پومپے آثار قدیمہ: آتش فشاں کی راکھ میں دبے پہلی صدی کے امیر شخص اور اس کے غلام کی لاشیں دریافت

،تصویر کا ذریعہEPA
ماہرین آثار قدیمہ نے آتش فشاں کے پھٹنے سے 2000 سال قبل تباہ ہو جانے والے قدیم رومن شہر پومپے سے دو افراد کی باقیات دریافت کی ہیں۔
پومپے آثار قدیمہ پارک کے حکام کا کہنا ہے کہ ’ان میں سے ایک غالباً کوئی امیر شخص تھا اور دوسرا اس کا غلام تھا۔‘
ادارے کے ڈائریکٹر ماسیمو اوسانا کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ شاید لاوا پھٹنے کے بعد جائے پناہ ڈھونڈ رہے تھے کہ راکھ میں بہہ گئے۔‘
یہ بھی پڑھیے
پہلی صدی عیسوی کے دوران سنہ 79 میں کوہ ویسوویئس کے پھٹنے سے پومپے شہر متاثر ہوا تھا۔
آتش فشاں کے پھٹنے سے پومپے شہر راکھ میں دفن ہو گیا تھا، یہ شہر اور اس کے مکین جیسے منجمد ہو گئے اور یہ ماہرین آثار قدیمہ کے لیے کسی ذخیرہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ حالیہ دریافت رواں ماہ ایک کھدائی کے دوران کی گئی جس کے دوران اس قدیمی شہر کے نواح میں ایک بڑی حویلی کی کھدائی کی جا رہی تھی۔
حکام کے مطابق اس امیر شخص کی عمر 30 سے 40 برس کے درمیان ہے۔ اس کی گردے کے نیچے سے گرم اونی چادر کے باقیات بھی ملے ہیں۔
دوسرا شخص 18 سے 23 سال کی عمر کا ہے۔ آثار قدیمہ کے حکام کے مطابق اس شحض کی کچلی ہوئی ریڑھ کی ہڈی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک غلام تھا جو مشقت کرتا تھا۔
اوسانا کا کہنا تھا ’تھرمل (حرارت) شاک کے باعث یہ ہلاکتیں ہوئی جس کی نشاندہی ان کے بھنچے ہوئے ہاتھوں اور پیروں سے ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے اس دریافت کو اس کی ’لاجواب اور غیر معمولی گواہی‘ قرار دیا جو کچھ آتش فشاں پھنٹے کی صبح ہوا۔
اس آثار قدیمہ کی جگہ پر کھدائی کا کام جاری ہے تاہم کورونا وائرس کے سبب احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ یساحوں کے لیے بند ہے۔








