موسمیاتی تبدیلی: امریکی ایجنسی کا کہنا ہے جولائی صدی کا گرم ترین مہینہ تھا

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وفاقی سائنس اور ریگولیٹری ایجنسی کا کہنا ہے کہ جولائی دنیا کا گرم ترین مہینہ تھا۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ زمین اور سمندر کا مشترکہ درجہ حرارت 0.93 سینٹی گریڈ (1.68 فارن ہائیٹ) رہا جو 20ویں صدی کے اوسط درجہ حرارت 15.8 سینٹی گریڈ (60.4 فارن ہائیٹ) سے زیادہ رہا۔
درجہ حرارت کے یہ ریکارڈ 142 سال قبل رکھنا شروع کیے گئے تھے، تب سے لے کر اب تک یہ سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ جولائی 2016 میں بننے والا سابقہ ریکارڈ 2019 اور پھر 2020 میں برابر ہو گیا تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ موسمیاتی تبدیلی کے طویل مدتی اثرات کی وجہ سے ہے۔
ایک بیان میں نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) نے کہا ہے کہ جولائی کا شدید گرم موسم باعثِ تشویش ہے۔
این او اے اے کے ایڈمنسٹریٹر رک سپنراڈ نے ایک بیان میں کہا ’یہ نیا ریکارڈ پریشان کن اور ان مسائل کی نشاندہی کرتا ہے جو دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بن رہے ہیں۔‘
زمین اور سمندر کا مشترکہ درجہ حرارت 2016 کے ریکارڈ سے 0.01 سنٹی گریڈ زیادہ تھا۔
شمالی نصف کرہ میں زمین کی سطح کا درجہ حرارت اوسط سے 1.54 سینٹی گریڈ زیادہ ہے جو 2012 میں قائم سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہNOAA

اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جولائی ایشیا کا گرم ترین مہینہ تھا، اسی طرح جولائی 2018 کے بعد یورپ کا دوسرا گرم ترین مہینہ تھا۔
این او اے اے کے بیان میں جولائی میں اہم آب و ہوا ’بے ضابطگیوں‘ کا نقشہ بھی شامل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس سال آنے والے سمندری طوفان کی سرگرمیاں اور تعداد غیر معمولی حد تک زیادہ ہیں۔
اس ہفتے کے شروع میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آب و ہوا کی تبدیلی کا زمین پر ایسا اثر پڑ رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، کچھ تبدیلیوں کے ’صدیوں سے ہزاروں برس تک ناقابل واپسی‘ ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جس حساب سے گیسز کا اخراج جاری ہے، ایک دہائی میں درجہ حرارت کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔
اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا۔‘
یہ بھی پڑھیے
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹیریز کے مطابق یہ نتائج انسانیت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
’اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔‘
رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ 1970 کے بعد سے عالمی سطح کا درجہ حرارت پچھلے دو ہزار برس میں کسی دوسرے 50 سالہ دورانیے کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ گیا ہے۔
جولائی 2021 میں شدید گرمی
- جولائی ایشیا میں اب تک کا گرم ترین مہینہ رہا۔
- یورپ میں یہ دوسرا گرم ترین جولائی رہا، جنوبی یورپ کے کئی حصوں کا درجہ حرارت 40 سنٹی گریڈ سے اوپر پہنچ گیا۔ اٹلی میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو کہ سسلی میں 48.8 سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
- شمالی امریکہ میں یہ ریکارڈ پر چھٹا گرم ترین جولائی تھا۔ جون کے آخر میں کینیڈا نے اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا، برٹش کولمبیا میں لٹن میں درجہ حرارت 46.6 سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
- جولائی ریکارڈ پر آسٹریلیا کا چوتھا اور نیوزی لینڈ کا چھٹا گرم ترین مہینہ تھا۔
- افریقہ میں یہ ساتواں گرم ترین جولائی تھا۔
- جنوبی امریکہ میں یہ 10 واں گرم ترین جولائی تھا۔













