میلوں کا ریکارڈ سفر کرنے والی ننھی ’اولمپئین چمگادڑ‘ بلی کے ہاتھوں ماری گئی

چمگادڑ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک ننھی چمگادڑ جس نے لندن سے روس تک 1200 میل کا ریکارڈ سفر کیا تھا کو ایک بلی نے حملہ کر کے مار دیا ہے۔

اس مادہ چمگادڑ، نتوسیس پائپسٹریل کی جسامت ایک انسانی انگوٹھے جتنی ہے اور یہ روس کے سکوو خطے میں دریافت ہوئی تھی۔

اس چمگادڑ کے پر کے اوپر لندن کے چڑیا گھر کی مہر لگی ہوئی ہے۔ اسے بحالی کے لیے کام کرنے والے ایک گروہ نے بچایا تھا لیکن بعد میں اس کی موت ہو گئی۔

یہ برطانیہ اور یورپ بھر میں کسی چمگادڑ کا کیا جانے والا سب سے لمبا سفر ہے اور اس نے برطانیہ میں بننے والے اس قسم کے تمام ریکارڈز کو مات دے دی۔

اس مادہ چمگادڑ کا وزن آٹھ گرام تھا اور اس کا پتہ روس میں مولگینو کے ایک چھوٹے سے دیہی علاقے کے مکین سویٹلانا لپینا نے لگایا تھا۔

اس دریافت سے برطانیہ میں چمگادڑوں کو محفوظ رکھنے کے لیے قام کرنے والے رفاہی ادارے کو آگاہ کیا گیا تھا۔

لیزا ورلیج اسی ادارے سے منسلک ہیں۔ انھوں نے اس چمگادڑ کو ایک اولمپئین کہہ کر پکارا۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک قابل ذکر سفر تھا اور ہمارے علم میں موجود اب برطانیہ اور یورپ کے اوپر سے اب تک کیا جانے والے طویل ترین سفر ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ مادہ چمگادڑ کا سفر دلچسپ سائنسی معلومات سامنے لایا اور چمگادڑوں کی نقل مکانی کے بارے میں موجود پہیلی کے بارے میں ایک اور قدم تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس مادہ چمگادڑ کی برطانیہ کے گرد اور اندر اور دیگر براعظموں میں نقل و حرکت بہت پراسرار رہی ہے۔

برائن برگز جو کہ چمگادڑوں کا ریکارڈ رکھتے ہیں نے اس کے پر پر مہر لگائی تھی۔ اس وقت یہ لندن میں تھی۔

مزید پڑھیے

برگز کہتے ہیں کہ یہ بہت دلچسپ تھا، یہ بہت بڑی بات ہے کہ ہم بین الاقوامی سطح پر تحفظ سے متعلق کسی کام میں حصہ لینے کے قابل ہوں۔ ان کی حفاظت کریں اور ان غیر معمولی جانوروں کی دلکش زندگی کے بارے میں مزید جانیں۔‘

اس ریکارڈ کو یورپ کے سفر میں بنانے والی ایک اور چمگادڑ نتوسیس پائپسٹریل نے لٹویا سے سپین کا سفر سنہ 2019 میں کیا تھا۔ انھوں نے 1382 میل کا ریکارڈ بنایا تھا۔

اس مادہ چمگادڑ کی نقل مکانی کی حدود کے بڑھ جانے کو موسمیاتی تبدیلی سے منسلک کیا جاتا ہے۔ اور یہ پی پیشن گوئی کی جاتی ہے کہ یہ موسمیاتی تبدیلی مستقبل پر اثرات مرتب کرے گی۔

برطانیہ میں سنہ 2014 میں قومی نتوسیس پائپسٹریل کے پراجیکٹ کو شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد ان کی افزائش، تقسیم اور نقل مکانی کے انداز پر روشنی ڈالنی تھی۔ اب برطانیہ میں 2600 نتوسیس پائپسٹریل موجود ہیں۔