غزہ امداد کی اپیل نشرنہ کرنےکا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی نے غزہ کے لیے امداد کی اپیل نشر نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ اُسے اس بات پر شک ہے کہ امداد غزہ کے متاثرین تک پہنچ سکے گی اور بی بی سی نہیں چاہتا کہ عوامی سطح پر اسکی غیر جانبداری پر کوئی اثر پڑے۔ برطانوی حکومت نے بی بی سی سمیت تمام نشریاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں امداد کی اپیل نشر نہ کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ اُس نے غزہ کی تباہی پر ہنگامی کمیٹی، ڈیساسٹرز ایمرجنسی کمیٹی، (ڈی ای ایس) کی اپیل کسی بھی نیٹ ورک پر نشر نہ کرنے کا فیصلہ دوسرے نشریاتی اداروں کے ساتھ مل کر کیا ہے۔ کارپوریشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں امداد پہنچانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم ڈی ای سی کا کہنا ہے کہ یہ بات صاف ہے کہ برطانوی عوام مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بی بی سی نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ فیصلہ اس طرح کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں امداد کی ترسیل کے بارے میں سوالیہ نشان اٹھنے اور عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کے خدشے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے تاکہ اس سے جاری خبر کے تناظر میں بی بی سی کی غیر جانبداری نہ متاثر ہو۔‘ تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی یقیناً غزہ میں انسانی بحران رپورٹ کرتی رہا گی۔ ڈی ای سی میں ایکشن ایڈ، دی برٹش ریڈ کراس، کیفوڈ، کیئر انٹرنیشنل یو کے، اسلامک ریلیف، آکسفیم، سیو دی چلڈرن اور ٹیئر فنڈ جیسے ادارے شامل ہیں۔ | اسی بارے میں ’مغرب حماس سے مذاکرات کرے‘22 January, 2009 | آس پاس فاسفورس، اسرائیل تفتیش کرے گا21 January, 2009 | آس پاس بان کی مون غزہ کے دورے پر20 January, 2009 | آس پاس غزہ میں پچاس ہزار سے زیادہ بےگھر19 January, 2009 | آس پاس غزہ سے راکٹوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی18 January, 2009 | آس پاس ’اسرائیل کی فائربندی کا اعلان جلد‘ 17 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||