کینیڈا میں ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ’دریا کی چوری‘

،تصویر کا ذریعہDan Shugar/University of Washington Tacoma
سائنسدانوں کی ایک ٹیم کے مطابق کینیڈا میں یاکون کے علاقے میں پگھلتے ہوئے گلیشیئر کی وجہ سے ایک دریا کا راستہ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سلمز نامی دریا جو کہ پہلے بحیرۂ بیرنگ میں گرا کرتا تھا اب ایک نئے راستے پر چل کر کسکاولش نامی دریا میں جا گرتا ہے۔
نیچر جیو سائنٹس نامی رسالے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ دریافت اس بات کا مظہر ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں دنیا میں کیسے حیران کن ارضیاتی واقعات پیش آ سکتے ہیں۔
دریا کے اس طریقے سے راستے کی مکمل تبدیلی کو 'دریا کی چوری' کہا جاتا ہے اور اس عمل میں صدیاں لگتی ہیں تاہم تحقیق کے مطابق اس دریا نے راستہ تبدیل کرنے میں چند ماہ کا عرصہ لیا۔
مرکزی محقق ڈین شگر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'جدید دور میں کسی نے دریا کی چوری کا واقعہ رونما ہوتا نہیں دیکھا۔ کم از کم میں تو ایسے کسی واقعے کے بارے میں نہیں جانتا۔'.
یونیورسٹی آف واشنگٹن ٹاکوما کے ارضیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے چھ سائنسدانوں نے گذشتہ موسمِ گرما میں دریائے سلمز پر تحقیق کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم جب وہ یاکون پہنچے تو وہاں دریا کی جگہ پانی ہی نہ تھا۔ وہیں انھوں نے دریافت کیا کہ ایک گلیشیئر کی وجہ سے دریا کو اس کے پرانے منبع سے پانی کی فراہمی کا سلسلہ تقریباً منقطع ہو گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہJim Best/University of Illinois
پروفیسر شگر کا کہنا ہے کہ ان کے ایک ساتھی جان کلاگ نے اس بارے میں ایک دہائی قبل پیشنگوئی کی تھی اور اس کی وجہ اس علاقے کی مخصوص ارضیاتی ساخت کو قرار دیا تھا۔
ان کے مطابق 'ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ پیشنگوئی اتنی جلدی اور اتنی تیزی سے پوری ہو جائے گی۔'
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دریائے سلمز میں مئی 2016 میں چار دن کے لیے پانی کی آمد میں اچانک کمی ریکارڈ کی گئی اور پھر یہ سلسلہ پورے موسمِ گرما میں جاری رہا۔
جب سائنسدانوں کی ٹیم دریا پر پہنچی تو وہاں دریا کی جگہ ایک مختصر جھیل ہی باقی رہ گئی تھی۔
پروفیسر شگر کا کہنا ہے کہ دریا کے بہاؤ میں تبدیلی نے علاقے کی شکل ہی تبدیل کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں دیگر دریاؤں کی سطح بلند ہو گئی ہے اور یہی نہیں بلکہ ان دریاؤں میں مچھلیوں کی تعداد اور علاقے میں جنگلی حیات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔








