کیکٹس کے نوکیلے پتوں سے ماحول دوست چمڑا بنانے والے میکسیکو کے دو کاروباری نوجوان

،تصویر کا ذریعہdesserto.com
- مصنف, سوامی ناتھن نتاراجن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
جوتے سے لے کر بیلٹ اور دستانوں سے لے کر کوٹ تک، چمڑا ہر جگہ موجود ہے۔
یہ گوشت کی صنعت کی ضمنی پیداوار ہے لیکن اسے قابلِ استعمال بنانے کے لیے بہت زیادہ پانی، طاقت اور کیمیکلز کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس سب کی وجہ سے ماحول کو ایسے ہی نقصان پہنچتا ہے جیسے چمڑے کے متبادل پلاسٹک کی وجہ سے۔
میکسیکو کے دو کاروباری نوجوان وِیگن چمڑا بنانے کے لیے کیکٹس کا استعمال کر رہے ہیں۔
لیکن ایڈریئن لوپیز ویلاردے اور مارٹے کیزاریز کے لیے کیکٹس چمڑا بنانے کا سفر آسان نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویلاردے اور کیزاریز نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے 500 سے زیادہ میکسیکن کیکٹس کی اقسام پر تجربات کیے جس کے بعد انھیں کانٹے دار نوپل کیکٹس کے پتے ملے جو جسم کے ساتھ رگڑ کھا سکتے تھے اور ان میں گھٹن بھی محسوس نہیں ہوتی۔
حسبِ ضرورت اور مدافعت سے لیس
ان کا کہنا ہے کہ ان کا پراڈکٹ ’ڈیزرٹو‘ قدرتی چمڑے جتنا اچھا ہے اور اسے مختلف موٹائی اور کوالٹی میں بنایا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہdesserto.com
کیزاریز کے مطابق 'کیکٹس چمڑے کو حسبِ ضرورت استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے اور یہ خراش، رگڑ اور پھٹنے کے خلاف مدافعت سے لیس ہے۔
کیکٹس کے پودے برِاعظم امریکہ کے مقامی پودے ہیں اور دنیا بھر کے خشک علاقوں میں پروان چڑھتے ہیں کیونکہ ان کو زندہ رہنے کے لیے بہت کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
کیکٹس کا استعمال طبی سپلیمنٹس میں ہوتا ہے، انھیں گھر کے اندر سجاوٹ کے لیے اور حتٰی کہ کھانے کے طور پر بھی زیرِ استعمال لایا جاتا ہے۔
تاہم، کیکٹس کو بڑے پیمانے پر اگایا نہیں جاتا اور اسے ایک جنگلی پودا سمجھا جاتا ہے۔
کھاد کی ضرورت نہ کیڑے مار ادویات کی
پودوں سے چمڑا بنانے میں خوراک کی پیداوار متاثر نہیں ہوتی لیکن اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کئی مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہdesserto.com
لوپیز کہتے ہیں ’ہم پودے کو نقصان پہنچائے بغیر صرف تیار شدہ یا پکے ہوئے پتوں کو چنتے اور کاٹتے ہیں۔‘
’ان پتوں کو پیس کر سورج کی روشنی میں تین دن سکھایا جاتا ہے۔ اس پسے ہوئے مادے کو چھانا جاتا ہے اور اس میں سے ایک پروٹین نکالا جاتا ہے جسے پھر دیگر اجرا کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔‘
لوپیز کہتے ہیں کہ پودوں کو اگانے کے لیے کھاد یا کیڑے مار ادویات کا استعمال نہیں کیا جاتا اور کیکٹس کے بقیہ مٹیریئل کو غذائی صنعت کو بیچ دیا جاتا ہے۔
چمڑے کی باقی اقسام سے بہتر؟
ایک میٹر لمبی اور 1.4 میٹر لمبی ویگن چمڑے کی شیٹ بنانے کے لیے تین پتے یا 1.3 کلو خام مال کی ضرورت ہوتی ہے۔ ویگن چمڑے کی فی میٹر قیمت 20 سے 27 ڈالرز کے درمیان ہے۔
ویگن چمڑا بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ کچھ پہلوؤں کے حوالے سے ان کا پراڈکٹ اصلی چمڑے سے بہتر ہے۔

