’کینسر کے علاج کی غیر روایتی ادویات‘ فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث

کینسر کا علاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کینسر کے بارے میں پرتگال کے شہر لسبن میں ہونے والی ایک کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کینسر سے متاثرہ افراد اگر طبی علاج کے ساتھ کوئی اضافی ٹوٹکے بھی آزما رہے ہوں تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں، کیوںکہ کئی چیزوں کا استعمال علاج میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، بریسٹ کینسر کے مریضوں میں جلد کے گھاؤ بھرنے کا عمل ادرک، لہسن اور جنکو بلوبا کی گولیاں کھانے سے سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔

لسبن کے چیمپالیمو کینسر سینٹر میں سرجن پروفیسر ماریہ جواؤ کارڈوسا کہتی ہیں کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ جڑی بوٹیوں کے نسخے یا کریمیں کینسر کے علاج میں مدد کرتی ہیں۔ اور اگر ان کے استعمال پر ذرا بھی شک ہو تو بہتر ہے کہ انھیں استعمال نہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

پروفیسر کارڈوسو نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں سے یہ ضرور معلوم کرنا چاہیے کہ کیا وہ کینسر کے علاج کے ساتھ اور کوئی نسخے بھی استعمال کر رہے ہیں۔

ان کے بقول یہ بہت ضروری ہے کہ کینسر کے مریض کوئی بھی اضافی نسخہ استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر کو بتائیں۔ خاص طور پر اگر کینسر جلد میں پھیلنے لگا ہو۔ انھوں نے بتایا کہ ایسا بریسٹ کینسر کے معاملے میں زیادہ ہوتا ہے۔

کینسر کا علاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان نسخوں کو استعمال کرنے کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہارمون تھیراپی یا کیموتھیراپی جیسے علاج میں مداخلت کر سکتے ہیں۔ ان میں سے چند عناصر خون جمنے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے زخم کو بھرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔

پروفیسر کارڈوسو کے مطابق مندرجہ ذیل وہ اشیا ہیں جن کا استعمال خون جمنے کے عمل کو سست کر دیتی ہیں:

  • چرائتا
  • فیورفیو
  • ادرک
  • لہسن
  • جنکو بلوبا
  • جنسینگ
  • ہاتھورن
  • شاہ بلوط
  • ہلدی

کوئی نقصان نہ پہنچے

پروفیسر کارڈوسو نے کہا کہ اس میں حیرانی کی بات نہیں کی مریض اور ان کے رشتہ دار اضافی علاج کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ انھیں کچھ ایسا چاہیے ہوتا ہے جو صورت حال میں بہتری لا سکے۔ لیکن انھیں پتہ ہونا چاہیے کہ وہ خود کو فائدے سے زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ادویات کا آخر کار سب سے بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مریض کو ’کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘

کینسر کا علاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

برطانوی فلاحی ادارے کینسر ریسرچ یوکے کی ویب سائٹ کے مطابق کہ چند اضافی نسخوں کی وجہ سے روایتی علاج متاثر ہو سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ کینسر کے علاج کے ساتھ تھوڑا پرہیز بھی ضروری ہے، مثال کے طور پر چکوترے اور سنترے کا جوس نہ استعمال کریں کیونکہ یہ انسانی جسم میں کینسر کی ادویات کے اثر کو نقصان پہنچاتا ہے۔

کینسر ریسرچ یوکے کا کہنا ہے کہ ’اپنے ڈاکٹر کو ان اضافی نسخوں کے بارے میں ضرور بتائیں جنھیں آپ علاج کے ساتھ استعمال کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ انھیں استعمال سے پہلے مطلع کریں۔ خاص طور پر اگر آپ کا علاج درمیانی مرحلے میں ہو۔‘

بریسٹ کینسر ناؤ نامی فلاحی ادارے کے لیے کام کرنے والی نرس گریٹے براؤٹین سمتھ کا کہنا ہے کہ ’اس بارے میں انٹرنیٹ پر بہت ساری غیر تصدیق شدہ معلومات موجود ہیں۔ ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ مریض کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے تمام ضروری معلومات موجود ہیں۔‘

ایڈوانسڈ بریسٹ کینسر کی پانچویں بین الاقوامی کانفرنس کے دوران پروفیسر کارسوڈو نے کہا کہ یہ ضرور ہے کہ یوگا، مائنڈ فلنس، ریکی اور آکو پنکچر جیسی تھیراپیوں سے کینسر کے مریض کے معیار زندگی پر مثبت اثر ہو سکتا ہے۔