کورونا وائرس: بیٹ وومن کہلائے جانے والی چینی سائنسدان شی زینگلی اپنی لیبارٹری کا دورہ کروانے کے لیے تیار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جان سڈورتھ
- عہدہ, بی بی سی نیوز، یونن
چین کے شہر ووہان کی اُس لیبارٹری سے تعلق رکھنے والی سائنسدان جن پر الزام ہے کہ اُن کی لیبارٹری کی غفلت سے کورونا وائرس باہر پھیلا، نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس الزام کو غلط ثابت کرنے کے لیے ماہرین کے 'کسی بھی طرح کے دورے' کے لیے تیار ہیں۔
پروفیسر شی زینگلی کا حیرت انگیز بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی ادارہ صحت کی ٹیم آئندہ ماہ ووہان جانے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ کووڈ 19 کی وبا کے آغاز کی تحقیقات کر سکے۔

چین کے جنوب مغربی صوبے یونن کے دور دراز ضلع ٹونگوان پہنچنا عموماً مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جب حال ہی میں بی بی سی کی ایک ٹیم نے وہاں جانے کی کوشش کی تو یہ علم ہوا کہ یہ ناممکن تھا۔
بے نشان کاروں میں سادہ لباس پولیس اہلکار اور دیگر عہدیدار تنگ اور خراب سڑکوں پر کئی میل تک ہمارا پیچھا کرتے رہے۔ جب ہم رکتے تو وہ رک جاتے اور جب ہمیں واپس آنے پر مجبور کیا گیا تب وہ بھی ساتھ ہی پیچھے مڑ گئے۔
ہمیں اپنے راستے میں سڑک پر رکاوٹیں ملیں، ایک 'خراب' ٹرک بھی جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے تصدیق کی کہ اسے ہمارے پہنچنے سے چند منٹ پہلی ہی سڑک پر لایا گیا تھا۔

اور ہمیں ایسی ناکہ بندیاں ملیں جہاں نامعلوم افراد نے ہمیں بتایا کہ ان کا کام ہمیں روکنا ہے۔
بظاہر تو آپ کو لگ سکتا ہے کہ ایک معمولی جگہ جانے سے روکنے کے لیے یہ غیر معمولی کوشش ہے، کیونکہ ہماری منزل تانبے کی ایک عام سی متروکہ کان تھی جہاں پر 2012 میں چھ لوگوں کو ایک پراسرار بیماری نے اپنا نشانہ بنایا، اور ان میں سے تین اس مرض سے ہلاک ہوگئے تھے۔
لیکن یہ حادثہ جسے یقینی طور پر لوگ بھول گئے ہوتے لیکن اسے کووڈ 19 کی وبا نے ایک نئے معنی دے دیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ تین اموات اب وائرس کی ابتدا کے متعلق ایک بڑے سائنسی تنازعے کا مرکز ہیں کہ کیا کووڈ 19 قدرتی ہے یا کسی تجربہ گاہ سے نکلا ہے۔
اور ہمیں اس جگہ تک پہنچنے سے روکنے کی چینی حکام کی کوششیں اس بات کی علامت ہیں کہ وہ اس بیانیے پر قابو رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یونن میں جنگلات سے ڈھکے طویل پہاڑی سلسلے اور ان کے اندر موجود غاروں کے جال ایک بڑی سائنسی تحقیق کا مرکز رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سائنسی تحقیق کی قیادت کر رہی ہیں ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی (ڈبلیو آئی وی) کی پروفیسر شی زینگلی۔
پروفیسر شی نے دریافت کیا تھا کہ 2003 میں سارس سے ہونے والی 700 سے زیادہ افراد کی موت ایک وائرس کی وجہ سے ہوئی تھی جو شاید یونن کے غاروں میں موجود چمگادڑ کی ایک نسل سے آیا تھا۔ اس دریافت سے انھیں بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔
'چین کی بیٹ وومن' کے نام سے جانی جانے والی پروفیسر شی اسی طرح کی مزید وباؤں کی پیش گوئی اور ان کی روک تھام کرنے کے ایک پراجیکٹ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