،تصویر کا ذریعہdesserto.com
کیزاریز کہتے ہیں، ’ویسے تو گائے کا چمڑا کافی مضبوط ہوتا ہے لیکن اس میں سے رساؤ ہوسکتا ہے، اور اگر گیلا ہونے کے فوری بعد اسے خشک نہ کیا جائے تو یہ سڑ سکتا ہے یا پھٹ سکتا ہے۔ ہمارا کیکٹس لیدر نمی اور پانی سے بہتر انداز میں نمٹتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ فائدہ اس بات میں ہے کہ آپ مصنوعات کے معیار کو کس آسانی سے تبدیل کر پاتے ہیں۔
’آپ کو کیا معیار چاہیے، اس حوالے سے مٹیریل کی ساخت آپ کو مختلف کارکردگی دے گی۔‘
پروڈکٹ کی کاشت
دو میکیسیکن انٹرپرینورز ایک سال کے ایک ہی دن میں پیدا ہوئے اور ان کی ملاقات 2011 میں تائیوان میں ہوئی جہاں وہ پڑھنے کے لیے گئے تھے۔
گریجویشن کے بعد ان دونوں کی راہیں الگ ہو گئیں۔ ایڈریئن نے گاڑیوں کی صنعت میں اور مارٹے نے فیشن کی صنعت میں قدم رکھا۔

،تصویر کا ذریعہdesserto.com
انھیں اس بات کا احساس ہوا کہ چمڑا بنانے میں کس قدر پانی اور کیمیکلز کا استعمال ہوتا ہے۔ کچی کھالوں کو پراسیس کرنے سے بہت سا کچرا اور فضلہ پیدا ہوتا ہے جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔
ایک طویل عرصے سے چمڑا فیشن کی صنعت کا لازمی جزو ہے اور فیشن کی صنعت اب طیاروں اور بحری جہازوں کے مجموعی کاربن اخراج سے بھی زیادہ کاربن خارج کرتی ہے۔
چمڑے کے متبادل عموماً مصنوعی مٹیریل ہوتے ہیں جن میں کیمیکلز اور پلاسٹکس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ان دونوں کی جوڑی نے مارکیٹ میں موجود خلا کو پہچانا اور ایک ایسا مٹیریل تیار کرنے کی ٹھان لی جو انسانوں اور زمین کے لیے نقصاندہ نہ ہو۔
آزمائش
ویلاردے کہتے ہیں کہ ’اگر اچھی طرح خیال رکھا جائے تو ہمارے مٹیریل 10 سال سے بھی زیادہ عرصے تک ساتھ دے سکتے ہیں۔ ہم نے (الٹراوائلٹ شعاعوں کی مدد سے) لیبارٹری میں ان کی عمر کی آزمائش کی کہ یہ مٹیریل کتنا عرصہ چل سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہdesserto.com
جب انھوں نے گذشتہ سال اکتوبر میں اٹلی کے شہر میلان میں ایک صفِ اول کی چمڑے کی نمائش میں اپنی مصنوعات کی نمائش کی تو انھیں بالآخر وہ شہرت ملی جس کی انھیں طویل عرصے سے ضرورت تھی۔
اس میں دلچسپی اور لوگوں کا جوش فوراً ہی باقاعدہ آرڈرز میں تبدیل ہوگئے۔ دونوں نے سرمایہ کاری کر کے ایک کمپنی قائم کی جو ان کے مطابق ’فوراً ہی مالی طور پر خودمختار ہوچکی ہے۔‘
بلند عزائم
اب انھوں نے کمرشل گاہکوں کے لیے بھی پیداوار شروع کر دی ہے اور اب وہ فیشن اور گاڑیوں کی صنعت کو ماحول دوست سامان کی فراہمی کرنے والے مرکزی سپلائر بننا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہdesserto.com
ابتدائی ردِعمل مکمل طور پر مثبت ہے۔ کیزاریز کہتے ہیں کہ ’ڈیزرٹو کے ماحولیاتی فوائد کے علاوہ وہ اس کے معیار، نرمی اور پائیداری سے متاثر ہیں۔‘
انھوں نے کیکٹس اگانے شروع کر دیے ہیں اور فی الوقت انھوں نے 30 افراد کو ملازمت پر رکھا ہے۔ ان کے خواب بڑے ہیں اور بھلے ہی پیداوار ابھی محدود پیمانے پر ہو رہی ہے مگر ویگن چمڑے کے اگلے پانچ سالوں میں ایک بڑی صنعت بننے کی توقع ہے جس کا حجم 85 ارب ڈالر تک ہوسکتا ہے۔
تب تک دیگر لوگ بھی دلچسپ متبادل بنا سکتے ہیں اس لیے کیکٹس اگانے سے پہلے تھوڑا انتظار کریں۔











