ایک ہی سازش کا حصہ ہیں۔

وائٹ روز نیٹ ورک کیا ہے؟

دیکھا جائے تو یہ سب ایک ہی کڑی کا حصہ لگتے ہیں۔ لاک ڈاؤن اور ویکیسن کے مخالف ٹیلی گرام گروپس نے اب اسی شدت سے ماحولیاتی تبدیلی کی بحث کو سازشی رخ دینا شروع کر دیا ہے جس طرح کچھ عرصہ قبل وہ کورونا کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔

ان کی پوسٹس صرف سیاسی بحث اور نکتہ چینی تک محدود نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی بحث میں غلط معلومات، جھوٹی کہانیوں اور من گھڑت سائنس کی بھرمار ہے۔

انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ کا ادارہ عالمی سطح پر غلط معلومات کی ترویج کے ٹرینڈز پر تحقیق کرتا ہے۔ ان کے محققین کے مطابق چند لاک ڈاؤن مخالف گروہ ایک ایسے آن لائن جھانسے کا شکار ہو چکے ہیں جس کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں غلط نظریات کی بھرمار کی جا رہی ہے۔

انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ سے تعلق رکھنے والی جینی کنگ کہتی ہیں کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کورونا پر قابو پانے والے حکومتی اقدامات کا استعمال کر کے لوگوں میں خوف پھیلایا جا رہا ہے اور انھیں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف متحرک کیا جا رہا ہے۔

ایسا ہی ایک گروہ وائٹ روز کہلاتا ہے جس کے ذیلی گروہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور نیوزی لینڈ سمیت دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں۔

میتھیو بتاتے ہیں کہ اس گروپ کو کوئی ایک فرد نہیں چلاتا بلکہ یہ ایک کمیونٹی کی طرح ہے جہاں آپ کو لیمپ پوسٹ پر چپساں کرنے کے لیے سٹیکر تک دستیاب ہو جاتے ہیں۔

جن سٹیکرز کی میتھیو بات کر رہے ہیں ان پر کورونا کی ویکسین اور ماسک مخالف مواد لکھا ہوا ہوتا ہے۔ ان میں مرد ماسک نہیں پہنتے اور ’نئے نارمل کی مخالفت کرو‘ جیسے نعرے بھی شامل ہیں اور ایسے جھوٹے بیانات بھی کہ کوئی وبا نہیں ہے۔ میتھیو اپنے شہر آکلینڈ کے ایک لیمپ پوسٹ پر ایک ایسا ہی سٹیکر دیکھنے کے بعد وائٹ روز کا حصہ بنے تھے۔

مجھ سے بات چیت کے دوران ہی میتھیو نے ’گریٹ ری سیٹ‘ یا نئی عالمی ترتیب کے نام سے ایک نیا سازشی نظریہ پیش کیا جس کے مطابق عالمی اشرافیہ ایک نئے پراسرار ورلڈ آرڈر کی بنیاد رکھنے جا رہی ہے جو ایک سپر حکومت کی طرح دنیا بھر کے شہریوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرے گی۔

a sticker with Bill Gates head and the slogan "Your body my choice"
،تصویر کا کیپشنلیمپ پوسٹ پر وائٹ روز کا سٹکر چسپاں ہے جس میں بل گیٹس کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ ’آپ کا جسم، میری مرضی‘

سازشوں سے بھرپور گڑھے سے واپسی کا راستہ آسان نہیں

جہاں میتھیو یہ مانتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر جن سازشی نظریات کا پرچار ہوتا ہے ان میں سے کچھ بالکل بے بنیاد ہوتے ہیں، وہیں ان کو اس بات کا بھی یقین ہے کہ حکومتوں، بڑی کارپوریشنز اور مفاد پرستوں کے درمیان کہیں نا کہیں ایکا ضرور ہے۔

میتھیو کے خیالات نے اب ان کی نجی زندگی اور قریبی رشتوں پر بھی اثر انداز ہونا شروع کر دیا ہے۔

