BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 February, 2009, 15:13 GMT 20:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ارزگان:خودکش حملہ، اکیس ہلاک
افغانستان میں طالبان کے حملوں میں شدت آئی ہے
افغانستان کے صوبہ ارزگان میں ایک خودکش بمبار نے پولیس سٹیشن کے اندر جاکر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں کم سے کم اکیس پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

خودکش حملہ آور خود بھی پولیس یونیفارم میں تھا۔ طالبان نے اس خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ حکام کے مطابق ملک کے جنوبی صوبے ارزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ میں واقع اس پولیس سٹیشن میں جب ڈیوٹی پر تعینات اہلکار نے خودکش بمبار سے شناخت معلوم کی تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑلیا۔

افغان پولیس کے مطابق دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ اس سے کئی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں اکیس پولیس اہلکاروں کے ہلاک اور آٹھ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

صوبائی پولیس سربراہ جمعہ گل ہمت کا کہنا ہے کہ دس دیگر پولیس اہلکاروں کو معمولی زخم آئے تھے اور انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیا گیا۔

ان کے بقول پولیس سٹیش کے احاطے میں اُس وقت کچھ نئے پولیس رنگروٹ تربیت لے رہے تھے جب خودکش حملہ آور نے وہاں داخل ہوکر خود کو اڑا لیا۔

طالبان کے ایک ترجمان نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ سنہ دوہزار ایک میں افغانستان پر امریکی فوج کے حملے کے بعد سے ملک کا جنوبی حصہ طالبان مزاحمت کا مرکز چلا آ رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پیر کا حملہ حالیہ چند ماہ کے دوران سب سے زیادہ خونریز ہے۔

افغان وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کے ترین کوٹ کے قریب ڈیراؤ کے ضلع میں پولیس نے تین مشتبہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔

ترجمان کے مطابق یہ تینوں افراد خودکش واسکٹ پہنے ہوئے تھے۔

افغانستان میں پولیس اور فوج کے لیے امریکی، اور دوسری غیرملکی افواج جن میں نیٹو کی قیادت والی ایساف فوج بھی شامل ہے، زیادہ تر طالبان حملوں کا نشانہ بنتی ہیں۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ایئن پینل کا کہنا ہے کہ طالبان نے دو برس قبل غیرملکی افواج سے کھلے میدان میں مقابلے کے بعد اپنے حربے تبدیل کر لیے ہیں اور اب انہوں نے عراق میں مزاحمت کاروں کے حربوں کی نقل میں زیادہ خودکش حملے، بارودی سرنگیں اور گھات لگار کر حملے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

صوبہ ارزگان طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کا آبائی علاقہ ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق یہ صوبہ قندھار یا ہلمند کے مقابلے میں کم پرتشدد ہے تاہم اب یہاں بھی طالبان کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اگرچہ ملک کے جنوب میں افغان اور غیرملکی فوج کے خلاف طالبان کی کارروائیاں زیادہ شدید ہیں تاہم مشرقی حصے حتٰی کے دارالحکومت کابل میں بھی طالبان حملے کرتے رہے ہیں۔

عراق میں اب قدرے سکون ہے جس کے بعد امریکہ افغانستان میں تیس ہزار مزید فوجی بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد