نئے خلائی راکٹ کی تیاری، ’2024 تک عام شہری مریخ پر جا سکیں گے‘

،تصویر کا ذریعہSpaceX
امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2024 تک عام لوگوں کو مریخ پر بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئندہ سال ان کی کمپنی اس کام کے لیے درکار خلائی جہاز تیار کرنا شروع کر دے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی سپیس ایکس کی توجہ اب اس کام پر مرکوز ہوگی کہ وہ ایک ایسا خلائی جہاز تیار کرے جو کمپنی کی موجودہ ضروریات سمیت ایک سیارے سے دوسرے سیارے کے سفر کا کام بھی سر انجام دے سکے۔
بی ایف آر نامی اس مجوزہ راکٹ سسٹم سے زمین پر لوگوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر بھی لے جایا جا سکے گا۔
انٹرنیشنل ایسٹرونوٹیکل کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ جن دوروں کو ابھی لانگ ڈسٹنس (طویل) مانتے ہیں، ایسے زیادہ تر دوروں کو نصف گھنٹوں میں مکمل کیا جا سکے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ ایلون مسک نے انٹرنیشنل ایسٹرونوٹیکل کانگریس کے سامنے گذشتہ سال مریخ عام لوگوں کو لے جانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سال بعد انھوں نے اس کے بارے میں مزید تفصیلات دیں ہیں۔
ان کا بی ایف آر راکٹ 106 میٹر اونچا اور نو میٹر چوڑا ہے۔ گذشتہ سال تجویز کردہ راکٹ کے مقابلے میں نیا ڈیزائن قدرے چھوٹا ہے مگر ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اس سال کے تجویز کردہ راکٹ میں سب سے اہم بات قیمت میں کمی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہم نے قیمت کا معاملہ حل کر لیا ہے۔‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ بی ایف آر سیٹلائٹس کو لانچ کرے گا، سپیس سٹیشن کی سروس کرے گا جیسے سپیس ایکس کے جہاز ابھی کرتے ہیں مگر اس کے علاوہ وہ لوگوں کو مریخ اور چاند پر لے کر بھی جائے گا اور زمین پر ’پوائنٹ ٹو پوائنٹ‘ سفر بھی کرے گا جیسے کہ نیو یارک سے شنگائی کا سفر 40 منٹ میں مکمل ہو سکے گا۔








