امریکی صدر کے خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کے حکم نامہ پر دستخط

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناسا کو ہدایت کی ہے کہ وہ 1972 کے بعد پہلی مرتبہ انسانوں کا ایک مشن پھر سے چاند پر بھیجے۔
اس مشن میں طویل المدتی دریافتوں اور چاند کی سطح کے استعمال پر توجہ دی جائے گی۔
اس منصوبے میں نجی شعبے کے ساتھ اشتراک کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس منصوبے سے مریخ تک جانے کے مشن کی بنیادیں مضبوط ہوں گی۔ تاہم انھوں نے چاند کے لیے اس مشن کے لیے وقت طے نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے حوالے سے کوئی بھی حقیقی قدم اٹھانے کے لیے کانگرس کی منظوری درکار ہوگی۔
خلائی تحقیق کے حوالے سے دونوں ہی جماعتوں میں حمایت پائی جاتی ہے تاہم ان کی طوالت اور بجٹ پر اختلافِ رائے موجود ہے۔
اس سال کے آغاز میں چین نے بھی کہا تھا کہ وہ خلا بازوں کب چاند پر بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نئے حکم نامہ پر دستخط کی تقریب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’ہم رہنما ہیں اور ہم ہی رہنما رہیں گے۔‘
اس حکم نامہ کی تجویز نیشنل سپیس کونسل نے دی تھی جس کے سربراہ نائب صدر مائک پینس ہیں
تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے یہ معلومات نہیں دیں کہ نئے مقاصد کیسے حاصل ہوں گے اور ان کے اوقاتِ کار کیا ہوں گے۔
ناسا کے قائم مقام منتظم رابرٹ لائٹ فوٹ نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
ان کا ایک بیان میں کہنا تھا ’ناسا صدر کے چاند پر انسانوں کی واپسی کے سفر سے متعلق حکم نامہ کی حمایت کرتا ہے اور چاند اور مریخ کا سفر نظامِ شمسی کی وسعتوں کو کھولے گا۔‘









