کورونا وائرس: دوران حمل کووڈ 19 کی ویکسین سے انکار کرنے والی خاتون، ’جو مجھ پر بیتی وہ خوفناک تھی‘

Mike and Jade Sheppard-Palomares with baby Dot

،تصویر کا ذریعہFamily photo

،تصویر کا کیپشنمائیک اور جیڈ اپنی بیٹی کے ہمراہ

جیڈ شیپارڈ پالومارس کا 21 جولائی کو ایمرجنسی میں سی سیکشن کیا گیا تھا اور یہ وہ وقت تھا جب ماں اور بچے کی زندگی بچانے کی خاطر جیڈ کو کوما میں رکھا گیا تھا۔ کوما سے نکل آنے کے بعد اب جیڈ کو صرف ایک افسوس ہے کہ انھوں نے اس وقت ویکسین لگوانے کی پیشکش کیوں ٹھکرا دی تھی جب وہ حاملہ تھیں۔

جیڈ شیپارڈ-پالومارس 29 ہفتوں کی حاملہ تھیں جب جولائی کے آغاز میں وہ وائرس کا شکار ہونے کے بعد تیزی سے بیمار ہو گئیں۔

اپنی اذیت بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میں نہیں چاہوں گی کہ میں جس کیفیت سے گزری ہوں اس سے کوئی دوسرا گزرے کیونکہ جو مجھ پر بیتی وہ خوفناک ہے۔‘

عارضی کوما میں سی سیکشن کے ذریعے پیدا ہونے والے ان کے نومولود بچے کا وزن فقط 1.2 کلوگرام تھا، اور اس نومولود کو سات ہفتوں تک ہسپتال میں رکھا گیا اور اس کی دیکھ بھال کی گئی۔

’ہونٹ نیلے پڑ گئے‘

جیڈ اب چار بچوں کی ماں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی دائی نے انھیں ویکسین لگوانے کی پیشکش کی تھی جسے انھوں نے مسترد کر دیا تھا کیونکہ انھیں یہ خوف تھا کہ دوران حمل ویکسین لگوانے سے اُن کے نوزائیدہ بچے کی نشو ونما متاثر ہو سکتی ہے اور اس کے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا ’میں نے سوچا کہ ویکسین لگوانے کے برے نتائج ہوں گے۔‘

جیڈ اپنے پارٹنر مائیک کے ذریعے وائرس سے متاثر ہوئی تھیں۔ مائیک پہلے سے ویکسین لگوا چکے ہیں۔

Jade with baby Dot

،تصویر کا ذریعہFamily photo

،تصویر کا کیپشن16 دن بعد جیڈ نے اپنی نوزائیدہ بچی کو پہلی مرتبہ گود میں لیا

جیڈ بتاتی ہیں کہ ’ایک منٹ پہلے تک میں بستر پر تھی اور پھر اچانک ایسا ہوا کہ مجھے لگا کہ میں سانس نہیں لے پا رہی ہوں۔‘

’وہ (مائیک) کمرے میں آئے، انھوں نے کہا کہ میرا چہرہ سفیدی مائل ہو چکا ہے اور میرے ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے، اور وہ گھبرا گئے۔‘

جیڈ کو ہسپتال لے جایا گیا اور 21 جولائی کو ساؤتھ میڈ ہسپتال میں ایمرجنسی میں ان کا سی سیکشن کر دیا گیا۔ سی سیکشن سے قبل انھیں یقین دلایا گیا کہ ان کا بچہ زندہ رہے گا۔

Baby Dot

،تصویر کا ذریعہFamily photo

،تصویر کا کیپشنڈاکٹرز کا یقین تھا کہ بچہ بچ جائے گا لیکن وہ حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ آیا جیڈ کورونا سے صحت یاب ہو پائیں گی یا نہیں

انھوں نے مزید بتایا ’وائرس بہت آگے پھیل چکا تھا۔ اس نے میرے پھیپھڑوں کو اتنا متاثر کر دیا تھا کہ انھیں (ڈاکٹرز) نہیں لگتا تھا کہ میں کوما سے جاگوں گی بھی یا نہیں، لیکن انھوں نے ہر ممکن کوشش کی۔‘

وہ 10 دن کے بعد کوما سے بیدار ہوئیں اور انھوں نے اس کے چھ دن بعد پہلی بار اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا۔

جیڈ کے پہلے تین بچوں نے اپنی نومولود بہن کو پیدائش کے چار ہفتے بعد پہلی مرتبہ دیکھا۔

اس بچی کا وزن اب چھ پونڈ ہو چکا ہے۔

Jade and Mike Sheppard-Palomares
،تصویر کا کیپشنمائیک اور جیڈ

یہ بھی پڑھیے

جیڈ کا کہنا تھا ’میں کبھی نہیں کہوں گی، جاؤ اور ویکسین لگواؤ‘ کیونکہ یہ ایک انفرادی معاملہ ہے، لیکن مجھے ایسا نہ کرنے (وقت پر ویکسین نہ لگوانے) پر افسوس ہے۔‘

ان کے پارٹنر مائیک کہتے ہیں کہ ’ہمیں تو (زندہ رہنے کا) دوسرا موقع مل گیا۔ مگر یہ لوگوں پر منحصر ہے (کہ وہ ویکسین لگواتے ہیں یا نہیں)لیکن اس (واقعے) نے جیڈ کا ذہن بدل دیا ہے۔‘

برطانیہ کا صحت کا ادارہ این ایچ ایس تمام حاملہ خواتین کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنی اور اپنے نوزائیدہ بچے کی حفاظت کے لیے کورونا ویکسین لگوائیں۔

Baby Dot
،تصویر کا کیپشنبچی اب چھ پاونڈز کی ہو چکی ہے