’غزہ کے حالات گمان سے بھی ابتر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے امدادی کام کے انچارج کا کہنا ہے کہ تین ہفتے کی اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد غزہ کے حالات اتنے ابتر ہیں کہ وہ گمان بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ سرجان ہومز نے بی بی سی ٹو ڈے پروگرام پر انٹرویو میں بتایا کہ ان کو منصوبے کے تحت کی گئی تباہی سے نہایت دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی معاشی حالت کئی برس پیچھے دھکیل دی گئی ہے۔ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے سربراہ جیکب کیلینبرجر نے کہا کہ غزہ کے ہسپتالوں میں حالات بہت ابتر ہیں۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حال ہی میں عزہ کے دورے کے دوران انہوں نے اسرائیلی فوجی کارروائی سے جو حال الشفاء ہسپتال کا دیکھا ہے ایسا دل دہلا دینے والا منظر انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ مسٹر کیلینبرجر کسی امدادی ادارے کے اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد غزہ میں داخل ہونے والے پہلے سربراہ تھے۔ انکا کہنا ہے کہ الشفاء ہسپتال میں لوگوں نے جو کچھ جھیلا ہے وہ افغانستان اور دارفور سے بھی کہیں زیادہ ہولناک ہے۔ اور یہ کہ لوگوں کو پہنچنے والے زخموں سے پتہ لگتا ہے کہ وہاں ایسے بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں جن سے عام شہریوں اور عسکریت پسندوں میں تفریق حقیقتاً ناممکن ہوگئی ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے غزہ میں سفید فاسفورس بم استعمال کئے جانے کا اقرار کیا ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ ایک اندرونی تفتیش سے ایسا غیر قانونی طور پر کئے جانے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔
جون ہومز نے بتایا کہ غزہ میں صنعتی علاقے میں تمام عمارتیں کو بلڈوزر اور گولہ باری سے زمین بوس کردیا گیا ہے۔ اور ٹوٹے ہوئے پائپوں سے گندا پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے۔ ’مجھے یقین ہے کہ اسرائیل کہے گا کہ انہوں نے یہ اس لیے کیا کہ ان عمارتوں سے جنگجو فائرنگ اور راکٹ داغ رہے تھے یا راکٹ بنا رہے تھے۔ لیکن اس تباہی کا مطلب ہے کہ نجی معاشی کام کو برسوں یا دہائیوں کے لیے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا ’یہ غزہ کے لیے اور وہاں کی عوام کے لیے بہت برا ہے کیونکہ غزہ کے لوگ اب سرکاری اداروں پر منحصر ہوں گے جو کہ حماس کے کنٹرول میں ہے۔‘ دریں اثناء اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے وزیر انصاف کو جنگی جرائم کے الزامات سے بچانے کا انچارج بنایا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ڈینیئل فریڈمین اسرائیل کی کارروائی کے حق میں قانونی جواز تیار کریں گے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطینی علاقے رچرڈ فوک کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف کافی ثبوت ہیں کہ اس نے جنیوا کنونشن یا جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ | اسی بارے میں ’مغرب حماس سے مذاکرات کرے‘22 January, 2009 | آس پاس فاسفورس، اسرائیل تفتیش کرے گا21 January, 2009 | آس پاس بان کی مون غزہ کے دورے پر20 January, 2009 | آس پاس غزہ میں پچاس ہزار سے زیادہ بےگھر19 January, 2009 | آس پاس غزہ سے راکٹوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی18 January, 2009 | آس پاس ’اسرائیل کی فائربندی کا اعلان جلد‘ 17 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||