بالی دھماکے:’ابوبکر بشیر ملوث نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی سپریم کورٹ نے مبلغ ابوبکر بشیر پر سے سنہ 2002 کے بالی بم دھماکوں کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام خارج کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ارسٹھ سالہ مبلغ نائٹ کلبز پر ہونے والے بم حملوں میں ملوث ہونے کے الزام سے بری ہوگئے ہیں۔ انہیں جون دو ہزار چھ میں چھبیس ماہ کی قید کاٹنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ ابوبکر بشیر کے اس سازش میں ملوث نہ ہونے کے دعوے کے باوجود کچھ سکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ تاحال جمیعہ اسلامیہ نامی اس گروہ کے روحانی سربراہ ہیں جس پر بالی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ مبلغ کی بریت کے فیصلے پر ان کے بیٹے عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ’ خدا کا شکر ہے کہ سپریم کورٹ نے بالاخر سچ ظاہر کر دیا‘۔ ابوبکر بشیر کو پہلی مرتبہ بالی بم دھماکوں کے کچھ عرصہ بعدگرفتار کیا گیا تھا تاہم ان پر کبھی بھی ان دھماکوں کی کارروائی میں حصہ لینے کا الزام نہیں لگایا گیا۔ ان پر دو علیحدہ علیحدہ مقدمات چلائے گئے اور انہیں ایک مقدمے میں معمولی امیگریشن جرائم جبکہ دوسرے میں عدالت کے مطابق’ شیطانی سازش‘ کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔ یاد رہے کہ ان دونوں مقدمات کے دوران زیادہ اہم الزامات یا تو واپس لے لیئے گئے یا دورانِ اپیل عدالت نے انہیں خارج کر دیا تھا اور اب ابوبکر بشیر کی جانب سے قید کے دوران دائر کردہ ایک اور اپیل کی سماعت کے بعد عدالت نے سازش کا الزام بھی خارج کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں بالی بم دھماکہ: ایک کو سزا05 September, 2006 | آس پاس بالی دھماکے: ملزمان اپیل کریں گے28 July, 2006 | آس پاس پولیس کا شک جمیعتہ اسلامیہ پر 02 October, 2005 | آس پاس بالی دھماکے: عالمی سطح پرمذمت02 October, 2005 | آس پاس بالی میں خود کش حملے ہوئے: پولیس 02 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||