دنیا بھر میں 66 کروڑ افراد پینے کے صاف پانی سے محروم

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا میں دیہی علاقوں میں بسنے والے ایسے افراد کی تعداد دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ ہے جنہیں صاف پانی میسر نہیں ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے یہ صورت حال مزید سنگین ہوتی چلی جا رہی ہے۔
واٹر ایڈ نامی ایک غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق چھ کروڑ تیس لاکھ دیہاتیوں کو، جو کہ برطانیہ کی مجموعی آبادی سے زیادہ تعداد ہے، پینے اور روزمرہ کے استعمال کے لیے صاف پانی میسر نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی، انفراسٹرچکر کی عدم دستیابی اور دشوار گزار علاقوں میں آبادی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
واٹر ایڈ رپورٹ نے مزید کہا ہے کہ چین دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں چار کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کو صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ اس کے بعد تیسرے نمبر پر افریقی ملک اتھوپیا اور نائجیریا ہے جہاں چار کروڑ لوگ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
واٹر ایڈ کی بائیس مارچ کو ورلڈ واٹر ڈے سے ایک دن قبل جاری کی گئی ہے۔
واٹر ایڈ انڈیا کے سربراہ وی کے مدہاون نے کہا ہے کہ جو لوگوں کو پانی کی سہولت میسر نہیں ہے ان میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو دیہات میں بستے ہیں اور کسی بھی بڑی ماحولیاتی تبدیلی سے ان لوگوں کی حالتِ زار مزید ابتر ہو جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ بھارت کی 35 میں سے 27 ریاستیں ایسی ہیں جو قدرتی آفات کی زد میں آ سکتی ہیں اور ان میں ایسی ریاستیں جو پسماندہ اور غریب ہیں وہ ماحولیاتی تبدیلی یا شدید موسمی حالت میں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔
دنیا بھر میں 66 کروڑ 30 لاکھ افراد ایسے ہیں جو صاف پانی سے محروم ہیں اور ان میں اسی فیصد یعنی 52 کروڑ 20 لاکھ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔
ان میں سے اکثریت ایسے ملکوں میں بستی ہے جنہیں پہلے ہی شدید موسمی حالات مثلاً سمندری طوفانوں، سیلابوں اور خشک سالی کا سامنا رہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متوقع شدید موسمی حالات کی صورت میں ان افراد کے لیے مشکلات میں کئی گناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیضہ، ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں کے زیادہ پھیلنے کے خطرات بڑھ جائیں گے اور زیادہ لوگ خوراک کی کمی کا شکار ہوں گے۔
درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ کسانوں کو خوراک پیدا کرنے اور مال مویشیوں کو پالنے میں مزید مشکلات پیش آئیں گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت کا شمار ان ملکوں میں بھی ہوتا ہے جن کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔








