انڈیا کی ’مغربی دریاؤں پر اپنے حصے کا پورا پانی قابل استعمال بنانے کی کوششیں تیز‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا نے پاکستان کے خدشات کے باوجود مغربی دریاؤں کے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کوششیں تیز کر دی ہیں۔
سینیئر انڈین حکام نے بی بی سی کے نامہ نگار نوین سنگھ کھڑکا کو بتایا کہ انڈیا کی جانب سے دریائے سندھ اور ان کے معاون مغربی دریاؤں کے پانی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوششوں میں تیزی کر دی ہے۔
تین دریا، سندھ، چناب اور جہلم انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سے گزرتے ہیں جبکہ ان کا زیادہ تر پانی سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کی ملکیت ہے۔
انڈیں حکام کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ چند برسوں میں پانی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لیے بڑی مقدار میں پانی ذخیرہ کرنے اور نہریں نکال سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے پاکستان کو شدید خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے سندھ بیسن میں دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر پر انڈیا سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ پریشان کن امر ہے کہ انڈیا سندھ طاس معاہدے کے رو سے تعین کردہ مقدار سے زیادہ پانی روک سکتا ہے۔
وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کی جانب سے اس امر کا اظہار کیا جا چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان اتفاق رائے سے طے پایا تھا اور کوئی ایک ملک یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو اس معاہدے سے علیحدہ نہیں کر سکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ کروڑوں کی تعداد میں پاکستانیوں کا انحصار دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی پر ہے۔
انڈین حکام کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات سندھ طاس معاہدے کے اصول و ضوابط کے مطابق ہوں گے اور یہ کہ انھوں نے اس معاہدے کے تحت انڈیا کی ملکیت پانی استعمال کیا۔
جبکہ 13 دسمبر کو ورلڈ بینک کے صدر نے سندھ طاس معاہدے پر آبی تنازعے کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور انڈیا کو جنوری تک کی مہلت دی تھی۔
ورلڈ بینک کے صدر جم یانگ کنگ کے مطابق یہ قدم اس لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ دونوں ممالک اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے کوشش کریں۔
واضح رہے کہ انڈیا نے دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبہ تعمیر کر رہا ہے۔
1960 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت انڈیا کو مشرفی دریاؤں یعنی ستلج، راوی اور بیاس جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ کو استعمال کرنے کے حقوق دیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں پانی کے ذخائر تقسیم کرنے کے معاہدوں میں سندھ طاس معاہدے کو ایک بہترین مثال تصور کیا جاتا رہا ہے۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان متعدد بار سیاسی کشیدگی کے باوجود بھی کسی ملک نے اس معاہدے کو منسوخ نہیں کیا۔
خیال رہے اوڑی حملے کے بعد انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔ ستمبر میں ہونے والے اس حملے میں انڈین فوج کے 19 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
نئی دہلی اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی پائی جاتی ہے۔
پاکستان اوڑی حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر دہلی پانی کے معاملے پر اسلام آباد پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان علاقوں کی انفراسٹرکچر کی تعمیر کا معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا انڈین حکام خیال کر رہے ہیں۔








