جاندار ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے سے قاصر

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جانداروں کی بہت سی انواع ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ نہیں کر پا رہیں۔
ڈھائی سو سے زائد پودوں اور جانوروں پر تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ قدرتی ماحول کے ان جانداروں کے اندر موجود بارشوں کی مقدار اور درجۂ حرارت سے نمٹنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ استوائی علاقوں کے جاندار منطقۂ معتدلہ کے جانداروں کے مقابلے پر زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔
بعض جانور بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کا مقابلہ کرنے کے لیے نقلِ مکانی کر کے کسی موزوں علاقے میں چلے جاتے ہیں، لیکن بہت سے ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں سے کہیں اور جانا ممکن نہیں، مثال کے طور پر جزیروں اور اونچے پہاڑی سلسلوں میں۔
ماحولیات دانوں نے حساب لگایا کہ جاندار وقت کے ساتھ اپنا ماحول کس حد تک تبدیل کرتے ہیں اور پھر اس کا تقابل ماحولیاتی تبدیلی کے تحت بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت سے کیا گیا۔
انھوں نے پودوں اور جانوروں کی 266 انواع کا تجزیہ کیا جن میں حشرات، جل تھلیے، پرندے، ممالیہ اور رینگنے والے جانور شامل تھے۔
معلوم ہوا کہ قدرتی ماحول میں تبدیلی کی شرح ماحولیاتی تبدیلی کے تخمینے سے اوسطاً دو لاکھ گنا زیادہ سست رفتار ہوتی ہے۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف ایریزونا کی ٹریزا جیکووا کہتی ہیں کہ 'مجموعی طور پر ہمارے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پودوں اور جانوروں کے قدرتی ماحول رونما ہونے والی تبدیلی کی شرح عالمی تپش کی شرح سے کہیں سست ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو دھاری تلوار
یونیورسٹی آف ایریزونا ہی کے ڈاکٹر وینز کہتے ہیں کہ ممالیہ اور پرندے اس تبدیلی کا نسبتاً زیادہ بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے جسم کا درجۂ حرارت کنٹرول کر سکتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ گو بعض انواع زیادہ بلند مقامات کی جانب جا سکتی ہیں، 'بہت سے جانور ایسا نہیں کر سکتے۔ ماحول کی تباہی اور درجۂ حرارت میں اضافہ ان کے لیے دو دھاری تلوار ہے۔'
یہ تحقیق پروسیڈنگز آف دا رائل سوسائٹی بی: بائیولاجیکل سائنسز میں شائع ہوئی ہے۔








