کراچی پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات: پاکستان کے سب سے بڑے شہر سے پرندے کیوں روٹھ گئے؟

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
- مصنف, شبینہ فراز
- عہدہ, صحافی
یہ اک اشارہ ہے آفات ناگہانی کا
کسی جگہ سے پرندوں کا کوچ کرجانا
سنہ 80 کی دہائی میں کہا گیا عالم تاب تشنہ کا یہ شعر چالیس سال بعد بھی آج کے منظر نامے پر پورا اتر رہا ہے۔
کراچی کی فضاﺅں سے روٹھے پرندے شاید طوفان سے پہلے کے اشارے بھانپ گئے تھے اور یہاں سے کہیں دور جا بسے۔
صبح کا حسن چڑیوں کی چہچہاہٹ، کبوتر کی غٹرغوں، کوے کی کائیں کائیں اور مینا و بلبل کے سریلے گیتوں کے بغیر ادھورا ہے۔
آموں پر بور آئے اور کوئل کی کوک اور پپیہے کی ہوک نہ ہو تو شاعر شاعری کرنا بھول جائیں لیکن مشینی زندگی کی بھاگ دوڑ اور مصروفیت میں ہمیں احساس بھی نہیں رہا کہ ہم نے اپنا یہ قیمتی سرمایہ کہیں گنوا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
پرندوں کے رسیلے گیتوں کے بجائے اب ہمارے اردگرد صرف مشینی شور کی آلودگی پھیلی ہوئی ہے۔
کراچی کی فضاﺅں میں کوئل، بلبل اور طوطا و مینا تو خواب و خیال ہو گئے مگر چڑیاں بھی اب خال خال نظر آتی ہیں۔ اگر دکھائی دیتے ہیں تو فضاﺅں میں صرف چیل اور کوّے، جنھیں شکاری یا گوشت خور پرندے کہا جاتا ہے اور جانوروں کی جگہ جگہ بکھری ہوئی آلائشوں کے باعث ان کی آبادی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔
آج کا کراچی، جو کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے، بدترین ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہے۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
کروڑوں کی آبادی کو زندگی کی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ ایسے میں جانوروں اور پرندوں کی بات کرنا لوگوں کے نزدیک بے محل گفتگو ہے۔
مگر لوگ شاید یہ نہیں جانتے کہ انسان بھی صرف اسی جگہ پھلتا پھولتا ہے جہاں اس کے گرد تمام عناصر اپنی فطری ترتیب میں موجود ہوں۔
پاکستان میں پرندوں کے حوالے سے سب سے مستند کام امریکی ماہر ٹی جے رابرٹس کا سمجھا جاتا ہے۔ اس موضوع پر دو جلدوں پر مشتمل ان کی کتاب 'دی برڈز آف پاکستان' حرف آخر تصور کی جاتی ہے۔ اس میں انھوں نے پاکستان کے طول و عرض میں پائے جانے والے پرندوں کی 600 انواع شناخت کی ہیں۔
کتاب میں پرندوں کی جسامت، پہچان، آواز، خوراک، مساکن یا گھونسلے، افزائش نسل کے موسم، ہجرت کا پس منظر اور طریقہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1991 میں شائع ہوا تھا۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات پر انھیں ستارہ امتیاز عطا کیا ہے۔
صوبہ سندھ کے پرندوں کے حوالے سے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے انڈس فار آل پروگرام کے تحت ایک تحقیق کی گئی تھی۔ اس پروگرام سے وابستہ ناصر پنہور کا کہنا ہے کہ سندھ میں پرندوں کی 400 انواع پائی جاتی ہیں جنھیں چار کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں شکاری پرندے، گانے والے پرندے، آبی پرندے اور دیگر انواع شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر پرندوں کی کراچی میں موجودگی ریکارڈ پر ہے۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
پرندوں کے بارے میں اعداد و شمار جمع کرنے والے بین الاقوامی ادارے ایوی بیس کے مطابق کراچی میں پرندوں کی 357 انواع پائی جاتی ہیں اور ان میں سے کم از کم 18 انواع کو بقا کا خطرہ لاحق ہے۔
پرندوں نے کراچی کو الوداع کیوں کہہ دیا؟
پرندوں کی اتنی زیادہ انواع ہونے کے باوجود کراچی کی فضائیں پرندوں کی چہکار سے کیوں محروم ہوگئی ہیں، یہ معاملہ یقیناً ماہرین کے لیے تحقیق اور غور طلب ہے لیکن کچھ وجوہات ایسی ہیں جن پر سبھی متفق ہیں۔
مقامی درختوں کی کمی، کونوکارپس جیسے بدیسی درخت کا مونو کلچر، اور سیمنٹ کے پختہ گھروں نے دھیرے دھیرے پرندوں کو کراچی سے ہجرت پر مجبور کردیا۔
پرندوں کو گھونسلہ بنانے، چھپنے اور کھانے کے لیے مقامی درختوں کے پھل درکار ہوتے ہیں۔ مختلف پرندوں کو مختلف درختوں کا پھل اور مسکن چاہیے ہوتا ہے، پیپل اور گولر کے پھل کے تلاش میں بہت پرندے آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
لیکن کراچی کی بدقسمتی کہ مقامی درخت بے دریغ کاٹ دیے گئے اور کونوکارپس جیسے بدیسی درخت لگا دیے گئے جن سے پرندے مانوس نہیں تھے۔
کراچی کا موجودہ جدید طرز تعمیر بھی پرندوں کے لیے موزوں نہیں رہا۔ پرانے گھر انیٹوں کے بنے ہوتے تھے، جن میں بلند روشن دان اکثر پرندوں کا ٹھکانہ ہوتے، اس کے علاوہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اینٹوں سے تعمیر کردہ دیواروں میں جھریاں اور درزیں پیدا ہوجاتی تھیں جن میں چھوٹے پرندے اور گلہریاں وغیرہ گھونسلہ بنا لیتے لیکن سیمنٹ کی تعمیرات نے پرندوں کے لیے یہ راستہ بھی بند کردیا۔
صدقہ خیرات کے لیے گوشت کی فراہمی اور کچرے میں موجود آلائشوں نے چیل کووّں کی آبادی بہت بڑھا دی ہے جس سے چھوٹے پرندے یہاں سے جانے پر مجبور ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
کراچی کے کچھ سینیئر افراد سے بات کی جائے تو ان کی گفتگو سے ماضی کے کراچی کا ایک خوبصورت منظرنامہ ابھرتا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف سے بطور ٹیکنیکل ایکسپرٹ وابستہ محمد معظم خان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے کراچی میں اپنے بچپن میں بے تحاشہ پرندے دیکھے۔ جن میں چڑیا ،مینا، کوئل، مگس گیر یعنی بی ایٹر، درزی چڑیا، شکر خورہ ،طوطا ،بگلا، فاختہ، ہد ہد، الو،ابابیل ، عقاب، کوے ، چیل اورگدھ وغیرہ شامل ہیں۔‘
ایک زمانہ تھا کہ ہجرت کرنے والے پرندوں کی بھی بہت بڑی تعداد کراچی کے ساحلوں پر اترتی تھی۔
ان میں عالمی طور پر خطرات سے دوچار سائیبیرین کونج، سفید سر بطخ، راج ہنس، حواصل، لق لق، چمچہ بزا، سرخاب، سیخ پا، پھاراﺅ، لال سر، نیل سر، چارو بطخ، پن ڈبی، جل مرغی، گِدھ، باز اور تلور وغیرہ شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
گِدھوں کے حوالے سے معظم صاحب کا کہنا ہے کہ کراچی میں گِدھوں کی بھی بہت بڑی تعداد پائی جاتی تھی۔ گِدھ کی ایک قسم 'گریفن ولچر' جسامت میں بہت بڑا ہوتا ہے۔
'بچپن میں دیکھی گئی فلم سند باد میں ایک گِدھ انسانوں کو اٹھا کر لے جاتا ہے، ہمارے خیال میں یہی وہ گِدھ تھا۔ ہم سب کلاس فیلوز اس سے بہت ڈرتے تھے۔ جس درخت پر اس گِدھ کا بسیرا تھا، ہم اس سے دور رہتے۔'
معظم صاحب نے مزید بتایا کہ 1960 میں تیزگام ٹرین کا حادثہ ہوا تھا جس میں بھینسوں کے ایک گلّے پر ٹرین چڑھ گئی تھی۔ ’ان مردہ جانوروں کو کھانے کے لیے انڈیا سے لاکھوں کی تعداد میں گِدھ یہاں پہنچے تھے۔۔۔ جنگ اخبار میں گِدھوں کے پہنچنے کی خبر اور تصویر بھی لگی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہABdullah Saleem
معظم صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرندے صرف مقامی درختوں پر ہی پائے جاتے ہیں۔ وہ ان ہی پر گھونسلہ اور ان ہی درختوں کے پھل کو غذا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
انھوں نے اپنی یادداشت کو مزید تازہ کیا اور بتایا کہ پی ای سی ایچ میں رحمانیہ مسجد کے قریب ایک گھر ہے جس میں بہت پرانا پیپل کا درخت لگا ہوا ہے۔
’اس درخت کو میں نے صبح کے وقت بے شمار کوئل سے لدا ہوا دیکھا ہے۔ سو سے زائد کوئل ہوں گی اور سب کی سب مادہ کوئل تھیں۔ پرانے درختوں پر پرندے شوق سے بسیرا کرتے ہیں۔ ہد ہد کی بھی بہت بڑی تعداد کراچی میں نظر آتی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
اسی طرح کراچی یونیورسٹی میں گرلز ہوسٹل کے سامنے 'بڑ' کے دو پرانے درخت موجود ہیں۔ ان درختوں پر سیکڑوں چھوٹی چڑیاں بسیرا کرتی تھیں۔
بلا مبالغہ ان کی تعداد لاکھوں میں ہوتی تھی۔ اب سنا ہے ان درختوں کو 'چھانٹ' دیا گیا ہے۔ جانے اب یہ چڑیا کہاں بسیرا کرتی ہوں گی۔
ققنس پرندہ اور کراچی
کراچی کے ایک سینیئر ادیب اور شاعر سید انور فراز نے ایک دلچسپ بات بتائی۔ ان کا کہنا ہے کہ ادب اپنے عصر کا عکاس ہوتا ہے اور تخلیق کار اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
انھوں نے بتایا کہ 90 کی دہائی میں کراچی اپنے بدترین دور سے گزر رہا تھا، ایسے میں کراچی کے ادیب و شاعر اپنی نجی محفلوں میں کراچی کے حالات پر افسردہ ضرور رہتے لیکن ایک خوش امیدی بھی دامن گیر رہتی اور وہ سب اس شہر بے مثال کو ققنس پرندے سے تشبیہ دیا کرتے، کہ ققنس ہی کی طرح یہ شہر بھی اپنی راکھ سے دوبارہ جنم لے گا اور جی اٹھے گا۔
ققنس کا ذکر قدیم یونانی، مصری اور چینی روایتوں میں ملتا ہے۔ یہ نہایت خوبصورت پرندہ ہے، کہا جاتا ہے کہ اس پرندے کی عمر نہایت طویل ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
مشہور ہے کہ یہ ہر قسم کا راگ گاتا ہے۔ اس کی چونچ میں تین سو ساٹھ سوراخ ہوتے ہیں۔ جب مرنے کے قریب ہوتا ہے تو سوکھی لکڑیاں جمع کر کے ان میں بیٹھ کر ایسا گیت گاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی چونچ سے چنگاریاں نکلنے لگتی ہیں۔
جس سے لکڑیوں میں آگ لگ جاتی ہے اور یہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ جب راکھ پر مینہ برستا ہے تو اس راکھ سے انڈا پیدا ہوتا ہے اور اس میں سے پھر ققنس پیدا ہوتا ہے۔ کراچی شہر اس علامتی پرندے ققنس کی تشبیہ پر پورا اترتا ہے یا نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ ان تین چار دہائیوں میں اس کی فضاﺅں میں پھڑپھڑاتے، کانوں میں رس گھولتے لاکھوں حقیقی پرندے دھیرے دھیرے منظر سے غائب ہوتے چلے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
'سرد مقامات سے آنے والے مہاجر پرندوں میں کمی'
کراچی کے ایک انگریزی اخبار سے وابستہ صحافی اورطیور دیدہ (برڈ واچر) زوہیب احمد کئی سالوں سے کراچی اور اس کے مضافات میں پرندوں کا نہ صرف مشاہدہ کررہے ہیں بلکہ ان پرندوں کی عکس بندی بھی ان کے شوق میں شامل ہے۔
ان کے مشاہدات کچھ مختلف ہیں، انھوں نے تفصیل سے بتایا کہ وقت کے ساتھ آبادی کے بے پناہ دباؤ سے کہیں کچھ پرندوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھی ہے تو کہیں کچھ پرندوں کی تعداد میں کمی بھی محسوس کی جا رہی ہے۔
جیسا کہ کچرا بڑھنے سے چیل کوّے مینا اور اُلو کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے تو پارکوں کے اُجڑنے، گھروں کے آنگن سے کیاریوں اور درختوں کے ختم ہونے سے چڑیا، بلبل، طوطا، درزی چڑیا اور شکر خورے کی تعداد میں واضح کمی محسوس کی جا رہی ہے۔
اگست، ستمبر، اکتوبر میں تلیر ہزاروں کی تعداد میں پہلے آتے تھے اب بہت کم ہو گئے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ 2018 میں، کراچی میں 100 سے زیادہ نایاب عقاب دیکھے تھے جن کی نسل کو بقا کا خطرہ لاحق ہے۔ 2019 میں انھوں نے اپنی جگہ بدلی اور ٹھٹھہ کے پاس دیکھے گئے لیکن تعداد کم تھی، اس سال تو تعداد اور کم ہے صرف سات آٹھ نظر آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
زوہیب نے مزید بتایا کہ مائی کولاچی پر اتھلے پانی میں بائی پاس بننے سے پہلے فلیمنگو اترتے تھے، پورٹ قاسم پرموجود آلودگی اور آوارہ کتوں کی وجہ سے دھیرے دھیرے ان کی تعداد اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ سرد مقامات سے آنے والے مہاجر پرندوں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔ پرندے کم ضرور ہوئے ہیں لیکن کچھ نئی انواع بھی مشاہدے میں آئی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ کبوتر ہی کی ایک قسم (یلو فوٹڈ گرین پیجن) جو عموماً جنگلات اور گاؤں میں پائی جاتی تھی اب کراچی میں نظر آنے لگا ہے۔ زوہیب کا دعویٰ ہے کہ کراچی شہر میں اس پرندے کو صرف انھوں نے ہی دیکھا ہے وہ پرندہ ایسی جگہ اتر رہا ہے جہاں چہل پہل کم ہے مثلاً کینٹ کی فوجی چھاﺅنی میں بڑے درختوں پر اور نارتھ ناظم آباد میں رینجرز کے آفس کے پاس دیکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
زوہیب کا کہنا ہے کہ انھوں نے کراچی کے چڑیا گھر میں بہت سے انواع و اقسام کے پرندے دیکھے ہیں۔ اس وسیع و عریض رقبے کو برڈ سینکچری تبدیلی کیا جا سکتا ہے۔
