BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 November, 2008, 23:33 GMT 04:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انخلاء کے وقت کا تعین کریں‘
حامد کرزئی گزشتہ کچھ ہفتوں سے غیر ملکی فوج کی کارروائی پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں
افغان صدر حامد کرزئی نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجی مداخلت کو ختم کرنے کے لیے وقت کا تعین کیا جانا چاہیے۔

افغانستان میں غیر ملکی فوجی مداخلت کو ختم کرنے کے لیے وقت کا تعین کرنے کی بات صدر حامد کرزئی نے افغانستان کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

حامد کرزئی نے کہا کہ وہ القاعدہ اور طالبان کے ان عناصر کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے جو باقی دنیا کے نظریے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

حامد کرزئی نے کہا کہ اگر افغان قوم کو روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آئے گی تو وہ متبادل تلاش کرنے کی کوشش میں طالبان سے مذاکرات کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔

حامد کرزئی نے کہا کہ بین الاقوامی فوجوں کی طرف سے افغانوں کی ان کے گھروں اور محلوں میں گرفتاریوں کو سلسلہ بند ہونا چاہیے اور یہ کام افغانستان کی سیکیورٹی فورسز پر چھوڑ دینا چاہیے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سن دو ہزار ایک میں کابل میں طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا اور جب سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر فوجی کارروائی جاری ہے۔ اس وقت ملک میں ستر ہزار کے قریب غیر ملکی فوجی موجود ہیں۔

حامد کرزئی نے کہا کہ افغان سوال کر سکتے ہیں کہ’ کیوں طالبان جیسی ایک چھوٹی سی قوت ملک میں آج تک موجود ہے، پھل پھول رہی ہے اور ہم انہیں شکست دینے میں ناکام ہیں۔ ‘

صدر نے کہا کہ ’افغان پوچھ رہے ہیں کہ کیوں ہم بین الاقوامی برادری کی تمام تر حمایت اور مدد کے باوجود سات سال بعد بھی طالبان کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔‘

حامد کرزئی نے کہا کہ اس صورت حال میں دو ممکنہ راستے اختیار کیئے جا سکتے ہیں۔ اول یہ کہ وقت کا تعین کیا جائے کہ جو کام گزشتہ سات سال میں نہیں کیا جا سکا وہ اگلے چار، پانچ یا سات سال میں کرلیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ امید افغان قوم کو نہیں دی جا سکتی تو انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ امن کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے استِفہامیہ انداز میں کہا کہ کیا افغان لوگوں کو متبادل راستہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ طالبان جو افغان معاشرے کا حصہ ہیں انہیں واپس لانے اور ملک کی ترقی کے عمل میں شریک کرنے کی ضرورت ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار داود قاریزادے نے کہا کہ کرزئی کا سخت بیان اس چیز کی غمازی کرتا ہے کہ وہ ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں کے لوگوں میں پائی جانے والی مایوسی سے کس قدر پریشان ہیں۔

غیر ملکی فوجی مداخلت کو ختم کرنے کے وقت کے تعین کا مطالبہ بھی حامد کرزئی کی طرف سے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔

حامد کرزئی نے غیر ملکی فوجیوں کے زبردستی گھروں میں گھس جانے کے سلسلے کو بھی بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

حامد کرزئی نےکہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ پاکستان میں ان کے محفوظ ٹھکانوں میں لڑی جانی چاہیے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ غیر ملکی فوجوں سے اپنے آپ کو الگ کرنا حامد کرزئی کی طرف سے لوگوں میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔

اقوام متحدہ کا وفد افغانستان میں حقائق جانے کے لیے پہنچا ہے اور اس دورے کے دوران وہ بیس ارب ڈالر کی امداد کے استعمال کے بارے میں بھی بات کرے گا جو اس سال افغانستان کو فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

ملا عمر ملا عمر کا پیغام
’انخلاء کا فیصلہ کر لو تو محفوظ راستہ دیں گے‘
جنگ کا حل کیا؟
طالبان سے مذاکرات یا مسلسل کشمکش
افغانستان کے چیلنج
عراق کے بعد امریکی جنرل کا نیا امتحان
فوجیشہریوں کی ہلاکتیں
حامد کرزئی کا اوباما سے حملے روکنے کا مطالبہ
ہاٹ پرسیوٹ
قبائلی علاقے، امریکہ کو کارروائی کا حق؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد