اپالو 11 کی 50ویں سالگرہ پر جزوی چاند گرہن

،تصویر کا ذریعہPA Media
چاند پر انسانی قدم رکھے جانے کے امریکی خلائی مشن کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں ستاروں کا مشاہدہ کرنے والے افراد کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد نے منگل کی شب جزوی چاند گرہن کا منظر دیکھا۔
16 جولائی 1969 میں خلاباز نیل آرمسٹرانگ، بز آلڈرِن اور مائیکل کولنز کو سیٹرن فائیو راکٹ کے اوپر اپالو خلائی جہاز میں بٹھا کر صرف 11 منٹ کے اندر مدار میں پہنچا دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
چار دن بعد نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرن چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے۔
برطانوی وقت کے مطابق رات 10:30 پر زمین کے گرد گردش کرنے والے قدرتی سٹیلائٹ کی گرہن جتنی سطح سرخ یا گہرے سلیٹی رنگ کی نظر آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آ جاتی ہے۔ ایسے میں سورج زمین کے پیچھے ہوتا ہے اور چاند زمین کے سائے میں چلتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہPA Media
جزوی چاند گرہن کے دوران، پورا چاند نہیں، لیکن چاند کا کچھ حصہ۔ زمین کے پیچھے سب سے گہرے سائے والے علاقے سے گزرتا ہے جسے ’اُمبرا‘ کہتے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق چاند گرہن کے دوران زیادہ تر صاف آسمان کی توقع کی جا رہی تھی، مطلب کہ برطانیہ کے زیادہ تر حصوں میں یہ چاند گرہن باآسانی دیکھا جا سکتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ منظر یورپ کے علاوہ افریقہ، جنوبی ایشیا، امریکہ کے مشرقی حصوں اور مغربی آسٹریلیا میں بھی دیکھا گیا۔
جزوی چاند گرہن صرف پورے چاند کی رات کو ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے چاند گرہن کا نظارہ 19 نومبر 2021 سے پہلے ممکن نہیں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حالیہ مکمل چاند گرہن جسے ’سپر بلڈ وولف‘ بھی کہا جاتا ہے اس سال جنوری میں برطانیہ میں نظر آیا تھا۔
برطانیہ میں ستاروں کا مشاہدہ کرنے والوں کو یہ منظر سنہ 2029 تک نہیں ملے گا۔
۔