حال ہی میں جب ان کی نو سالہ بیٹی نے سکول میں موسمیاتی تبدیلی پر بحث میں حصہ لیا تو میتھیو کو بے چینی محسوس ہوئی۔ ساتھ ہی ساتھ انھیں کبھی کبھی اس بات کی بھی پشیمانی ہوتی ہے کہ وہ سازشوں سے بھرپور اس گڑھے میں کیوں کود گئے جس سے نکلنے کا راستہ ہی نہیں۔

میتھیو کہتے ہیں کہ گزشتہ تین چار مہینوں سے وہ روزانہ صبح اس پریشانی کے ساتھ جاگ جاتے ہیں کہ کہیں کچھ ہونے والا تو نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کرسچین اسی پہلو کا دوسرا رخ دیکھ رہی ہیں۔ وہ شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں کورونا کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی نرس کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

عالمی وبا کے دوران ہی ان کی دوست (گرل فرینڈ) نے کورونا اور اس کی ویکسین کے خلاف پھیلے سازشی نظریات پر یقین کرنا شروع کر دیا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے خیال میں کرسچین بھی اس سازش کا حصہ تھیں۔ میتھیو کی ہی طرح انھوں نے بھی وائٹ روز گروپ میں شمولیت اختیار کر لی۔

کرسچین نے اپنے ہسپتال میں رات کی شفٹ پر جانے سے پہلے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات خوفناک اور پاگل پن لگتی تھی۔

اسی دوران ان کی دوست نے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف سازشی نظریات سے متاثر ہو کر ان کا پرچار اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ سے بھی کرنا شروع کر دیا۔ تنگ آ کر کرسچین نے اس سے تعلق ہی ختم کر دیا۔

کرسچین مایوسی سے سر جھٹکتے ہوئے کہتی ہیں کہ اب ان کی دوست یہ بھی مانتی ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک بڑا دھوکا ہے جس کے پیچھے دنیا سے انسانی آبادی کے خاتمے کا منصوبہ چھپا ہے۔

empty motorways

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکووڈ لاک ڈاؤنز کی وجہ سے سڑکوں پر کم گاڑیاں نظر آتی تھیں

موسمیاتی لاک ڈاون کی نئی سازش

محققین کا کہنا ہے کہ آن لائن سازشی عناصر کی جانب سے کورونا سے ہٹ کر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مہم کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کورونا کی وبا میں کمی آ رہی ہے اور ویکسین کے باعث کئی ممالک خصوصاً امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں زندگی معمول کی جانب لوٹ رہی ہے۔

انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ سے تعلق رکھنے والے محققین کے مطابق آن لائن گروپس میں یہ رواج سامنے آ رہا ہے کہ سازشی عناصر اب موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

اسی مہم میں ایک نئی سازشی تھیوری یہ بھی سامنے آئی جس کا نام موسمیاتی لاک ڈاؤن رکھا گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ نام ایک ایسے متوقع لاک ڈاؤن کو دیا گیا ہے جو سازشی نظریات کا پرچار کرنے والوں کے مطابق مستقبل میں کسی بھی وقت موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے لگایا جا سکتا ہے۔

اس تھیوری کو یو ٹیوب پر سازشی تھیوری کا پرچار کرنے والوں نے خوب استعمال کیا ہے لیکن سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ لاک ڈاؤن ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف کوئی موثر حکمت عملی نہیں ہیں۔

ان کے مطابق کورونا کے دوران عالمی سطح پر لگائے جانے والے لاک ڈاؤن میں بھی گرین ہاؤس گیس کے اخراج پر زیادہ فرق نہیں پڑا۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کورونا کی وبا اور اس کے بعد لاک ڈاؤن کی حکمت عملی نے دنیا بھر میں جس تشویشناک ماحول کو جنم دیا اس نے مزید سازشی نظریات کو ابھارا ہے۔ دنیا بھر میں کئی افراد نے کرہ ارض کی نئی حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے ہر بری خبر کا ذمہ دار طاقتور افراد کی ’پراسرار سازشوں‘ کو قرار دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس میں اینٹ ایڈین کی اضافی رپورٹنگ بھی شامل ہے