اس پروجیکٹ کی ٹیم چمگادڑوں کو پکڑ کر، ان کے فضلے کے نمونوں کو 1600 کلومیٹر دور ووہان کی لیبارٹری میں لے جا کر چمگادڑوں میں موجود سینکڑوں نئے کورونا وائرسز کی نشاندہی کر چکی ہے۔
لیکن چونکہ ووہان کورونا وائرس کے متعلق دنیا کا صفِ اول کا تحقیقی مرکز ہے اور ساتھ ہی اس مہلک وبائی بیماری سے تباہ ہونے والا پہلا شہر بھی ہے، اس لیے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ دونوں چیزیں آپس میں منسلک ہیں۔
چینی حکومت، پروفیسر شی اور ان کے انسٹیٹیوٹ، سب نے ہی ووہان کی لیب سے وائرس لیک ہونے کے الزام کو پرزور انداز میں مسترد کیا ہے۔
اب جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مقرر کردہ سائنس داںوں کی ٹیم اس وبا کے بارے میں تحقیقات کے لیے جنوری میں ووہان جانے والی ہے، تو اس موقع پر پروفیسر شی، جنھوں نے وبا کے آغاز سے اب تک بہت کم انٹرویوز دیے ہیں، نے ای میل کے ذریعے بی بی سی کے کئی سوالوں کا جواب دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان تحقیقات سے وائرس کے لیب سے لیک ہونے کی قیاس آرائیوں کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تو انھوں نے لکھا، 'میں نے ڈبلیو ایچ او کے ماہرین سے دو بار بات چیت کی ہے، میں نے ذاتی طور پر اور واضح طور پر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ میں ڈبلیو آئی وی انسٹیٹیوٹ کے دورے کا خیرمقدم کروں گی۔'
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ڈبلیو آئی وی کے تجرباتی ڈیٹا اور تجربہ گاہوں کے ریکارڈ پر باضابطہ تحقیقات بھی اس میں شامل ہوں گی تو اس کے جواب میں پروفیسر شی نے کہا: 'میں کھلے، شفاف، بھروسہ مند، قابل اعتماد اور معقول بنیادوں پر ہونے والے کسی بھی طرح کے دورے کا خیرمقدم کروں گی۔ لیکن منصوبے کی تفصیلات کا تعین میں نہیں کر سکتی۔'
اس کے بعد بی بی سی کو ڈبلیو آئی وی کے پریس آفس کا فون آیا جس میں کہا گیا تھا کہ پروفیسر شی ذاتی حیثیت میں بات کر رہی تھیں اور ان کے جوابات ڈبلیو آئی وی سے منظور شدہ نہیں تھے۔
پریس آفس نے بی بی سی سے درخواست کی کہ اس مضمون کی اشاعت سے قبل اس کی کاپی انھیں بھیجی جائے تاہم بی بی سی کی جانب سے یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔

کئی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کہیں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ سارس کوو-2 وائرس جو کہ کووڈ 19 پھیلاتا ہے قدرتی طور پر بیچ کے کسی جانور کے ذریعے چمگادڑوں سے انسانوں تک پہنچا ہو۔
اور پروفیسر شی کی پیش کش کے باوجود بھی اس بات کا امکان کم ہے کہ عالمی ادارہ صحت لیب سے وائرس لیک ہونے کے نظریے پر انکوائری کرے گا۔
ڈبلیو ایچ او کی انکوائری کی شرائط میں اس نظریے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ 10 رکنی ٹیم کے کچھ ارکان نے تو اس نظریے کو مسترد کیا ہے۔
برطانیہ کے ماہر حیاتیات پیٹ ڈسزاک کو بھی جنگلی وائرسوں کے متعلق کروڑوں ڈالر مالیت کے ایک بین الاقوامی تحقیقی منصوبے میں ان کے مرکزی کردار کی وجہ سے ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
اس پراجیکٹ میں پروفیسر شی کے ساتھ قریبی تعاون بھی شامل تھا کیونکہ وہ چین میں چمگادڑوں پر بڑے پیمانے پر تحقیق کر چکی ہیں، اور ڈاکٹر ڈسزاک لیب سے لیک ہونے کے نظریے کو 'سازشی تھیوری' اور 'بیوقوفی' کہہ چکے ہیں۔
