دنیا کا طاقتور ترین راکٹ فالکن ہیوی پہلے خلائی مشن پر روانہ

،تصویر کا ذریعہSPACEX
امریکی کمپنی سپیس ایکس نے فالکن ہیوی نامی خلائی راکٹ کو فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے خلائی سفر پر روانہ کر دیا ہے۔
یہ راکٹ حجم میں بڑا ہے اور اسے سب سے زیادہ طاقتور قرار دیا جا رہا ہے۔
سپیس ایکس کے سربراہ ایلن مسک نے کہا ہے کہ نئے راکٹ کی پہلی فلائٹ کی کامیابی کے امکانات ففٹی فٹفی ہیں۔
فالکن ہیوی اب دستیاب خلائی گاڑیوں میں سے سب سے زیادہ باصلاحیت ہے۔
اس راکٹ کو فلوریڈا میں اسی جگہ سے روانہ کیا گیا جہاں سے پہلے آدمی نے چاند کا خلائی سفر شروع کیا تھا اور اب تاریخ دوبارہ لکھی جا رہی ہے اور اس مشن کا حتمی مقصد انسانوں کو مریخ تک لے جانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس راکٹ کا ڈیزائن ایسا ہے کہ یہ زمین کے مدار میں 64 ٹن وزنی سامان لے کر جا سکتا ہے یعنی یہ خلا میں لندن کی پانچ ڈبل ڈیکر بسوں کے ساتھ پرواز کر سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایلن مسک کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کے دوسرے طاقتور ترین راکٹ ڈیلٹا فور ہیوی سے دگنی سے بھی کچھ زیادہ صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں اس پر خرچہ ایک تہائی آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSPACEX
اس پہلے تجرباتی مشن کو لاحق خطرات کے پیش نظر مسک نے بہت کم وزن بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ان کی سرخ ٹیسلا سپورٹس کار بھی شامل ہے۔
اگر اس کے تمام مراحل کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں اور اس کا پتہ اس کی پرواز بھرنے کے ساڑھے چھ گھنٹے بعد ہی لگے گا تو ٹیسلا اور اس کے مسافر سورج کے بیضوی مدار میں بھیجے جائیں گے جو سیارہ مریخ تک پہنچے گا۔
یہ بھی پڑھیے
فالکن ہیوی میں سپیس ایکس کے نو فالکن گاڑیوں میں سے تین کو ایک ساتھ باندھا گیا ہے۔ اور سپیس ایکس کے معمول کے مطابق یہ سب ہر مرحلے پر قوت فراہم کرتے ہیں۔ راکٹ کا نچلا حصہ کنٹرولڈ انداز میں زمین پر لوٹ آيا ہے۔

دوسرے دو فلوریڈا کے ساحل پر کینیڈی کے جنوب میں ٹچ ڈاؤن زون میں واپس آئے ہیں جبکہ تیسرے بوسٹر کو سمندر میں سینکڑوں کلومیٹر کے فاصلے پر نصب ڈرون شپ سٹیشن پر اترنا تھا۔
لانچ کے دوران ڈرون شپ سے ویڈیو سگنل منقطع ہو گیا تھا اس لیے تیسرے بوسٹر کے بارے میں ابھی کوئی علم نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
فالکن ہیوی کا ٹیسلا کارگو کے ساتھ بالائی مرحلہ اس امید کے ساتھ شروع ہوا کہ یہ نکل کر مریخ کے مدار میں پہنچ جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بالائی مراحل میں انجن تین مختلف مراحل پر کامیابی سے فائر ہو اور تیسرا اور آخری اگنیشن ایک لمبے مرحلے کے بعد رونما ہوگا۔
پرواز سے قبل مسٹر مسک نے کہ یہ وہ مرحلہ ہے جس کے بارے میں انھیں سب سے زیادہ تشویش تھی۔ بالائی مرحلے میں زمین کے مدار سے اوپر ریڈیئیشن کے مرتکز علاقے سے گزر ہوگا جسے وان ایلن بیلٹ کہتے ہیں اور اس میں برقی نظام متاثر ہو سکتے ہیں۔









