بالی بم دھماکہ: ایک کو سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے ایک اسلامی شدت پسند کو اکتوبر دوہزار پانچ میں بالی میں ہوئے خود کش بم حملہ میں ملوث ہونے کے جرم میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تیس سالہ عبد العزیز کو اس حملہ کا مبینہ ماسٹرمائنڈ ملائشیا نژاد نور الدین ٹاپ کو پناہ دینے کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔ اس معاملے میں عبد العزیز پہلےشخص ہیں جنہیں سزا سنائی گئی ہے۔ اس حملہ میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ قریب دو سو افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں تین دیگر لوگوں پرمقدمہ زیر سماعت ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دھماکہ خیز مادہ تیار کرنے اور اسے پہنچانے کے کام میں شامل تھے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس معاملے میں آئندہ چند روز میں فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ بالی کی ایک عدالت میں جج نے کہا کہ عزیز نے نورالدین سے کم از کم دس بار ملاقات کی اور اس نے ایک ویب سائٹ بنا کر مسلمانوں سے کافروں کے خلاف جہاد کرنے کی اپیل کی تھی۔ عزیز ہائی سکول میں کمپوٹر ٹیچر ہیں۔ جب سزا سنائی گئی اس وقت انہوں نے کافی زور سے ’اللہ اکبر‘ کی صدا بلند کی۔
بالی میں ہی سن 2002 میں ایک نائیٹ کلب میں ہوئے دھماکے میں دو سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس معاملے میں بھی نور الدین ٹاپ کے ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ انڈونیشیا کی حکومت کا کہنا تھا کہ ان دونوں معاملوں میں مقامی شدت پسند گروپ جماعتہ اسلامیہ کا ہاتھ تھا۔ پہلے اس گروپ کا القاعدہ کے ساتھ تعلقات کی بات کہی گئی تھی لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس گروپ نے اپنے تعلقات القاعدہ سے توڑ لیئے ہوں۔ | اسی بارے میں بالی: ابو بکر بشیر پر فرد جرم عائد16 October, 2004 | آس پاس بالی دھماکہ، عدالت کا فیصلہ 03 March, 2005 | آس پاس انڈونیشیا دھماکے، 19 افراد ہلاک28 May, 2005 | آس پاس پولیس کا شک جمیعتہ اسلامیہ پر 02 October, 2005 | آس پاس انڈونیشیا میں بم دھماکہ، کئی ہلاک31 December, 2005 | آس پاس انڈونیشیا: ابو بکر بشیر رہا ہو گئے14 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||