انھوں نے کہا: 'میں نے اب تک اس وبا میں لیب سے لیک ہونے یا لیب کے اس میں ملوث ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں دیکھا ہے۔'
ان کا مزید کہنا تھا: 'میں نے اس کے کافی ثبوت دیکھے ہیں کہ یہ قدرتی طور پر واقع ہوتا ہے جس کی وجہ انسانوں کی جانب سے جنگلی حیات کے علاقوں پر قبضہ ہے اور یہ جنوب مشرقی ایشیا میں عام ہے۔'
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ووہان کی لیب سے وائرس لیک ہونے کے نظریے کو مسترد کرنے کے لیے لیب تک رسائی طلب کریں گے، تو انھوں نے کہا: 'یہ میرا کام نہیں ہے۔' انھوں نے کہا کہ 'عالمی ادارہ صحت نے انکوائری کی شرائط طے کی ہیں اور ان شرائط کے مطابق ہمیں شواہد پر عمل کرنا ہو گا، اور ہمیں یہی کرنا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انکوائری کی ایک توجہ ووہان کے ایک بازار پر بھی ہوگی جس کے بارے میں معلوم ہے کہ وہاں جنگلی حیات کی تجارت ہوتی تھی اور وبا کے متعدد ابتدائی کیسز کا تعلق اس مارکیٹ سے تھا، تاہم لگتا ہے کہ چینی حکام پہلے ہی اس امکان کو خارج کر چکے ہیں کہ یہ وائرس کا اولین ذریعہ تھا۔
ڈاکٹر ڈسزاک نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی ٹیم 'متاثرین کے کلسٹرز پر نظر ڈالے گی، رابطوں کا مطالعہ کرے گی، دیکھے گی کہ بازار میں جانور کہاں سے آئے ہیں، اور پھر دیکھیں گے کہ یہ ہمیں کہاں لے جاتا ہے۔‘
ٹونگوان کان کے تین مزدوروں کی کان میں چمگادڑوں کے ایک جھنڈ سے سامنا ہونے کے بعد ہلاکت سے یہ شبہات پیدا ہوئے کہ وہ چمگادڑوں کے ایک کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔
یہ وائرس کی جانوروں سے انسان میں وہی منتقلی تھی جس کی وجہ سے یونن میں ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرلوجی چمگادڑوں کی سیمپلنگ اور ٹیسٹنگ کر رہا تھا۔
چنانچہ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ان ہلاکتوں کے بعد ڈبلیو آئی وی نے یونن میں چمگادڑوں پر تحقیق کرنی شروع کی اور تین برسوں میں متعدد دوروں کے بعد 293 اقسام کے کورونا وائرس کھوج نکالے۔
لیکن ایک مختصر تحقیقی مقالے کے علاوہ ان دوروں میں جمع کیے گئے وائرسوں کے بارے میں بہت کم معلومات ہی شائع کی گئیں۔
اس سال جنوری میں جب ان کے شہر میں کورونا وبا تیزی سے پھیل رہا تھا تو پروفیسر شی سارس کوو 2 کا جینیاتی کوڈ ترتیب دینے والے دنیا کے پہلے لوگوں میں شامل ہو گئیں۔
اس کے بعد انھوں نے اس وائرس کے انوکھے جینیاتی کوڈ کا کئی برسوں میں جمع شدہ دیگر وائرسوں کے جینیاتی کوڈ سے موازنہ کیا اور پایا کہ ان کے ڈیٹا بیس میں سارس کووڈ 2 کا ایک سب سے قریبی وائرس ہے۔
آر اےٹی جی 13 ایک وائرس ہے جس کا نام اس چمگادڑ (رائنولوفس افینیس، آر اے) سے آتا ہے جس سے اسے نکالا گیا تھا، جس جگہ سے اسے پایا گیا تھا (ٹونگوان، ٹی جی)، اور جس سال اس کی نشاندہی کی گئی تھی، یعنی 2013۔
کان میں پائے جانے کے سات سال بعد آر اے ٹی جی 13 ہمارے دور کے سب سے متنازع سائنسی معاملات میں سے ایک بننے والا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیبارٹریوں سے وائرس لیک ہونے کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ مثال کے طور پر پہلا سارس وائرس 2004 میں بیجنگ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی سے وبا کو قابو میں لائے جانے کے کافی عرصے بعد دو بار لیک ہوا۔
