نئی امریکی پالیسی، افغان شمولیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی اور علاقے کے لیے تعینات امریکی سفیر رچرڈ ہالبروک نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک مل کر کام کریں گے اور نئی امریکی پالیسی کی تشکیل میں افغانستان سے مشورہ لیا جائے گا۔ کانفرنس میں اعلان کیا گیا ہے کہ علاقے کے لیے اوباما حکومت کی نئی امریکی پالیسی کی مشاورت میں حصہ لینے کے لیے ایک افغان وفد امریکہ جائے گا۔صدر اوباما افغانستان اور پاکستان میں طالبان کے خلاف امریکی پالیسی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔ صدر کرزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیرونی فوجوں کے لیے نئے قوانین کا اطلاق کیا جائے گا تاکہ شہری ہلاکتوں کو کم کیا جاسکے۔ امریکی سفیر نے یہ دورہ ایسے وقت کیا ہے جب واشنگٹن میں افغان حکومت کے با اثر ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس پریس کانفرنس کا اہتمام بہت جلد بازی میں کیا گیا تھا اور اس کا انعقاد یہ نشاندہی بھی کرتا ہے کہ کشیدہ تعلقات کے باوجود دونوں ممالک مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران امریکی حکام افغان حکومت پر کھلی تنقید کرتے رہے ہیں اور ان کا اصرار رہا ہے کہ افغان حکومت کو بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامت کرنے کی ضرورت ہے۔ پریس کانفرنس سے ظاہر ہورہا تھا کہ مذاکرات میں ایسے موضوعات چھڑنے پر، جن میں فریقین میں اختلاف پایا جاتا تھا، دونوں رہنما اس کوشش میں تھے کہ ممالک کے باہمی تعلقات نہ بگڑیں۔ تاہم ’باہمی اتفاق‘ کے اس مظاہرے کے باوجود بی بی سی کے نامہ نگار کا خیال ہے کہ واشنگٹن میں صدر کرزئی زیادہ مقبول نہیں رہے ہیں اور اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے صرف ایک پریس کانفرنس ناکافی ہے، افغان حکام کو اس کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ دوسری جانب صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے بہت شکر گزار ہیں کہ اس نے انہیں مشاورت میں شامل کیا ہے۔ دریں اثناء کرزئی نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنا وفد واشنگٹن بھیجنے کے لیے امریکہ سے اجازت طلب کی ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان کو ’ترجیح‘ قرار دیا ہے تاہم انہوں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ افغان حکومت زمینی حقائق سے الگ تھلگ ہے۔
رچرڈ ہالبروک نے، جوکہ افغانستان اور پاکستان کے لیے نئے امریکی سفیر ہیں، بتایا کہ انہوں نے پاکستان کا دورہ بھی کیا ہے تاہم اب تک وہ اس سلسلے میں مختصر بیانات ہی جاری کررہے ہیں۔ پہلے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ علاقے میں ’سننے اور سمجھنے کے لیے آئے ہیں‘۔ ہالبروک اتوار کی شام نئی دہلی پہنچنے والے ہیں۔ اپنے دورے سے قبل انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان کا معاملہ عراق سے کہیں زیادہ مشکل ہے اور یہ کہ انہوں نے اس سے قبل اتنی خراب صورتحال کا سامنا نہیں کیا تھا جو انہیں ورثے میں ملی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ مالی تعاون تو کرے گا تاہم ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ ملک کے شمال مغربی حصوں میں افغان سرحد کے ساتھ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کیا جانا چاہیے۔ کہا جارہا ہے کہ پاک افعان سرحد کے دونوں جانب سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رچرڈ ہالبروک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’افغانستان عراق سے زیادہ کٹھن‘09 February, 2009 | آس پاس طالبان سے افغانستان واپسی کی اپیل08 February, 2009 | آس پاس ’دنیا کی سب سے کمزور حکومت‘ 03 February, 2009 | آس پاس افغان صدارتی انتخاب اگست میں29 January, 2009 | آس پاس امریکی حملے میں پندرہ ہلاک24 January, 2009 | آس پاس حلیف انداز تبدیل کریں: کرزئی21 January, 2009 | آس پاس افغانستان، کیا حالات بدلیں گے؟20 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||