انڈونیشیا میں بم دھماکہ، کئی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے صوبے سلاویسی میں پالو کے مقام پر ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور چالیس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پالو میں عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ دھماکہ کافی طاقتور تھا اور انہوں نے لاشیں جائے وقوعہ پر بکھری ہوئی دیکھیں۔ سلاویسی صوبے میں مسیحی برادری پر حالیہ دنوں میں مسلم شدت پسندوں کی جانب سے حملے ہوئے ہیں جن میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں۔ تاہم ابھی کہنا مشکل ہے کہ آج کا بم دھماکہ مسلمانوں اور مسیحی برادری کے درمیان فرقہ واریت کا نتیجہ ہے۔ پولیس کے ترجمان رئیس آدم نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’آج صبح ایک بم دھماکہ ہوا لیکن مجھے ابھی تفصیلی اطلاع نہیں ملی ہے۔‘ پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا: ’میں اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ ڈاؤن ٹاؤن پالو کے مائسا علاقے میں ایک بم دھماکے کا واقعہ پیش آیا۔‘ ایک دوسرے پولیس والے نے بتایا کہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک عینی شاہد نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا: ’دھماکہ اتنا زور کا تھا میں کچھ سیکنڈوں کے لیے کچھ نہ سن سکا۔ میں گھر سے دوڑا ہوا باہر آیا اور لاشیں بکھری ہوئی دیکھیں۔‘ آبادی کے حساب سے انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک ہے لیکن سلاویسی کے مرکزی صوبے میں مسلمانوں اور مسیحی برادری کی آبادی لگ بھگ برابر برابر ہے۔ دونوں برادریوں کے درمیان تشدد کے خدشات کے پیش نظر حال ہی میں اس علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔ پوسو ضلع میں گزشتہ اکتوبر تین مسیحی طالبات کا نقاب پوش حملہ آوروں نے سرقلم کردیا تھا۔مئی میں ٹینٹینا نامی شہر میں جہاں مسیحیوں کی آبادی زیادہ ہے دو بم دھماکوں میں بیس افراد ہلاک ہوگئے۔ سلاویسی صوبے میں دوہزار اور دوہزار ایک میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں لگ بھگ ایک ہزار لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں بالی دھماکہ، عدالت کا فیصلہ 03 March, 2005 | آس پاس اینتھراکس:انڈونیشیا کاسفارتخانہ بند 01 June, 2005 | آس پاس پولیس کا شک جمیعتہ اسلامیہ پر 02 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||