کبوتر چورنگیاں اور غائب ہوتی چڑیا؟
ماہرین طیور کے مطابق کراچی میں بے شمار پرندوں کے منظر سے غائب ہونے میں کبوتر چورنگیوں کا بھی ہاتھ ہے۔ یہ چورنگیاں اب کراچی شہر کی علامت بن کرشہر میں جگہ جگہ قائم ہیں جہاں ہر وقت سیکڑوں کی تعداد میں کبوتر موجود ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
عام لوگوں کے نزدیک کبوتروں کی اتنی تعداد میں موجود ہونا برکت کا سبب ہے۔ افتخار احمد کراچی کے شہری ہیں جو ہائی کورٹ کے سامنے موجود کبوتر چورنگی پر صبح آفس جاتے ہوئے باقاعدگی سے دانہ ڈالتے ہیں بلکہ اتوار کے دن وہ ثواب کی غرض سے اپنی بیٹی کے ہاتھ سے بھی دانہ ڈلواتے ہیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ کراچی میں پرندے کم نہیں ہیں۔ انھوں نے کبوتر چورنگی کی مثال دی جہاں روزانہ سیکڑوں کبوتر سارا دن دانہ کھاتے رہتے ہیں۔
زوہیب احمد نے اس حوالے سے بتایا کہ کراچی میں ایک نہیں کئی کبوتر چورنگیاں موجود ہیں۔ یہ چورنگیاں ہائی کورٹ، نوائے وقت کے آفس کے قریب، حیدری، لیاقت آباد، ناظم آباد انڈر بائی پاس کے بالکل اوپر، گلستان جوہر مین شاہراہ پر قائم ہیں۔
وہاں دانہ ڈالنے والوں کو دو کیٹگری میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو چلتے پھرتے یا یہاں سے گزرتے ہوئے کبھی کبھار دانہ ڈال دیتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ جو صدقے اور ثواب کے حصول کے لیے تسلسل سے دانہ ڈالتے ہیں۔ چونکہ ثواب کی نیت سے رکھا گیا دانہ پانی کبوتروں کو باآسانی ہر جگہ مل جاتا ہے اس لیے ان کی افزائش نسل بھی زوروں پر ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ ایک غیر متوازن عمل ہے اورخطرہ ہے کہ اگر کبھی ان کبوتروں میں کوئی بیماری پھیل گئی توان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث اسے کنٹرول کرنا ناممکن ہوجائے گا۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
چڑیا اگرچہ ایک عام پرندہ ہے مگر اس کی آبادی دنیا بھر میں کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ برطانیہ میں صرف 1994 سے 2001 کے درمیان 70 فیصد چڑیا غائب ہو چکی ہیں اور انھیں آئی یو سی این یو کے کی ریڈ لسٹ میں بقا کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں بھی چڑیا معدومیت کے خطرات سے دوچار انواع میں شامل ہو چکی ہے اور آئی یو سی این انڈیا کی ریڈ لسٹ میں موجود ہے۔
پاکستان میں جنگلی کبوتروں کی بڑھتی ہوئی آبادی نے چڑیا کی بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جنگلی کبوتر غذا اور گھونسلے کے حوالے سے چڑیا کے حریف ہوتے ہیں۔ چڑیا چونکہ ان سے چھوٹی اور کمزور ہوتی ہے اس لیے وہ مزاحمت نہیں کرپاتی ہے۔ اس لیے اس کی تعداد روز بہ روز کم ہوتی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
پاکستان میں اگرچہ چڑیا ریڈ لسٹ میں شامل نہیں ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس کا سبب اس حوالے سے کسی مستند تحقیق کا نہ ہونا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر تحقیق ہو تو پاکستان میں بھی چڑیاں ریڈ لسٹ میں شامل ہو جائیں گی۔
