BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 November, 2008, 08:39 GMT 13:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈونیشیا میں سکیورٹی الرٹ
ان بم حملوں میں 202 افراد ہلاک ہوئے تھے
بالی بم دھماکوں کے ذمہ دار تین اسلامی شدت پسندوں کو سزائے موت دیے جانے کے بعد انڈونیشیا کے سکیورٹی دستوں کوالرٹ کر دیا گیا ہے۔ان بم حملوں میں 202 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جاوا میں ان تینوں کے آبائی گاؤں میں تینوں کی تدفین میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور کہیں کہیں سے تصادم کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔

جوابی حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر ملک بھر میں سکیورٹی دستوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

ان حملوں میں آسٹریلیا کے 88 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انڈونیشیا نہ جائیں۔

حکام کے مطابق فائرنگ سکواڈ نے امام سمدرا، امروزی نور ہاشم اور علی غفران (مخلص) کو نوساکامبنگن جزیرے کی جیل میں مقامی وقت کے مطابق رات سوا بارہ بجے گولی مار کر ہلاک کیا۔

ان تینوں شدت پسندوں کو بالی بم حملوں کی منصوبہ بندی کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور انڈونیشیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے ترجمان نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سزا پر عملدرآمد کے بعد ’ان افراد کے مردہ ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔‘

اس سے قبل سرکاری طور پر یہ کہا گیا تھا ان تینوں کی سزا پر نومبر کے اوائل میں عمل کیا جائے گا لیکن تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

امروزی کو ’مسکراتا ہوا بمبار‘ بھی کہا جاتا ہے
سزا کے بعد ان تینوں کی لاشوں کو ان کے افرادِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا جہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں ان کے آبائی گاؤں لےجایا گیا۔امروزی نور ہاشم اور علی غفران (مخلص) مشرقی جاوا کے رہنے والے تھے اور سمدرا کو مغربی جاوا لیجایا گیا۔

قبرستان میں ایک بینر لگایا گیا تھا جس پر لکھا تھا: ’خوش آمدید شہیدوں۔‘

تاہم ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان تینوں کو سزا دینے پر انڈونیشیا میں زیادہ ردِ عمل نہیں ہوگا کیونکہ زیادہ تر لوگوں نے اس سزا کی حمایت کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ سزا پر بہت پہلے ہی عملدر آمد کیا جانا چاہیئے تھا۔

ان تینوں افراد کو پانچ سال قبل سزا ہوئی تھی لیکن جب سے اپیلوں کا سلسلہ جاری تھا۔ رحم کی اپیلوں کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جنوب مشرقی ایشیا میں خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے خواب کے لیے شہید ہونے کو تیار ہیں۔

ان کے رشتہ داروں کی جانب سے ایک آخری اپیل ملک کی سپریم کورٹ نے اسی ہفتے مسترد کر دی تھی۔

یاد رہے کہ حکام نے بالی بم حملوں کی ذمہ داری انڈونیشیا کی شدت پسند تنظیم جماعہ اسلامیہ پر ڈالی تھی اور تنظیم کے سربراہ ابوبکر بشیر کو اس سازش کے الزام میں ڈھائی سال قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔

اسی بارے میں
بالی بمباروں کی موت قریب
24 October, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد