بل اور ملینڈا گیٹس کی طلاق کے بعد اُن کا خیراتی ادارہ ’بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن‘ کیسے کام کرے گا؟

بل گیٹس اور ملینڈا گیٹس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کے شریک بانی بل گیٹس اور ان کی اہلیہ ملینڈا گیٹس کی شادی کے 27 برس بعد طلاق کی خبروں نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ اور سب لوگ ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ اس جوڑے کی علیحدگی کے بعد اُن کے بڑے خیراتی ادارے ’بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن‘ کا کیا ہو گا؟

مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کا جہاں ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑا نام ہے وہیں ان کی اہلیہ ملینڈا بھی عالمی سطح پر صحت کی شعبے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اپنی نوعیت کا سب سے بڑا نجی خیراتی ادارہ بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن، عالمی سطح پر غربت اور موذی و وبائی امراض کے خاتمے کی کوششوں کے منصوبوں پر سالانہ اربوں ڈالرز خرچ کرتا ہے۔ پاکستان میں پولیو کی مہموں پر اٹھنے والے اخراجات کا بڑا حصہ یہی فاؤنڈیشن براشت کرتی ہے۔

اس خیراتی ادارے کا آغاز کب ہوا تھا؟

گیٹس فاؤنڈیشن کا آغاز سنہ 2000 میں پہلے سے چلنے والے دو خیراتی اداروں کے اشتراک کے بعد ہوا تھا۔ اس وقت بل گیٹس کو دنیا کا امیر ترین شخص سمجھا جاتا تھا۔

بل اور ملینڈا کہتے ہیں کہ انھیں اس خیراتی ادارے کے قیام کا آئیڈیا ایک اخباری رپورٹ کے ذریعے ملا تھا۔ اس رپورٹ میں یہ بتایا گیا تھا کہ کیسے غریب ممالک میں لاکھوں بچے قابل علاج امراض کا علاج نہ ہونے کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس جوڑے کا کہنا ہے کہ یہ اس دور کی بات ہے جب وہ بھی نئے نئے والدین بنے تھے اور اس خبر نے ان پر بہت گہرا اثر چھوڑا۔ انھیں یاد ہے کہ انھوں نے بل گیٹس کے والد کو یہ خبر بھیجتے ہوئے ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’شاید ہم اس سے متعلق کچھ کر سکتے ہیں۔'

بل گیٹس اور ملینڈا گیٹس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جوڑے کا اپنی فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر کہنا ہے کہ 'ان آٹھ الفاظ نے ان کی باقی زندگی کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔‘

بل گیٹس نے بتدریج مائیکرو سافٹ سے دوری اختیار کر لی تاکہ وہ خیراتی کاموں پر توجہ دیں سکیں۔ جبکہ ملینڈا نے اس خیراتی ادارے کی شریک سربراہ کے طور پر اس ادارے کی سمت کا تعین کرنے میں مدد فراہم کی خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کو خودمختار بنانے کے حوالے سے۔

غریب ممالک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فاؤنڈیشن کرتی کیا ہے؟

اس کے ابتدائی کاموں میں سے ایک ایسی عالمی تنظمیوں کو فنڈ فراہم کرنا تھا جو دنیا میں ملیریا اور ایڈز جیسی جان لیوا بیماریوں کے خاتمے کے لیے کام کرتی ہیں۔

گیٹس فاؤنڈیشن ’گیوی‘ نامی تنظیم کا بھی شریک بانی ادارہ ہے۔ گیوی ایک عالمی اتحاد ہے جس کی بنیاد سنہ 2000 میں رکھی گئی تھی اور اس کا مقصد غریب ممالک میں حفاظتی ویکیسن تک رسائی ممکن بنانا تھا۔

اس فاؤنڈیشن نے گیوی کو چار ارب ڈالر سے زیادہ رقم عطیہ کی ہے، جو اس وقت ترقی پذیر ممالک کو کورونا وبا کی ویکسین تقسیم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک میں نکاسی آب کے منصوبے بھی فاؤنڈیشن کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔

بل گیٹس نے بدگمانیوں کو کم کرنے اور تکنیکی ترقی کو ظاہر کرنے کے لیے سٹیج پر انسانی فضلے سے بھرے برتن کو لہرانے سے فضلہ ملے پانی سے پانی کو صاف کر کے پینے تک سب کچھ کیا ہے۔