وائرس میں جینیاتی تبدیلیاں کرنے کا رواج بھی نیا نہیں ہے۔ اس سے سائنس دان انھیں زیادہ متعدی یا مہلک بناسکتے ہیں تاکہ وہ ان سے ہونے والوں خطروں کا اندازہ لگا سکیں اور شاید علاج یا ویکسین بھی تیار کر سکیں۔
اور جب سے اسے اس کے قدرتی گھر سے باہر لایا گیا اور جینیاتی مطالعہ کیا گیا، تب سے سائنسدان سارس کوو 2 کے انسانوں کو متاثر کرنے کی اس کی زبردست قابلیت سے حیران ہیں۔
اور بین الاقوامی سائنسدانوں کے بااثر گروہ نے یہ امکان بہت سنجیدگی سے لیا کہ اس میں یہ زبردست صلاحیت لیبارٹری میں کی گئی کسی جینیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آئی ہے، اور اس پر مزید تحقیق شروع کی۔
لیب سے لیک کے امکان کو مسترد کرنے والے ایک ٹھوس تحقیقی مطالعے میں آر اے ٹی جی 13 نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
مارچ میں میگزین نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والے اس پیپر کے مطابق اگر لیب سے کورونا وائرس نکلا ہوتا تو پروفیسر شی کو اپنے ڈیٹابیس میں کورونا وائرس سے آر اے ٹی جی 13 کے مقابلے میں کہیں زیادہ مماثلت رکھنے والا وائرس ملتا۔
آر اے ٹی جی 13 کی اس سے 96.2 فیصد مماثلت ہے اور یہ اس کا قریب ترین رشتہ دار ہے، مگر اس کے باوجود اس کا سارس کوو-2 میں تبدیل ہونا کافی مشکل ہے۔
اس پیپر کے مصنفین اس نتیجے پر پہنچے کے سارس کوو 2 نے اپنی یہ منفرد صلاحیت ممکنہ طور پر ایک طویل عرصے تک ایک قدرتی اور کم نقصان دہ پیشگی وائرس کی شکل میں انسانوں یا جانوروں میں گھوم کر حاصل کی ہو گی اور بالآخر ووہان میں سنہ 2019 میں پہلی بار اس کی ہلاکت خیز صورت سامنے آئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن یہ بات سائنس دانوں کو حیرت زدہ کرتی ہے کہ آخروہ جگہ کون سی ہے جہاں ابتدائی طور پر یہ مرض بڑی تعداد میں پھل پھول رہا تھا؟
ڈاکٹر ڈینیئل لوسی واشنگٹن ڈی سی کے جارج ٹاؤن میڈیکل سنٹر میں ایک معالج اور متعدی بیماریوں کے پروفیسر ہیں اور وہ بہت سے وبائی امراض مثلاً چین میں سارس، افریقہ میں ایبولا اور برازیل میں زیکا پر تحقیق کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
انھیں یقین ہے کہ چین ہسپتالوں میں انسانوں کے محفوظ نمونوں اور جانوروں کی آبادیوں میں اس وائرس کی پیشگی صورت کے ثبوتوں کے لیے پہلے ہی مکمل تلاشی لے چکا ہے۔'
انھوں نے کہا، 'ان میں صلاحیت ہے، ان کے پاس وسائل ہیں اور ان کے پاس حوصلہ ہے، لہٰذا یقیناً انھوں نے جانوروں اور انسانوں میں اس کا مطالعہ کیا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ اس وبا کے آغاز کا پتہ لگانا نہ صرف وسیع تر سائنسی معلومات کے لیے بلکہ اس کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کے لیے بھی نہایت اہم تھا۔
وہ کہتے ہیں: ’ہمیں اس وقت تک تحقیق جاری رکھنی چاہیے جب تک ہم اس کو تلاش نہ کرلیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کی تلاشی کی جا سکتی ہے اور یہ خاصہ ممکن ہے کہ اس کو تلاش کیا جا چکا ہو۔ لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا انکشاف کیوں نہیں کیا گیا ہے؟'