معظم صاحب کا کہنا ہے کہ ایک بار ہم سمندر کے کنارے پی این ایس سی کی بلڈنگ کے قریب پرندوں کے حوالے سے تحقیق کررہے تھے۔ وہاں لوگ آ کر سی گل کو ثواب کے لیے گوشت کھلایا کرتے تھے۔ ہم صرف تین ماہ کا ہی ڈیٹا جمع کر سکے کیونکہ گوشت کی وجہ سے وہاں سب چیلوں نے قبضہ کر لیا اور دیگر تمام پرندوں کو بھگا دیا۔
پرندوں کے نہ ہونے کے نقصانات
پرندوں کا شہر سے غائب ہوجانا اور شکاری پرندوں مثلاً چیل، کوّے، مینا اور جنگلی کبوتروں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ شہر کے ماحولیاتی نظام کے توازن کو درہم برہم کر چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
پرندوں کا نہ ہونا بہت سے وبائی امراض کو بھی جنم دیتا ہے جو ایسے کیڑے مکوڑوں سے پھیلتے ہیں جنھیں پرندے کھاتے ہیں۔
پچھلے سال کھیتوں پر ٹڈیوں کا حملہ اسی لیے نہیں کنٹرول ہوسکا تھا کہ ان ٹڈیوں کو کھانے والے پرندے غائب ہوچکے ہیں۔ پرندے پھل شوق سے کھاتے ہیں اورشہروں میں بے شمار درختوں خصوصا پھل دار درختوں کی افزائش ان ہی پرندوں کے باعث ہوتی ہے۔ پولی نیشن جیسا اہم کام یہ مفت انجام دیتے ہیں۔
شہروں میں کنکریٹ سے بنی بلندو بالا عمارات، سیل فون ٹاوراور درختوں کا موجود نہ ہونا پرندوں کو شہر سے دور لے جارہا ہے اور ان کے ساتھ ہماری زندگی کا حسن بھی رخصت ہورہا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق فطری ماحول (سبزہ، درخت، پرندے اور آب گاہیں) ذہنی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں اوردنیا کے کئی ممالک خصوصاً سکاٹ لینڈ میں باقاعدہ یہ قانون پاس ہوچکا ہے کہ ڈاکٹر اپنے مریضوں کو 'گرین ریمیڈی' تجویز کر سکتے ہیں جس میں فطرت کے قریب رہنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
ماہرین نفسیات کے مطابق کھلی فضا میں قدرتی مناظرمثلاً درختوں کی قربت، آکسیجن کی زیادہ مقدار اور پرندوں کی آوازیں سیروٹنین نامی کیمیکل کی مقدار ہمارے جسم میں بڑھاتی ہیں۔ یہ کیمیکل ہمارے دماغی افعال میں توازن پیدا کرتا ہے اور اس سے ایک خوشی کا احساس بھی جنم لیتا ہے، اداسی اور مایوسی دور ہوتی ہے۔
سورج کی روشنی صرف سیروٹنین ہی نہیں بلکہ میلاٹونین نامی کیمیکل کی مقدار کو بھی بڑھاتی ہے جس سے ہمارے دماغ پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ہمیں گہری اور پرسکون نیند آتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہZohaib Ahmed
دس سال قبل پرندوں کی ایک عالمی تنظیم برڈ لسٹ کی تحقیق کے مطابق کرہِ ارض پر موجود تمام پرندوں کے تعداد اندازاً 200 سے 400 ارب تھی اور جب انھیں انسانی آبادی پر تقسیم کیا گیا تو فی فرد 40 سے60 پرندے شمار کیے گئے۔
کراچی کی تین کروڑ آبادی کی ذہنی صحت کے لیے شہر میں کتنے ہرے بھرے اشجار اورچہچہاتے پرندے موجود ہونا چاہیے اس کے لیے کسی تحقیق کی نہیں صرف گردن گھمانے کی ضرورت ہے۔












