ٹائیگر کا عالمی دن: کیا دنیا میں شیروں کی آبادی پھر سے بڑھ رہی ہے؟

شیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسویڈن کے اُرسا بیون پارک میں سائبیرین ٹائگر کی اپنے حریف کے ساتھ مقابلے کے دوران غراتے ہوئے لمحے کی تصویر

29 جولائی کو دنیا بھر میں ’گلوبل ٹائگر ڈے‘ یعنی شیروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا میں گرتی ہوئی اور خطرے کا شکار شیروں کی آبادی کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ اسی مناسبت سے آج سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی #InternationalTigerDay ٹرینڈ کر رہا ہے۔

شیروں کا سائنسی نام ’پینتھرا ٹائگرس‘ ہے اور ان کا تعلق ممیلیا جانوروں سے ہے جو اپنے نو مولود کو دودھ پلاتے ہیں۔

یہ شیر استوائی، برساتی یا دلدلی جنگلات میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی لمبائی چھ سے دس فٹ تک ہوتی ہے جبکہ ان کا وزن 75 سے 300 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔ یہ گوشت خور جانور ہیں اور ایک دن میں 40 گلو گرام تک گوشت کھا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا میں نو میں سے چھ اقسام کے شیر رہ گئے ہیں جو روس سمیت جنوبی ایشیا اور جنوب مشرق ایشیا کے 13 ممالک میں پائے جاتے ہیں۔

شیر کے بچے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکرائمیہ کے تائگان سفاری پارک میں نومولود بنگالی ٹائیگر کے بچے

عموماً یہ شیر تنہا رہتے ہیں اور اپنا شکار خود کرتے ہیں۔ یہ پیشاب اور پخانے یا غُرا کر اپنے علاقے کی حدود کا تعین کرتے ہیں۔

شیرنی ہر دو سالوں میں دو یا چار بچوں کو پیدا کرتی ہے جس میں سے عموماً نصف ہی بالغ ہو پاتے ہیں۔ دو سال کی عمر تک پہنچ کر بچے خود مختار ہو جاتے ہیں اور اپنی ماں سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔

اعداد و شمار

خطرے کے شکار جانوروں کی نگرانی اور تحفظ کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ‘ یا ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق 20ویں صدی کی ابتدا سے اب تک دنیا میں جنگلی شیروں کی 95 آبادی فیصد کم ہوئی ہے اور اب دنیا میں تقریباً 3900 جنگلی شیر باقی رہ گئے ہیں۔

خطرے میں ہونے کے باوجود مثبت بات یہ ہے کہ عالمی کوششوں کے نتیجے میں آہستہ آہستہ شیروں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔

شیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے بندھوو گڑھ نیشنل پارک میں اپنے پنجے تیز کرتا ہوا

ماہرین کے مطابق شیروں کی اکثریت انڈیا میں بستی ہے اور 20ویں صدی کی ابتدا میں یہ اندازہ لگایا گیا کہ انڈیا میں ایک لاکھ سے زیادہ شیر پائے جاتے تھے۔ لیکن اگلے 100 سالوں میں برطانوی افسروں اور انڈیا کے شاہی خاندانوں کے شکار کی وجہ سے ان کی تعداد بہت کم ہو گئی۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق عالمی شیروں کے دن کی مناسبت سے وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا میں شیروں کی آبادی پر رپورٹ کی رونمائی کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا دنیا میں شیروں کے لیے سب سے بڑا اور محفوظ مقام بن گیا ہے۔

ملک میں شیروں کی تعداد سنہ 2004 کے 1400 سے بڑھ کر اس سال 2977 ہو چکی ہے۔

اس موقع پر نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’نو سال پہلے سینٹ پیٹرزبرگ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ 2022 تک شیروں کی آبادی دوگنی کرنی ہو گی لیکن انڈیا نے یہ حدف چار سال پہلے ہی پورا کر لیا۔‘

شیر

،تصویر کا ذریعہSOPA Images

،تصویر کا کیپشنشیروں کی ایک قسم امور ٹائیگر جسے سائنسی زبان میں ’پینتھیریا ٹگرس الٹیکا‘ کہا جاتا ہے

خطرات

شیروں کو سب سے زیادہ خطرہ غیر قانونی شکار اور تجارت سے ہے۔ شیروں کی کھال قیمتی ہے جبکہ ان کی ہڈیوں کا استعمال چین میں روایتی ادویات میں ہوتا ہے۔ ماحول کی تحفظ کی نجی تحقیقاتی ادارے ’انوائرمنیٹل انویسٹیگیشن ایجنسی‘ کا دعویٰ ہے کہ 5000 سے زیادہ شیر چین کے فارمز اور چڑیا گھروں میں موجود ہیں۔

شیر کی کھال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنویتنام سے چین سمگل ہونے والی ایک کھال کی برآمدگی

اس کے علاوہ شیروں کی قدرتی آماج گاہوں میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے کمی آئی ہے جس سے ان کی تعداد متاثر ہوئی ہے۔

وہ علاقے جہاں شیر پائے جاتے تھے وہاں انسانوں نے لکڑی ہے لیے درخت کاٹ دیے، سڑکیں بنا دیں اور فصلیں اگا لیں جس کی وجہ سے علاقے بٹ گئے اور کیونکہ شیر بڑے علاقوں میں اکیلے رہتے ہیں ان کے لیے ایسے چھوٹے علاقوں میں رہنا مشکل ہوتا ہے۔

دوسرے علاقوں سے کٹ جانے کی وجہ سے وجہ سے شیر اپنی ہی نسل اور خاندان کے اندر افزائش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں جینیاتی تنوع کم ہو جاتی ہے اور بیماریاں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو جاتی ہیں۔

شیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچین کے سائبیرین ٹائیگر

جنگلات کی کمی کی وجہ سے شیر اکثر انسانوں کی آبادی میں بھی داخل ہو کر ان کے لیے اور ان کے مویشیوں کی جانوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے انسان انھیں اپنے دفاع میں مار دیتے ہیں۔

شیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماحولیاتی تبدیلی بھی شیروں کے لیے خطرناک ہے۔

انڈیا اور بنگلادیش کے درمیان ساحلی علاقوں پر پھیلے مینگروو کے جنگلات میں شیر رہتے ہیں، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق 2017 تک ان ساحلوں میں ایک فٹ تک دریا کی سطح بڑھ جائے گی جس سے ان کا ماحول پوری طرح تباہ ہو جائے گا۔

پاکستان میں ٹائیگرز

آج پاکستان میں ٹائیگرز نہیں پائے جاتے لیکن بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت ’آئی سی یو این‘ کی ایک تحقیق کے مطابق 1906 میں پاکستان میں دیکھے گئے آخری ٹائیگر کو بہاولپور میں شکار کر کے مار دیا گیا تھا۔

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