بل گیٹس فاؤنڈیشن امریکہ میں بھی کام کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے والے غریب اور غیر سفید فام طلبا کو 20 ہزار وظیفے فراہم کیے ہیں۔

امریکی شہر سیاٹل میں صدر دفتر ہونے کے ساتھ ساتھ اس فاؤنڈیشن نے 135 ممالک میں مختلف فلاحی و خیراتی کاموں کے لیے 54.8 ارب ڈالرز کے عطیات دیے ہیں۔

اس فاؤنڈیشن کے اس وقت دہلی، بیجنگ، جوہانسبرگ سمیت دنیا بھر میں 1600 سے زیادہ ملازمین ہیں۔

اس تنظیم کو پیسے کہاں سے ملتے ہیں؟

بل گیٹس اور ملینڈا گیٹس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گیٹس فاؤنڈیشن اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا خیراتی ادارہ ہے جس کا انڈونمنٹ فنڈ تقریباً 50 ارب ڈالرز ہے جو کہ دنیا کے چند ممالک کے جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔

بل گیٹس فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ کے مطابق بل گیٹس اور ملینڈا گیٹس نے اس ادارے کے لیے سنہ 1994 سے سنہ 2018 تک کی اپنی دولت سے 36 ارب ڈالرز عطیہ کیے ہیں۔ اس ادارے میں عطیات کرنے والے دوسرے بڑے امریکی ٹائیکون وارن بفٹ ہیں جنھوں نے سنہ 2006 میں اس ادارے کے لیے 30 ارب ڈالرز عطیہ کیے تھے۔

سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر اس جوڑے نے سنہ 2010 میں گیونگ پلیج نامی ایک مہم چلائی تھی جس میں دیگر امیر افراد کو اپنی دولت کا زیادہ تر حصہ اچھے مقاصد کے لیے عطیہ کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔

کیا سب ان کے کام سے اتفاق کرتے ہیں؟

حالانکہ اس فاؤنڈیشن نے دنیا بھر میں اچھے کاموں پر خرچ کیا ہے تاہم بعض افراد نے نجی ادارے کے دنیا کے مختلف ممالک پر اثر و رسوخ کے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔ یہ تنظیم امریکہ کے بعد عالمی ادارہ صحت کو عطیات دینے والی سب سے بڑی نجی کمپنی ہے۔

گذشتہ برس کورونا کی وبا کے آغاز میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی مالی اعانت بند کرنے کی دھمکی کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی۔

کورونا وبا کے دوران بل گیٹس سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ ادویات کے ایک مضبوط حامی بن کر سامنے آئے ہیں۔

بل گیٹس اور ملینڈا گیٹس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ ان کی عالمی صحت کے معاملات میں شمولیت اور وبائی امراض کی صورت میں ہنگامی اتحاد جیسے اقدامات میں سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

تاہم دنیا کے مخلتف ممالک میں کورونا وبا کے دوران بل گیٹس کی جانب سے ویکسین کی حمایت کے بعد ان کی تنظیم کے متعلق غلط اور چھوٹی خبریں بھی پھیلائی گئی تھیں۔

کیا گیٹس فاؤنڈیشن اپنا کام جاری رکھے گی؟

اپنی طلاق کے متعلق اعلان کے بیان میں جوڑے نے کہا ہے کہ ’علیحدگی کے باوجود وہ فاونڈیشن میں ایک ساتھ کام کرتے رہیں گے۔‘

گیٹس فاؤنڈیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بل اور ملینڈا دونوں اس کے شریک سربراہ اور ٹرسٹی کے حیثیت سے موجود رہیں گے۔

انسائڈ فلونتھراپی نیوز ویب سائٹ کے بانی اور ایڈیٹر ڈیوڈ کلاہان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ گیٹس فاؤڈیشن اپنا کام جاری رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی معمولی خاندانی تنظیم نہیں ہے جو شادی ختم ہونے کے بعد ختم ہو جائے گی، یہ ایک بڑی اور پیشہ وارنہ تنظیم ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے گذشتہ 20 برسوں میں اس تنظیم کو بنیاد سے تعمیر کیا ہے، ان کی اس سے گہری وابستگی ہے، اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ان میں سے کسی کو 'یہ دیکھ کر خوشی ہوگی کہ وہ اپنے کام کو جاری نہیں رکھتے۔‘