ڈاکٹر لوسی کا اب بھی ماننا ہے کہ سارس کوو -2 کے قدرتی ہونے کے امکان زیادہ ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ متبادل نظریے اتنی آسانی سے مسترد کر دیے جائیں۔
انھوں نے کہا، 'کووڈ 19 کی پہچان ہوئے 12، 13 ماہ ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک ہمیں وہ جانور نہیں ملا جس سے اس کا آغاز ہوا ہو، اسی لیے متبادل وضاحتوں کی تفتیش کرنا اور بھی ضروری ہے۔'
ڈاکٹر لوسی کہتے ہیں کہ 'اگر کوئی چینی لیبارٹری سارس کوو 2 سے جینیاتی طور پر قریبی کسی وائرس پہ کام کر رہی تھی، تو کیا وہ اب ہمیں بتائیں گے؟ ہر چیز شائع نہیں ہوتی ہے۔'
میں نے اس نظریے کو ڈاکٹر پیٹر ڈسزاک کے سامنے رکھا جو ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کے رکن ہیں۔
ڈاکٹر پیٹر نے کہا، 'دیکھیں، میں نے ڈبلیو آئی وی کے ساتھ تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک کام کیا ہے۔ میں وہاں کے کچھ لوگوں کو اچھی طرح سے جانتا ہوں اور میں نے ان لیبز کا کئی بار دورہ کیا ہے۔ میں 15 برسوں سے ان سے مل رہا ہوں اور ان کے ساتھ کھانا کھایا ہے۔'
'میں چین میں اپنی آنکھیں کھلی رکھ کر کام کر رہا ہوں اور میں کوئی بھی غلط یا ناخوشگوار بات یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، لیکن ایسا کبھی کچھ نہیں دکھا۔'
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ڈبلیو آئی وی کے ساتھ ان کی دوستیاں اور فنڈنگ کے تعلقات انکوائری پر اثر ڈالیں گے تو انھوں نے کہا: 'ہم ہر چیز کاغذوں میں لکھتے ہیں، جو کوئی بھی چاہے انھیں دیکھ سکتا ہے۔'
اور ڈبلیو آئی وی کے ساتھ تعاون کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ 'مجھے اس سیارے کے ان چند لوگوں میں شامل کرتا ہے جو چین میں چمگادڑوں سے سامنے آنے والے کورونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے ہیں۔'
ہوسکتا ہے کہ چین نے سارس کوو 2 کی ابتدا کی تحقیق کے بارے میں صرف محدود اعداد و شمار فراہم کیے ہوں لیکن اس نے اپنے نظریے کو فروغ دینا ضرور شروع کر دیا ہے۔
یورپ میں کچھ سائنس دانوں کے غیر حتمی تحقیقی مطالعے یہ اشارہ دیتے ہیں کہ کووڈ-19 مبینہ طور پر کہیں پہلے سے پھیل رہا تھا اور ان مطالعوں کی بنا پر چین میں ریاستی پروپیگنڈا شروع ہو گیا ہے جس کے مطابق چین میں وائرس کا آغاز ہی نہیں ہوا تھا۔
مناسب ڈیٹا کی عدم موجودگی میں قیاس آرائیاں بڑھنے کا ہی امکان ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ آر اے ٹی جی 13 کی ٹونگوان کان میں موجودگی پر مرکوز ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود پرانے تحقیقی مطالعے نکالے گئے ہیں جو کان کے بیمار مزدوروں کے بارے میں ڈبلیو آئی وی کے بیانات سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں کنمنگ ہاسپٹل یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا تھیسز بھی ہے۔
پروفیسر شی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میں نے ابھی کنمنگ ہاسپٹل یونیورسٹی کے اس طالب علم کا ماسٹرز کا تھیسز ڈاؤن لوڈ کیا ہے اور اسے پڑھا ہے۔'
وہ کہتی ہیں کہ 'یہ کہانی بالکل بھی سمجھ میں آنے والی نہیں ہے۔ نتیجہ نہ تو شواہد اور نہ ہی منطق پر مبنی ہے، لیکن سازشی نظریات پھیلانے والے لوگ اس کے ذریعے مجھ پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟'
