پاکستان سندھ طاس معاہدے میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کر ے گا: طارق فاطمی

طارق فاطمی

،تصویر کا ذریعہAFP

وزیر اعظم پاکستان کے معاون برائے خارجہ امور کا کہنا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کر ے گا۔

انھوں نے یہ بات ایسے وقت کی ہے جب ورلڈ بینک کے صدر نے سندھ طاس معاہدے پر آبی تنازعے کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور انڈیا کو جنوری تک کی مہلت دی ہے۔

انگریزی اخبار ڈان سے بات کرتے ہوئے طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان کا اصولوں پر مبنی موقف معاہدے کے مطابق ہے اور سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم پاکستان کے معاون برائے خارجہ امور کابیان ایسے وقت آیا ہے جب جمعہ کو انڈیا نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان سے دو طرفہ مذاکرات کے لیے رضامندی ظاہر کی۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ کا کہنا تھا کہ انڈیا ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کے عملدرآمد پر یقین رکھتا ہے، جس میں تکنیکی سوالات اور اختلافات کا تدارک شامل ہے اور اس تنازع کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے ہی کرنا چاہیے۔

ترجمان نے کہا کہ مثالیں موجود ہیں جب 1978 میں سلال ہائیدرو الیکٹرک پروجیکٹ میں دونوں حکومتوں نے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے کامیابی سے حل کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا نے ورلڈ بینک کو تجویز دی ہے کہ جلد بازی نہ کی جائے اور اس حوالے سے مزید مشاورت کی جائے۔

انڈیا دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبہ تعمیر کر رہا ہے۔ ان دونوں منصوبوں کو ورلڈ بینک فنڈ نہیں کر رہا۔

وکاس سواروپ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ کا کہنا تھا کہ انڈیا ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کے عملدرآمد پر یقین رکھتا ہے

یاد رہے کہ 1960 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت انڈیا کو مشرفی دریاؤں یعنی ستلج، راوی اور بیاس جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ کو استعمال کرنے کے حقوق دیے گئے تھے۔

دنیا بھر میں پانی کے ذخائر تقسیم کرنے کے معاہدوں میں سندھ طاس معاہدے کو ایک بہترین مثال تصور کیا جاتا رہا ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان متعدد بار سیاسی کشیدگی کے باوجود بھی کسی ملک نے اس معاہدے کو منسوخ نہیں کیا۔

پاکستان کے سابق سندھ طاس کمشنر جماعت علی شاہ نے ہمارےنامہ نگار رضا ہمدانی بات کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ بینک نے جو آبی تنازع حل کرنے کے لیے مہلت دی ہے وہ دونوں ممالک کی رضا مندی پر کیا ہے۔ 'لیکن ورلڈ بینک نے جو زیادتی کی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے انڈیا کی جانب سے غیر جانبدار ماہر کی تقرری کی درخواست کو منظور کی ہے۔ ایک ایشو کے حل کے لیے ایک ہی جگہ پر دو کورٹس یا دو طریقہ کار کیسے اپنائے جاسکتے ہیں۔'

دوسری جانب بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے بی بی سی کو بتایا کہ حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس سارے معاملے میں بہت اہم ہے۔

'حال ہی میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اس معاہدے کو ختم کیا جائے۔ اس سے پہلے اتنی اونچی سطح پر یہ بات سوچی بھی نہیں گئی تھی کہ معاہدہ ختم کیا جائے یا پانی روکا جائے۔'

انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے جب اس اندیشے کا اظہار کیا جاتا تھا تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ ایک انتہائی قدم ہے جو کبھی نہیں اٹھایا جائے گا۔

'لیکن جب یہ بات انڈین قیادت کی جانب سے کہی گئی کہ معاہدہ ختم کر کے پانی روکا جاسکتا ہے تو پاکستان کی یہ اندیشہ حقیقت میں تبدیل ہوا اور اس کے باعث عدم اعتماد بہت زیادہ ہو گیا ہے۔'