کوپ 26 اور ماحولیاتی تبدیلی: جہاں گرمی کی شدت برداشت سے باہر ہے، وہاں انسان کیسے گزارہ کرتے ہیں؟

Graphic image showing someone looking into the sun and alongside a photo of the Earth

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماحولیاتی تبدیلی اب کوئی مستقبل کی کہانی نہیں رہی بلکہ دنیا کے کئی علاقوں میں اس کے واضح اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

آج لاکھوں لوگ درجہ حرات میں شدت، جنگلوں میں لگنے والی آگ یا سیلابی صورتحال جیسے خطرات سے دوچار ہیں۔ بی بی سی نے پانچ ایسے افراد سے بات کی ہے جن کی زندگیاں شدید گرمی کی وجہ سے بالکل بدل کر رہ گئی ہیں۔

Short presentational grey line
Woman wiping sweat from her brow

’ہماری راتوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں‘

شکیلہ بانو اکثر اپنے کنبے کے لیے سونے کا انتظام اپنے ایک منزلہ مکان کی چھت پر کرتی ہیں۔ انڈیا کے شہر احمد آباد میں رات کو بھی شدید گرمی پڑتی ہے اور بند کمروں میں سونا محال ہوتا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ کبھی کبھی تو گھر کی چھت پر بھی چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ’بہت مشکل ہوتی ہے، ہماری راتوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔‘

شکیلہ جس مکان میں اپنے خاوند، بیٹی اور تین پوتوں کے ساتھ رہتی ہیں اس میں کوئی کھڑکی نہیں اور گرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے محض ایک پنکھا ہی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے انڈیا کے کئی شہروں میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت پہنچ جانا معمول کی بات بنتی جا رہی ہے۔ گنجان آباد اور تنگ علاقوں میں خاص طور پر ’اربن آئی لینڈ ایفیکٹ‘ کے تحت یہ شہر ’حرارت کا جزیرہ‘ بن جاتے ہیں۔ کنکریٹ کی دیواریں گرمی جذب کر کے درجہ حرارت میں مزید اضافہ کرتی ہیں اور رات کو بھی کوئی بہتری نہیں آتی، بلکہ بعض اوقات تو سورج غروب ہونے کے بعد اور بھی زیادہ گرمی محسوس ہوتی ہے۔

دیگر گھروں کی طرح ایسے حالات میں شکیلہ کے مکان میں درجہ حرارت 46 سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے جس سے ان کا سر چکرا جاتا ہے اور ان کے پوتے پوتیوں کو خارش، اسہال اور گرمی سے ہونے والی تھکن کی شکایت رہتی ہے۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں, 1
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام, 1

ایسے حالات میں گرمی کا مقابلہ کرنے کے روایتی ٹوٹکے، مثلاً لسّی اور لیموں پانی کا استعمال بھی کارآمد نہیں رہتے۔

تاہم شکیلہ کے خاندان نے کچھ پیسے ادھار لے کر اپنے گھر کی چھت پر سفید رنگ کر لیا ہے۔ سفید رنگ سورج کی گرمی جذب نہیں کرتا اور اس سے گھر کے اندر کا درجہ حرارت تین سے چار ڈگری کم ہو جاتا ہے۔

شکیلہ کو یہ فرق فوراً محسوس ہوا۔ وہ اپنے اونگتے ہوئے پوتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں ’پہلے یہ دوپہر میں نہیں سو پاتا تھا، اب یہ سکون سے اونگھ رہا ہے۔‘

Short presentational grey line
Sidi Fadoua

’آگ کی مانند‘

سيدی فداع کے بقول وہ ایک گرم جگہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم افریقہ کے مغربی حصے میں واقع شمالی موریطانیہ میں اتنی گرمی پڑتی ہے کہ لوگوں کے لیے وہاں رہنا اور کام کرنا محال ہے۔ ’یہ کوئی عام گرمی نہیں، یہ تو آگ کی مانند ہے۔‘‎

سیدی صحرائے صحارا کے ایک کونے پر واقع گاؤں میں رہتے ہیں اور قریب واقع نمک کی کانوں میں کام کر کے روزی کماتے ہیں۔ یہ کام انتہائی کٹھن ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث دن کے وقت کام کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ہم مشینیں نہیں جو ایسی گرمی برداشت کر سکیں۔‘ گرمی سے بچنے کے لیے اب وہ دن کے بجائے رات بھر مزدوری کرتے ہیں۔

تاہم گرمی کے باعث روزگار کے مواقع بھی کم ہوئے ہیں۔ جو لوگ پہلے مویشی چراتے تھے ان کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں رہا کیونکہ اس علاقے میں اب کوئی سبزہ ہی نہیں رہا۔

اپنے ہمسائیوں کی طرح سیدی نے بھی ساحلی شہر نوآدیبو کا رخ کیا ہے جہاں سمندر کی ہوائیں شہر کو قدرے ٹھنڈا رکھتی ہیں۔ مقامی افراد یہاں سے گزرنے والی دنیا کی طویل ترین ٹرین پر، جو کانوں سے خام لوہا بندرگاہ لے کر جاتی ہے، سوار ہو کر شہر کا رُخ کرتے ہیں۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں, 2
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام, 2

سیدی کے مطابق ’لوگوں سے یہ گرمی برداشت نہیں ہوتی اور اب سب ہی یہاں منتقل ہو رہے ہیں۔‘

تاہم 20 گھنٹے کا ٹرین کا سفر بھی خطرے سے خالی نہیں۔ گرمی سے فرار حاصل کرنے کے غرض سے لوگ ٹرین کے ڈبوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں جہاں دن میں انھیں شدید گرمی اور سورج کی تپش کا سامنا ہوتا ہے جبکہ رات کو درجہ حرارت منفی ہندسوں میں پہنچ جاتا ہے۔

نوآدیبو میں سیدی ماہی گیری کی صنعت میں نوکری ڈھونڈ رہے ہیں جہاں سمندر کی ہوائیں ان کے لیے گرمی سے نجات کا راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔ تاہم دیہاتوں سے اس شہر کا رخ کرنے والے دیگر افراد کے لیے کام کے مواقع کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

Short presentational grey line
Patrick Michell

’بھڑکتے ہوئے بھٹے کو کیسے بجھائیں؟

براعظم امریکہ کے آبائی رہائشی پیٹرک مچل کو کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں اپنے قبیلے کے ریزرو میں موجود جنگل میں پہلی بار پریشان کن تبدیلیاں آج سے تین دہائی قبل نظر آئی تھیں۔ اُس وقت دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہو گیا تھا اور وہاں اگنے والے جنگلی مشروم غائب ہو گئے تھے۔

اِس برس ان کے یہ خدشات حقیقت میں تبدیل ہو گئے جب براعظم شمالی امریکہ گرمی کی ایک شدید لہر کے اثر میں آیا۔

جون کی 29 تاریخ کو جب ان کے آبائی گاؤں لٹن میں درجہ حرارت 49.6 ڈگری سینٹی گریڈ پر پہنچا تو وہاں گرمی کے تمام گذشتہ ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اگلے روز ان کی اہلیہ نے انھیں تھرمومیٹر کی تصویر بھیجی جس پر 53 سینٹی گریڈ نظر آ رہا تھا۔ اس کے ایک گھنٹے بعد ان کے قصبے میں آگ لگ گئی۔

ان کی آٹھ ماہ حاملہ بیٹی سرینا نے بمشکل اپنے بچوں اور پالتو جانوروں کو گاڑی میں بھرا اور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔ وہ بتاتی ہیں ’ہمارے پاس صرف وہ کپڑے ہیں جو ہم پہن کر وہاں سے نکلے۔ آگ کے شعلے تین منزلہ عمارت جتنے اونچے تھے اور بالکل ہمارے ساتھ بھڑک رہے تھے۔‘

خبر ملتے ہی پیٹرک اپنے گھر کو بچانے کے لیے واپس بھاگے۔ وہ بچپن سے جنگل کی آگ کا مقابلہ کرتے آئے ہیں لیکن موسم کی طرح حالیہ برسوں میں جنگل کی آگ کی نویت بھی تبدیل ہو گئی ہے۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں, 3
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام, 3

’یہ محض جنگل کی آگ نہیں، بھڑکتا ہوا بھٹہ ہے۔ بھڑکتے ہوئے بھٹے کو کیسے بجھائیں؟’

لیکن اپنے خاندان کی کسمپرسی کے باوجود وہ پرامید ہیں۔ ’ہم لٹن کی تعمیر نو ایسے طریقے سے کر سکتے ہیں کہ آنے والے 100 سالوں میں جس طرح کا موسم متوقع ہے اس کے مطابق۔ یہ کوئی آسان کام نہیں لیکن میں دل میں پُرامید ہوں۔‘

Short presentational grey line
Joy

’جب میں چھوٹی تھی تو ایسے نہیں ہوتا تھا‘

دریائے نائجر کے دہانے پر رہنے والی جوئے کے بقول: ’جب میں چھوٹی تھی تو موسم ایسا نہیں ہوتا تھا۔‘ یہ خطہ دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ علاقوں میں سے ہے اور یہاں گرمی دن رات بڑھ رہی ہے۔

زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے جوئے تیل کے کنوئے کی چمنی سے نکلنے والے آگ کے شعلوں کے ذریعے تاپيوكا سکھا کر بیچتی ہیں۔ ان کے چھوٹے بال ہیں کیونکہ اگر ہوا چمنی سے نکلنے والے شعلوں کا رخ بدلے تو ان کے بال جھلس سکتے ہیں۔

لیکن یہی شعلے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ یہ شعلے دراصل اس گیس کو جلانے سے نکلتے ہیں جو تیل کی تلاش کے دوران خارج ہوتی ہے۔ یہ شعلے چھ میٹر تک بلند ہو سکتے ہیں اور فضا میں خارج ہونے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک بڑا ذریعے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی نے یہاں تباہی مچا دی ہے۔ ملک کے شمال میں ذرخیز زمینیں اب صحرا میں تبدیل ہو چکی ہیں جبکہ جنوبی علاقے سیلاب سے متاثر ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق پرانے وقتوں میں ایسے نہیں ہوتا تھا۔

جوئے کا کہنا ہے کہ یہاں اکثر لوگ اتنے پڑھے لکھے نہیں کہ وہ تیزی سے بدلتے موسم کے لیے کو توجیہہ پیش کر سکیں لیکن وہ ان شعلوں پر ضرور شک کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کے خاندان کا دال دلیہ اسی سے جڑا ہے لیکن پھر بھی وہ چاہتی ہیں کہ حکومت گیس کو آگ لگانے کے عمل کو غیر قانونی قرار دے۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں, 4
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام, 4

نائجیریا سے نکلنے والے تیل سے ملنے والے دولت کا شاید ہی کوئی حصہ واپس مقامی لوگوں پر خرچ ہوتا ہے اور ملک میں آج تقریباً نو کروڑ 80 لاکھ افراد بدترین غربت کا شکار ہیں۔ جوئے کا خاندان بھی انہی میں شامل ہے۔ پانچ دن کام کرنے کے بدلے انھیں تقریباً آٹھ سو روپے ملتے ہیں۔

وہ مستقبل کے بارے میں بھی پُرامید نہیں: ’مجھے تو لگتا ہے اس دنیا سے تمام زندگی کا اختتام قریب ہے۔‘

مزید پڑھیے

Short presentational grey line
Om Naief

’یہ گرمی نارمل بالکل نہیں‘

چھ سال قبل اُمِ نعیف نے موٹروے کے قریب صحرا کے ایک ٹکڑے پر درخت لگانے کا فیصلہ کیا۔ کویت کی اس سابق بیوروکریٹ کو موسم گرما میں پڑنے والی شدید گرمی اور ریت کے بدترین طوفان دیکھنے کے بعد تشویش لاحق ہوئی تھی۔

وہ بتاتی ہیں: ’میں نے کچھ حکام سے بات کی جنھوں نے کہا کہ ریت میں کچھ بھی اگانا ناممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین میں بہت ریت ہے اور درجہ حرارت بہت زیادہ ہے لیکن میں کچھ ایسا کرنا چاہتی تھی جس سے سب حیران ہو جائیں۔‘

اُمِ نعیف مشرقِ وسطی میں رہتی ہیں جہاں باقی دنیا کے مقابلے میں گرمی زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور کویت میں تو درجہ حرارت برداشت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ 50 سینٹی گریڈ تو یہاں کا معمول بن گیا ہے اور کچھ پیش گوئیوں کے مطابق یہاں کا اوسط درجہ حرارت سنہ 2050 تک چار سینٹی گریڈ مزید بڑھ جائے گا۔

لیکن پھر بھی کویت کی معیشت تیل پر منحصر ہے۔

اُمِ نعیف کی جانب سے لگائے گئے درخت زیادہ تو نہیں لیکن کار آمد ضرور ہیں۔ ’درخت دھول، مٹی اور آلودگی کم کرتے ہیں، ہوا کو صاف رکھتے ہیں اور گرمی کی شدت میں کمی لاتے ہیں۔ حیوانات بھی ان درختوں کا رخ کرتے ہیں۔ وہاں سایہ ہے، پانی ہے، یہ ایک خوبصورت بات ہے۔‘

کویت میں ایک طبقہ اب بڑے پیمانے پر ایسی ’گرین بیلٹ‘ لگانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اُمِ نعیف کا ماننا ہے کہ انھیں اپنی زمین کی رکھوالی کرنی چاہیے۔

’یہ گرمی نارمل نہیں۔ یہ ہمارے باپ دادا کی زمین ہے۔ اس نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اور اب وقت ہے کہ ہم اس کے لیے کچھ کریں۔‘