پروفیسر شی کو ڈبلیو آئی وی کے وائرس کا آن لائن ڈیٹا بیس اچانک ویب سائٹ سے ہٹا لیے جانے پر بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈبلیو آئی وی کی ویب سائٹ اور عملے کی ای میلز پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ڈیٹا بیس کو آف لائن کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا، 'ہمارے تمام تحقیقی نتائج ریسرچ پیپرز کی شکل میں انگریزی جریدوں میں شائع ہیں۔ وائرس کے جینیاتی کوڈز (امریکہ کے زیر انتظام) جنبیٹک ڈیٹا بیس میں بھی محفوظ ہیں۔ یہ مکمل طور پر شفاف ہے۔ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چمگادڑوں سے جمع کیے گئے وائرسوں پر تحقیق و تجربات کرنے کے ایک دہائی بعد اب ہم جانتے ہیں کہ دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جان لینے والا اور عالمی معیشت کو تباہ کرنے والے وائرس کا قریب ترین رشتے دار دراصل 2013 میں ملا تھا۔
مگر اس کے باوجود شائع شدہ معلومات کے مطابق ڈبلیو آئی وی نے بس اس کی جینیاتی سیکوئنسنگ کرنے اور اسے ڈیٹا بیس میں داخل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ مگر کیا پھر اس سے جنگلی وائرسوں کو اکٹھا کرنے اور ان پر تحقیق کرنے کے مہنگے اور خطرناک پراجیکٹ پر سوالات اٹھنے چاہیے؟
پیٹر ڈسزاک نے بی بی سی کو بتایا، 'یہ کہنا کہ ہم نے اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کیا بالکل درست ہے۔ مگر یہ کہنا کہ ہم ناکام ہوئے ہیں یہ سراسر ناانصافی ہے۔ حالانکہ ہم نے ان وائرسوں پر جتنا کام کیا، اس سے 10 گنا زیادہ کرنا چاہیے تھا۔'
ڈاکٹر ڈسزاک اور پروفیسر شی دونوں اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ وبائی امراض کی روک تھام کے لیے سائنسی تحقیق انتہائی ضروری اور فوری کام ہے۔
پروفیسر شی نے ای میل کے ذریعے بتایا، 'ہماری تحقیق مستقبل کے بارے میں ہے اور اسے اس شعبے سے تعلق نہ رکھنے والوں کے لیے سمجھنا مشکل ہے۔ فطرت میں موجود لاتعداد خورد بینی حیاتیات کے مقابلے میں ہم انسان بہت چھوٹے ہیں۔'
عالمی ادارہ صحت نے نئے کورونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں 'کھلے ذہن' کے ساتھ تحقیقات کا وعدہ کیا ہے، لیکن چینی حکومت کو سوالوں کے جواب دینے میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے، کم از کم صحافیوں کے سوالوں کے تو بالکل بھی نہیں۔
ٹونگوان سے رخصت ہونے کے بعد بی بی سی کی ٹیم نے کچھ دور شمال میں اس غار کی طرف جانے کی کوشش کی جہاں ایک دہائی قبل سارس پر پروفیسر شی نے اپنی اہم تحقیق کی تھی۔
اس وقت بھی بغیر نشانات والی متعدد گاڑیاں ہمارا پیچھا کر رہی تھیں۔ ہمارے سامنے سڑک ایک مرتبہ پھر بلاک تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ گزرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
کچھ گھنٹوں بعد ہمیں معلوم ہوا کہ مقامی ٹریفک کو ایک ٹوٹے پھوٹے راستے سے گزارا جا رہا ہے لیکن جب ہم نے اس راستے کو استعمال کرنے کی کوشش کی تو ہمارے سامنے ایک اور 'خراب' گاڑی کھڑی تھی۔
ہم ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک کھیت میں پھنسے رہے، اور آخر ہمیں زبردستی ہوائی اڈے کی طرف بھیج دیا گیا۔ یونن کے دیہی علاقوں میں اس وائرس سے متعلق اہم سوالات کھڑے ہوتے ہیں، صرف سائنسدانوں کے لیے نہیں بلکہ صحافیوں کے لیے بھی۔












