تمل ٹائیگرز، یواین رپورٹ مسترد کی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں تمل باغیوں نے لڑائی والے علاقے سے عام شہریوں کے باہر نکلنے سے متعلق اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر نکتہ چینی کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمل ٹائیگرز شہریوں کو باہر نہیں نکلنے دے رہے۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ جو لوگ متنازعہ علاقے سے باہر آنا چاہتے تھے انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں سے کئی ایک کی موت ہوگئی ہے۔ ایل ٹی ٹی ای کی امدادی تنظیم ’تمل ریہیبلٹیشین آرگنائزیشن‘ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ عام شہریوں کو بچانے میں نا کام رہا ہے۔ تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے ’ یہ بات واضح ہے کہ اقوام متحدہ عام شہریوں کو بچانے کا اپنا فرض پورا نہیں کرسکا لیکن اس کے باوجود وہ یہ نہیں کہتے کہ انہیں ان کا کام کرنے سے کون روک رہا ہے۔‘ اس تنظیم کے صدر ویلوپلائی سیوندیار کے حوالے سے ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ اقوام متحدہ صرف کچھ بچے ہوئے اپنے سٹاف کو وہاں سے نکالنے کے بارے میں کھل کر بات کر رہا ہے۔’ یہ پوری طرح اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنا ہے۔ اگر انہیں حقیقی معنوں میں شہریوں کا خیال ہے تو یہ محض بے معنی بات کرنے اور الزام لگانے کا وقت نہیں ہے۔‘ ’تمل ریہیبلٹیشین آرگنائزیشن‘ کو عام طور پر تمل باغیوں کی تنظیم مانا جاتا ہے جس پر امریکہ اور برطانیہ میں پابندی عائد ہے۔ پیر کے روز اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اس کے پاس ایسی کئی پراعتماد رپوٹیں ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ تمل ٹائیگرز عام شہریوں کو باہر جانے سے منع کر رہے ہیں اور جو لوگ باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں گولی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بعض واقعات میں تو ایسے لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ یو این کے مطابق رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ لڑائی ان علاقوں میں ہورہی ہے جنہیں حکومت نے محفوظ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے فریقین سے شہریوں کی گھنی آبادی والے علاقے میں لڑائی سے باز رہنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان گورڈن ویژ کا کہنا ہے کہ تامل ٹائیگرز اپنی ٹکڑی میں زبردستی لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں جودہ برس تک کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔ تامل باغیوں اور سری لنکا کی فوج کے درمیان ہفتوں سے جاری لڑائی میں ہزاروں عام شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ اس میں سے بہت سے افراد ان علاقوں میں پھنسے ہیں جنہیں حکومت نے محفوظ علاقہ قرار دے رکھا ہے۔ شمالی سری لنکا میں تقریباً پچاس ہزار فوجی تمل باغیوں سے بر سر پیکار ہیں۔ عالمی برادری نے جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک باغی ہتھیار نہیں ڈالتےتب تک وہ جنگ نہیں بند کر سکتی۔ | اسی بارے میں سری لنکا:ہسپتال پر حملہ، نو ہلاک02 February, 2009 | آس پاس ’سری لنکا، جنگ سے بچے متاثر‘31 January, 2009 | آس پاس ’میرا قاتل جان لے کہ میں بزدل نہیں ہوں‘13 January, 2009 | آس پاس قتل سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام13 January, 2009 | آس پاس صحافی کا جنازہ، ہزاروں شریک12 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||