لیمیلر اِکتھائیوسس: ’نشا پر پہلی نظر ڈالنا ہی کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا‘

نشا
    • مصنف, اشلین کور
    • عہدہ, بی بی سی

انڈیا کے شہر بنگلور میں 19 سال قبل ایک دن آلوما لوبو کی نِشا سے پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ آلوما ایک ڈاکٹر تھیں اور وہ اکثر اس یتیم خانے جایا کرتیں جہاں نشا کو ان کے والدین چھوڑ گئے تھے۔

نشا یتیم خانے میں موجود دیگر بچوں کی طرح نہیں دکھائی دیتی تھیں۔ ان کی آنکھوں کے پپوٹے نہیں تھے اور ایک انتہائی نایاب جینیاتی عارضے کی وجہ سے ان کی جلد نہایت روکھی تھی۔ لوگ بچوں کو اپنانے کے لیے یتیم خانے آیا کرتے تو کبھی بھی نشا کا انتخاب نہ کرتے۔

آلوما کہتی ہیں کہ نشا پر پہلی نظر ڈالنا ہی کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا۔۔۔ اتنے مسخ شدہ چہرے والے بچے کو دیکھنا۔

یہ بھی پڑھیے

نشا

مگر خون آلود آنکھیں اور اترتی ہوئی جلد والی اس بچی کو دیکھ کر اپنی ابتدائی حیرت کے بعد آلوما اور ڈیوڈ نے نشا کی حالت سے آگے بڑھ کر دیکھا۔ انھیں ایک ایسا بچہ نظر آیا جسے محبت کی سخت ضرورت تھی۔

آلوما کہتی ہیں ’وہ اتنی ننھی تھی، خطرے کا شکار، تنہا، مسترد کر دی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب اسے خاندان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، جب اسے ضرورت تھی کہ کوئی اسے تھامے، اسے اپنے سینے سے لگائے۔‘

آلوما بتاتی ہیں ’ہماری دوسری بیٹی نے اسے فوراً اٹھایا، اسے گلے سے لگایا اور کہا، امی، اسے گھر لے چلتے ہیں۔ اور ہم نے یہی کیا۔‘

نشا

نشا کو جو عارضہ لاحق ہے اسے لیمیلر اِکتھائیوسس کہا جاتا ہے اور آلوما کے الفاظ میں ’اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی جلد مچھلی جیسی ہے۔ یہ چھلکوں والی ہے اور مسلسل گرتی رہتی ہے۔‘

وہ دوسروں سے مختلف نظر آتی ہوں گی لیکن ان کے مطابق وہ ایک انتہائی بھرپور زندگی گزار رہی ہیں اور چونکہ ان کے بھائیوں اور بہنوں نے ان کے ساتھ کبھی فرق نہیں کیا، شاید اسی لیے وہ زندگی میں آگے بڑھنے کی اپنی صلاحیت کے حوالے سے شکوک و شبہات پر قابو پا سکیں۔

نشا بتاتی ہیں ’جب میں چھوٹی تھی تو میں اپنے دوسرے بڑے بھائی سے لڑا کرتی۔ وہ مجھے قالین میں لپیٹ دیتا اور پھر اس کے ایک کونے پر کھڑا ہوجاتا جس سے میں ہل نہ پاتی۔‘

جب سکول شروع کرنے کا موقع آیا تو نشا کو ملے جلے ردِعمل کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں بہت لوگ گھورا کرتے تھے جو ان کی تعلیمی زندگی کا ایک حصہ ہی بن گیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ انھیں یہ بھی بتایا جاتا کہ چند چیزیں مثلاً کھیل وغیرہ ایسی چیز ہے جس میں وہ حصہ نہیں لے سکیں گی۔

لیکن نشا کہتی ہیں ’میں نہیں کر سکتی تھی، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں نے یہ نہیں کیا۔‘

میرے دوستوں کو کھیلوں کا جنون تھا چنانچہ میں نے بھی دوڑ میں حصہ لینا شروع کیا اور قوت حاصل کی۔ جب میری جلد پھٹنے لگتی ہے تو درد ہوتا ہے مگر میں نے اس کے ساتھ پوری زندگی گزاری ہے، چنانچہ یہ ایسی چیز ہے جس کا آپ کچھ عرصے بعد عادی ہو جاتے ہیں۔

وہ جلد ہی 20 سال کی ہو جائیں گی۔ وہ بنگلور کے ایک کالج میں کاروباری علوم کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ وہ ٹیچر بننا چاہتی ہیں اور خود کو کسی بھی صورت میں دوسروں سے مختلف تصور نہیں کرتیں۔

نِشا نے مجھے کچھ واقعات کے بارے میں بتایا جو ان کی پوری زندگی میں عام رہے ہیں۔ وہ یاد کرتی ہیں کہ جب وہ ایک فلائٹ میں اپنی والدہ کے ساتھ تھیں اور ایک مسافر نے ان کے ساتھ نہ صرف بیٹھنے سے انکار کر دیا بلکہ انھیں جہاز سے اتارنے کے لیے بھی کہا۔

نشا کہتی ہیں ’ایئرلائن والوں نے معذرت کے مطور پر ہمیں بزنس کلاس کی آفر کی، لیکن تب میں نے اپنی والدہ کو بتایا کہ ہمیں کسی اور کے برے رویے کی تلافی کی ضرورت نہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ جب لوگ انھیں گھورتے ہیں یا جب کوئی ان سے بدتمیزی کرتا ہے تو ’میں پریشان نہیں ہوتی، میں تب ہی پریشان ہو سکتی ہوں جب میں ہونا چاہوں۔‘

ان کی مثبت خیالی انھیں عاجز بناتی ہے جب آپ کو پتہ چلتا ہے انھیں زندگی بھر اس بیوقوفانہ ظلم کا سامنا رہا ہے۔ نشا جب صرف چار برس کی تھیں تو انھیں چرچ میں ایک خاتون ملیں۔

آلوما بتاتی ہیں کہ اس عورت نے نشا کے چہرے کو چھوا اور کہا ’میں تمہیں نہیں جانتی، لیکن تمہارے آباؤاجداد نے لازمی طور پر کچھ بہت برا کیا ہو گا کہ تمہاری ایسی بیٹی ہے۔‘

لیکن آلوما کہتی ہیں کہ ان کی بیٹی نے ان کے غصے پر قابو پایا ہے۔ ’اس نے میری طرف انتہائی معصومیت سے دیکھا اور میں نے اس عورت کو کہا ’آپ کا بہت شکریہ‘ اور وہاں سے چل پڑی۔‘

نشا

ایک اندازے کے مطابق انڈیا کی کل آبادی کا 2.1 فیصد اس بیماری کا شکار ہے جو کہ 26 ملین لوگ بنتے ہیں۔

کئی برسوں تک، بہت سی ایسی بیماریوں کو حکومت نے بھی تسلیم نہیں کیا تھا لیکن سنہ 2016 میں، معذوروں کے حقوق کے کارکنوں کی جانب سے کئی سال کی وکالت کے بعد انڈین پارلیمنٹ نے قانون کے تحت شامل تسلیم شدہ معذوری کی تعداد کو 7 سے بڑھا کر 21 کر دیا۔

لیکن ملک میں کسی معذوری سے وابستہ تعصب اور غلط فہمیاں ابھی بھی موجود ہیں۔

نشا کہتی ہیں کہ وہ اس تعصب کے خلاف لڑنا چاہتی ہیں۔ وہ ایک ٹی وی شو میں بھی آ چکی ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ٹیڈ ایکس میں ایک تقریر بھی کر چکی ہیں۔

نشا کہتی ہیں ’انڈیا میں جینیاتی مسائل کے بارے میں منفی رویہ پایا جاتا ہے سے، خاندانوں کو اکیلا کر دیا جاتا ہے، ماؤں کو الزام دیا جاتا ہے، بچوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے یا چھپا دیا جاتا ہے۔‘

’حتیٰ کہ اگر ایک ڈاکٹر کو علم ہو جائے کہ پیدا ہونے والے بچے کے ساتھ کوئی جینیاتی مسئلہ ہے تو حمل گرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے جیسے کہ ایسے بچوں کا اس دنیا پر کوئی حق نہیں۔‘

’میرے پیدائشی والدین نے مجھے اس وقت چھوڑ دیا جب میں صرف ایک ہفتے کی تھی، تین ہفتوں بعد میرے والدین نے مجھے اپنے گھر اور دل میں گود لیا۔‘

آج نشا ایک خوش جوان خاتون ہیں، وہ ایک کالج میں پڑھ رہی ہیں اور ایک دن ٹیچر بننے کی امید رکھتی ہیں، ویسے ان کے والد ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی ایک ٹیچر ہیں۔

ڈیوڈ کہتے ہیں ’میرے خیال میں اس نے میری زندگی پر گہرا اثر چھوڑا ہے، یہ وہ انسان ہیں جو ردعمل نہیں دیتیں۔ وہ ہمیشہ صورتحال کو کنٹرول میں رکھتی ہیں۔ ہم موسم، ٹریفک، سردی، گرمی، بارش پر اپنا ردعمل دیتے ہیں لیکن وہ نہیں بولتی، وہ ہر وقت خوش رہتی ہیں۔‘

’اگر آپ ان کی تصاویر کو دیکھیں تو وہ ہر وقت مسکراتی ہیں۔ ان کی مسکراہٹ میں زندگی بھر کی خوشی ہے۔ میرے نزدیک وہ ایک بہترین ٹیچر ہیں۔ میں نے ان سے بہت سیکھا ہے۔‘

نشا کا اس بار ے میں جواب کافی فلسفیانہ ہے۔

’میرے خیال میں خوشی ایک جذبہ نہیں بلکہ ذہنی حالت ہے، میری جلد کی حالت میرا ایک حصہ ہے، اور یہ سب کچھ نہیں ہے۔ میں خوش رہنے کا فیصلہ کر سکتی ہوں یا میں اداس رہنے کا فیصلہ کر سکتی ہوں۔‘

لیمیلر اِکتھائیوسس کیا ہے؟

  • یہ جلد سے متعلق ایک جینیاتی بیماری ہے اور ہر چھ لاکھ افراد میں سے ایک فرد اس کا شکار ہوتا ہے۔
  • اس میں جلد خشک اور پھٹی ہوئی ہوتی ہے۔
  • اس حالت میں پیدا ہونے والے بچوں کی جلد پر اکثر ایک جھلی ہوتی ہے جو کچھ دنوں میں اتر جاتی ہے اور اس کے نیچے سے ان کی روکھی جلد نکل آتی ہے۔ ایسے بچوں کے ہونٹ اور آنکھ کے پپوٹے اکثر باہر کی جان مڑے ہوتے ہیں۔
  • اس بیماری کا شکار افراد باآسانی انفیکشنز کا شکار بن سکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ بال گرنے اور پسینہ کم آنے کی صلاحیت کی وجہ سے وہ گرمی سے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔
  • اِکتھائیوسس کا کوئی علاج نہیں لیکن نمی اور آنکھوں کے قطروں سے اس میں مدد مل سکتی ہے۔
  • یہ چھوت والا مرض نہیں ہے۔