فیس بک نے ٹرمپ کے الیکشن مہم کے لیے پوسٹ کیے گئے ’نفرت آمیز نازی نشان‘ والے اشتہار کو ہٹا دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیس بک کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم کے لیے پوسٹ کیے گئے ایک ایسے اشتہار کو ہٹا دیا ہے جس میں نازی جرمنی میں استعمال ہونے والا نشان موجود تھا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اشتہار میں ایک الٹی سرخ تکون موجود تھی اور اس سے مماثلت رکھنے والا نشان نازی دور میں مخالفوں خاص کر کمینوسٹ نظریات رکھنے والوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ٹرمپ کی الیکشن مہم چلانے والی ٹیم کے مطابق یہ اشتہار دراصل انتہائی دائیں بازو کے سماجی گروہ اینٹیفا کے لیے استعمال کیا گیا کیونکہ ان کے مطابق یہ گروہ بھی اس نشان کا استعمال کرتا رہا ہے۔
فیس بک کا کہنا تھا کہ ان اشتہارات نے اس کی پرائیویسی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سماجی رابطے کی ویب سائٹ کی سکیورٹی پالیسی کی سربراہ نیتھینیئل گلیشیر نے جمعرات کے روز کہا کہ ’ہم ایسے نشانات کے استعمال کی اجازت نہیں دیتے جو ایک نفرت انگیز تنظیم یا نظریات کی نمائندگی کرتے ہوں جب تک انھیں پوسٹ کرنے کا پسِ منظر نہ بتایا گیا ہو یا مذمت نہ کی گئی ہو۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے اس اشتہار میں بھی یہی دیکھا اور اس کے علاوہ بھی ہمیں یہ نشان جہاں بھی نظر آیا ہم یہی کارروائی کریں گے۔‘
یہ اشتہارات صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پینس کے پیجز پر لگائے گئے تھے اور یہ تقریباً 24 گھنٹوں تک ان پیجز پر رہے اور انھیں ہزاروں افراد نے دیکھا۔

ٹرمپ کی مہم کے ترجمان ٹم مرٹا نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ الٹی سرخ تکون دراصل اینٹیفا کی جانب سے استعمال کی جاتی ہے اور یہ اینٹیفا کی جانب سے ایک اشتہار میں استعمال بھی کی گئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ فیس بک الٹی سرخ تکون کی 'ایموجی' یعنی نشان استعمال کر رہا اور وہ بھی ایسا ہی دکھتا ہے۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں اینٹیفا پر یہ الزام لگایا جا چکا ہے کہ انھوں نے سیاہ فام امریکی شہری جارج فلوئیڈ کے پولیس کے ہاتھوں قتل کے بعد ہونے والے مظاہروں کا آغاز کیا۔
صدر کا گذشتہ ماہ کہنا تھا کہ وہ فاشسٹ مخالف گروہ کو 'مقامی دہشت گرد تنظیم' قرار دیں گے تاہم آئینی ماہرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا ٹرمپ کے پاس ایسا کرنے کی اختیار ہے۔
اینٹیفا دراصل ایک انتہائی بائیں بازو کی تحریک ہے جو نازی، فسطائیت، سفید فاموں کی نسلی بالادستی اور نسلی امتیاز کے خلاف ہیں۔ یہ ایک ایسا گروہ ہے جس کے کوئی رہنما نہیں ہیں۔
اس گروہ کے زیادہ تر اراکین ٹرمپ کی امیگریشن مخالف، قوم پرست اور مسلمان مخالف پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔
شمالی امریکہ سے بی بی سی کےنامہ نگار برائے ٹیکنالوجی جیمز کلیٹن کا کہنا ہے کہ یہ وائٹ ہاؤس اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے درمیان تازہ ترین پیش رفت ہے جس سے دونوں کے پہلے سے خراب تعلقات ابتر ہوں گے۔
گذشتہ ماہ ٹوئٹر کی جانب سے صدر ٹرمپ کی ریاست منی ایپلس میں مظاہروں کے حوالے سے ایک ٹویٹ پر اس لیے وارننگ کا نشان لگایا گیا تھا کیوںکہ ان کے مطابق یہ تشدد کو دینے کے مترادف ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے بعد صدر ٹرمپ کی طرف سے سوشل میڈیا کمپنیوں کو بند کرنے کی دھمکی دی گئی تھی اور الزام لگایا گیا تھا کہ آوازوں کی دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جیمز کلیٹن کے مطابق اگر آپ ٹوئٹر کو تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں کیونکہ فیس بک وہ پلیٹ فارم ہے جس کی ٹرمپ پہب قدر کرتے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ہی ان کے سیاسی اشتہارات کے لیے دیے جانے والے پیسے جاتے ہیں۔
فیس بک کے اس اقدام سے یقیناً ٹرمپ برہم ہوں گے اور اس سے یقیناً یہ تاثر بھی جاتا ہے کہ فیس بک کچھ سیاسی مواد پر نظر رکھتا ہے۔
جیسے جیسے سنہ 2020 کے الیکشن قریب آ رہے ہیں فیس بک کے اقدامات کا جائزہ مزید باریک بینی سے لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں فیس بک کے ملازمین کی جانب سے ویب سائٹ کے اس فیصلے کے خلاف بیانات دیے گئے تھے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ جارج فلوئیڈ کی ہلاکت پر ٹرمپ کی جانب سے دیے جانے والے بیانات کو نہ ہٹائیں گے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی وارننگ دی جائے گا۔
ٹرمپ نے ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا تھا کہ کسی بھی مشکل گھڑی میں ہم کنٹرول سنبھال لیں گے۔ اگر لوٹ مار شروع ہوئی تو فائر بھی شروع ہو جائے گی۔'
تاہم ٹوئٹر نے کہا تھا کہ یہ بیان اس کی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
کچھ فیس بک ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ 'شرمندہ ہیں۔'













